Live Updates

طالبان دور: لوگوں کی مشکلات میں اضافہ لیکن دنیا لاتعلق، وولکر ترک

یو این جمعرات 10 ستمبر 2026 06:15

طالبان دور: لوگوں کی مشکلات میں اضافہ لیکن دنیا لاتعلق، وولکر ترک

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 10 ستمبر 2026ء) پانچ سال قبل افغانستان میں طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد افغان عوام کی مشکلات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ لاکھوں لوگ غربت کا شکار ہیں جبکہ حکام کی جانب سے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں بھی جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ آج افغانستان میں بہت سے لوگوں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا افغان عوام کو بھول چکی ہے اور انہیں ایسی مشکلات میں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہیں۔

Tweet URL

انہوں نے جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے افغانستان میں شہریوں بالخصوص خواتین پر ایسی پابندیوں کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے جو تعلیم، روزگار، نقل و حرکت کی آزادی اور ان کے عوامی زندگی میں شرکت کے مواقع کو بری طرح محدود کر رہی ہیں۔

(جاری ہے)

طالبان حکام کی جانب سے خواتین اور مردوں کو لباس سے متعلق سخت ضوابط، داڑھی کی مقررہ لمبائی اور موسیقی بجانے یا سننے جیسے الزامات کے تحت گرفتار کیا جا رہا ہے۔

طالبان کے سابق مخالفین کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اسی طرح، شیعہ اور اسماعیلی برادریوں سمیت مذہبی اقلیتوں پر پابندیوں اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کے واقعات بھی رپورٹ ہو رہے ہیں۔

میڈیا پر سنسرشپ، ذرائع ابلاغ کے اداروں کو بند کیے جانے اور صحافیوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق، رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران کم از کم 449 مردوں اور خواتین کو طالبان کی جانب سے جسمانی سزائیں دی گئیں۔

صنفی بنیاد پر پابندیاں

طالبان کے دور حکومت میں خواتین بالخصوص شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔

2021 سے اب تک 20 لاکھ سے زیادہ افغان لڑکیوں اور خواتین کو ثانوی اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہے۔

امسال طالبان حکام کی جانب سے جاری کیے گئے نئے احکامات نے خواتین کے لیے اپنے شوہروں سے علیحدگی اختیار کرنا مزید مشکل بنا دیا ہے جبکہ ان احکامات میں بالواسطہ طور پر کم عمری کی شادی اور خواتین و بچوں کے خلاف تشدد کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

ایک سال قبل طالبان رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی ملازمین اور ادارے کے لیے کسی نہ کسی حیثیت میں کام کرنے والی دیگر خواتین کو ملک بھر میں اقوام متحدہ کے دفاتر اور دیگر عمارتوں میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ صنفی بنیاد پر خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں کسی بھی معاشرے میں قابل قبول نہیں۔

افغان مہاجرین کی جبری واپسی

ایسے افغان شہری بھی سخت مشکلات کا شکار ہیں جو ماضی میں ملک سے فرار ہو کر ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے اور اب ان میں واپس بھیجا جا رہا ہے۔

افغان مہاجرین کے میزبان ممالک میں ان کے خلاف رویوں میں سختی بڑھ رہی ہے اور ان کی جبری واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے مطابق، رواں سال چار لاکھ سے زیادہ افغان شہریوں کو جبراً واپس بھیجا جا چکا ہے۔ ان میں بیشتر ایران اور پاکستان سے آئے جبکہ ترکیہ، تاجکستان اور یورپی یونین کے بعض ممالک سے بھی افغان شہریوں کی جبری واپسی ہوئی ہے۔

وولکر ترک نے کہا ہے کہ بہت سے افغانوں کو ایسے ملک میں داخل ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے جہاں انہوں نے کبھی قدم تک نہیں رکھا اور جہاں انہیں شدید غربت، خوراک اور صاف پانی کی کمی، صحت کی سہولیات تک ناکافی رسائی، تعلیم اور روزگار کے محدود مواقع کا سامنا ہو گا۔ دو کروڑ 19 لاکھ افراد یا افغانستان کی تقریباً 45 فیصد آبادی انسانی امداد کی محتاج ہے جبکہ بیرونی امداد کا تقریباً خاتمہ ہونے والا ہے۔

ہائی کمشنر نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مشکلات سے دوچار افغان عوام کی زندگی کو تحفظ دینے اور ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دیں۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات