آپریشن سندور کے دوران پاک چین فوجی تعان پر بھارتی فوجی قیادت کے متضاد بیانات

جمعہ 28 اگست 2026 21:02

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 28 اگست2026ء) انڈین نیشنل کانگریس نے مئی 2025 کے پاک بھارت عسکری تصادم (آپریشن سندور)کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان فوجی و انٹیلی جنس تعاون کی حد پر بھارتی فوج کے اعلی حکام کے متضاد بیانات پر مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے مودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قومی اہمیت کے حامل معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرے، کیونکہ عسکری قیادت کے بیانات سے ملک میں کنفیوژن پھیل رہی ہے۔

جولائی 2025 میں ڈپٹی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ نے عوامی سطح پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان اور چین کا گٹھ جوڑ انتہائی گہرا تھا۔

(جاری ہے)

انہوں نے دعوی کیا تھا کہ چین نے جنگ کے دوران پاکستان کو بھارتی فوج کی نقل و حرکت کے بارے میں 'لائیو ڈیٹا' فراہم کیا تھا۔ رواں ماہ (اگست 2026 ) سابق سی ڈی ایس جنرل انیل چوہان نے ایک تقریب سے خطاب میں اس گٹھ جوڑ کی اہمیت کو کم دکھانے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ اس بحران کے دوران شمالی سرحدوں (چین کے ساتھ) کوئی غیر معمولی سرگرمی نہیں دیکھی گئی اور پاکستان کے لیے چین کی ریاستی مدد کی حد کا تعین کرنا مشکل ہے۔ کانگریس نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا مودی حکومت عسکری حکام کے ذریعے چین کے حوالے سے عوامی بیانیے کو دانستہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔کانگریس کا کہنا ہے کہ متضاد بیانات حکومت کی "چین کے سامنے منظم پسپائی کی پالیسی کا حصہ ہیں، تاکہ اسے کو خوش کیا جا سکے۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ عسکری حکام کے یہ انفرادی دعوے کارگل ریویو کمیٹی کی طرز پر کسی جامع اور باضابطہ سرکاری جائزے کا متبادل نہیں ہو سکتے، لہذا پارلیمنٹ میں اس پر بحث ہونی چاہیے۔