پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنے مطالبات کی منظوری تک جاری رہیں گے، عنایت اللہ خان

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی عائد کرنا ظالمانہ اقدام ہے، حکومت اپنا بوجھ کم کرنے کی بجائے عوام پر مسلسل معاشی بوجھ ڈال رہی ہے، پریس کانفرنس

پیر 24 اگست 2026 20:00

سوات (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 اگست2026ء) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا شمالی عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن 4 ستمبر کو سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی ٹیکس کے نفاذ کے خلاف جلسے سے خطاب کریں گے، جبکہ جماعت اسلامی کے دھرنے حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے تک جاری رہیں گے۔

ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا شمالی عنایت اللہ خان نے مینگورہ سٹی ڈسٹرکٹ جماعت اسلامی کے دفتر میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر مینگورہ سٹی ڈسٹرکٹ محمد امین، جنرل سیکرٹری مفتی شیر محمد اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ اس سے قبل عنایت اللہ خان نے ضلعی شوری کے اجلاس میں بھی شرکت کی۔

(جاری ہے)

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عنایت اللہ خان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی عائد کرنا ظالمانہ اقدام ہے، حکومت اپنا بوجھ کم کرنے کے بجائے عوام پر مسلسل معاشی بوجھ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے چاروں صوبوں میں احتجاج جاری ہے اور امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کا واضح اعلان ہے کہ دھرنے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک حکومت مطالبات تسلیم کرتے ہوئے پیٹرولیم لیوی واپس نہیں لیتی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 225 روپے فی لیٹر تک نہیں لائی جاتیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نہ تھکے گی اور نہ جھکے گی بلکہ حکومت کو مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرے گی۔ یہ ایک طویل جدوجہد ہے جسے مطالبات کی منظوری تک جاری رکھا جائے گا۔عنایت اللہ خان نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف بھی جماعت اسلامی جدوجہد کر رہی ہے اور اس سلسلے میں پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن)کی صوبائی قیادت کو اپنا عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر امیر مقام کا تعلق ملاکنڈ ڈویژن سے ہے، پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری ہمایوں خان، مسلم لیگ (ن)کے صوبائی رہنما محمد علی شاہ اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر بھی ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے سوات موٹروے کے ٹول ٹیکس میں 20 فیصد اضافے کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں کے برعکس ٹول ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے، جسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔عنایت اللہ خان نے کہا کہ مہنگائی کے طوفان نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے اور حکومت کو عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ریلیف فراہم کرنا ہوگا۔