عدالتیں انہی غریب شہریوں کے ٹیکس سے چلتی ہیں، اس لیے غریب عوام کو انصاف کی فراہمی عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

پیر 7 ستمبر 2026 19:15

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 07 ستمبر2026ء) چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا ہے کہ جن لوگوں کے پاس دوا خریدنے کے پیسے نہیں، عدالتیں انہی غریب شہریوں کے ٹیکس سے چلتی ہیں، اس لیے غریب عوام کو انصاف کی فراہمی عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔پشاور ہائیکورٹ کے عدالتی سال 2026-27 کی افتتاحی تقریب کورٹ روم نمبر ایک میں منعقد ہوئی، جس میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ سمیت دیگر ججز، پشاور ہائیکورٹ بار، ایڈیشنل اٹارنی جنرل، خیبرپختونخوا بار کونسل اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شریک ہوئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ وکلا کی کار پارکنگ کا مسئلہ جلد حل کرلیا جائے گا، جبکہ لا ءیونیورسٹی کے قیام کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں اور امید ہے کہ رواں سال یونیورسٹی قائم ہوجائے گی۔

(جاری ہے)

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو محدود مالی وسائل کا سامنا ہے۔ان کے مطابق ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد نیا این ایف سی نہیں ہوا، اگر صوبے کو این ایف سی میں اپنا حصہ مل جائے تو کئی مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے پشاور ہائیکورٹ سے این ایف سی ایوارڈ سے متعلق درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی بھی درخواست کی۔ ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی میں صوبے کا حصہ ملنے سے متعدد مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے عدالتی سال کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے کہا کہ مردان میں گواہوں کے پیش ہونے کی شرح 96 فیصد رہی، جبکہ عدالتوں کو ڈیجیٹل نظام میں تبدیل کرنے کے ساتھ ڈیجیٹل ریکارڈ مینجمنٹ بھی متعارف کرایا گیا ہےانہوں نے بتایا کہ پشاور ہائیکورٹ کے ہیومین رائٹس سیل کو ایک ہزار 79 درخواستیں موصول ہوئیں، جبکہ پشاور، ایبٹ آباد، بنوں اور سوات میں 7 ڈبل ڈویژن عدالتیں قائم کی گئی ہیں چیف جسٹس کے مطابق عدالتوں کے لیے اے ڈی پی میں بجٹ مختص کرنے کی رقم 2 ارب روپے سے بڑھا کر 6 ارب روپے کردی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں عدالتوں کا ایک دن کا خرچہ تقریباً 12کروڑ روپے ہے،عدالتوں کے ایک دن کے بائیکاٹ سے عوام کے 12 کروڑ روپے ضائع ہوتے ہیں۔جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا کہ جن لوگوں کے پاس دوا خریدنے کے پیسے نہیں، ان کے ٹیکس سے عدالتیں چلتی ہیں، اس لیے یہ عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ غریب عوام کو بروقت اور موثر انصاف فراہم کیا جائے۔چیف جسٹس نے بتایا کہ گزشتہ عدالتی سال کے دوران 38 ہزار مقدمات نمٹائے گئے، جبکہ ہزاروں زیرالتوا کیسز کا بھی فیصلہ کیا گیا، جس سے عدالتی امور میں مزید پیش رفت ہوئی۔