دنیا بھر میں تعلیمی اداروں پر حملوں میں ریکارڈ اضافہ، رپورٹ
یو این
جمعرات 10 ستمبر 2026
06:15
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 10 ستمبر 2026ء) اگرچہ شمالی نصف کرے میں ستمبر کو عموماً نئے تعلیمی سال کے آغاز کا مہینہ سمجھا جاتا ہے لیکن کئی خطوں میں تعلیمی اداروں اور تعلیم پر حملوں کے باعث 9 کروڑ 30 لاکھ بچے سکول نہیں جا رہے۔
عالمی تعلیمی فنڈ 'ایجوکیشن کین ناٹ ویٹ' (ای سی ڈبلیو) کے مطابق، بدامنی اور دیگر عوامل کے باعث 87 ممالک میں مجموعی طور پر 25 کروڑ 80 لاکھ بچے شدید تعلیمی خلل کا شکار ہیں۔
تعلیم کو حملوں سے تحفظ دینے کے عالمی دن پر 'ای سی ڈبلیو' نے کئی خطوں کی صورتحال کو بڑھتے تنازعات اور عالمی اصولوں کے بتدریج کمزور ہونے کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ بحران زدہ علاقوں میں تعلیم کے لیے کام کرنے والے اس ادارے کی ڈائریکٹر میسا جیلبوٹ نے کہا ہے کہ جب کسی بچے کو برسوں تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے تو اس کے نتائج گہرے ہوتے ہیں۔
(جاری ہے)
تعلیم پر 9,259 حملے
'ای سی ڈبلیو' کی شراکت سے تیار کردہ رپورٹ کے مطابق، 2024 اور 2025 میں تعلیم پر حملے اور سکولوں کو مسلح تنازعات میں استعمال کیے جانے کے واقعات ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گئے۔
طلبہ اور تعلیمی عملے کے ہلاک، زخمی، اغوا یا کسی اور طرح متاثر ہونے کے واقعات بھی اس سے پہلے کبھی اتنی بڑی تعداد میں سامنے نہیں آئے۔28 ممالک میں تعلیم کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا جبکہ سکولوں اور یونیورسٹیوں کو عسکری مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔
مجموعی طور پر تعلیم پر کم از کم 9,259 حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں 3,600 سے زیادہ حملے سکولوں پر ہوئے۔
یہ تعداد 2022 اور 2023 کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔مسلح تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں 10,600 سے زیادہ طلبہ اور اساتذہ ہلاک، زخمی یا اغوا ہوئے جبکہ سکولوں کے عسکری استعمال کے واقعات بھی دو گنا بڑھ گئے۔
جنگی قوانین کی خلاف ورزی
اقوام متحدہ
کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کریں اور تعلیمی اداروں کو حملوں سے محفوظ رکھیں۔ادارے کے مطابق، دنیا بھر میں سکول جانے سے محروم اور بحرانوں سے متاثرہ بچوں میں تقریباً 80 فیصد یا 7 کروڑ 40 لاکھ کا تعلق صرف 20 ممالک سے ہے۔
ان ممالک میں بھی سب سے زیادہ کمزور بچے تعلیم کے حصول میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ 74 فیصد مہاجر بچے، 52 فیصد اندرون ملک بے گھر اور 45 فیصد معذور بچے سکول نہیں جا سکتے۔
حکومتی افواج کا بڑھتا تشدد
اقوام متحدہ
کے مطابق، 2025 میں 24,174 بچے مسلح تنازعات سے متاثر ہوئے جبکہ بچوں کے حقوق کی خلاف سنگین پامالی کے 38,558 واقعات کی تصدیق ہوئی۔بچوں کا قتل اور انہیں زخمی کیا جانا ان کے حقوق کی سب سے عام خلاف ورزیوں میں شامل رہا جس سے 14,224 بچے متاثر ہوئے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق سالانہ رپورٹ کے مطابق، بچوں کو مسلح تنازعات میں بھرتی اور استعمال بھی کیا گیا، انہیں اغوا کیا گیا اور انسانی امداد سے بھی محروم رکھا گیا۔
ایسے سب سے زیادہ واقعات اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقے میں ریکارڈ کیے گئے جس کے بعد جمہوریہ کانگو، نائجیریا، میانمار اور صومالیہ کا نمبر آتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پہلی مرتبہ بچوں کے حقوق کی بیشتر سنگین پامالیاں حکومتی فورسز کے ہاتھوں ہوئیں۔'ای سی ڈبلیو' کی مہم بعنوان 'امید یہاں سے شروع ہوتی ہے' کے تحت دنیا کے مشکل ترین حالات سے دوچار ایک کروڑ بچوں کو محفوظ اور معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کے لیے 60 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
مزید اہم خبریں
-
ٹرمپ: ایران جنگ مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ختم ہونے کی توقع، جوہری تنصیبات پر حملے کے امکانات برقرار
-
عمران خان سے اعلیٰ ترین سطح پربات چیت ہورہی ہے، اسی سال جیل سے باہر آ جائیں گے، بریگیڈیئر (ر) اسلم گھمن
-
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیرِ صدارت صحت کارڈ پلس پروگرام سے متعلق اہم اجلاس
-
پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کے تقاضوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گا، ترجمان دفتر خارجہ
-
پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا حامی ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری معاشی منظرنامے کو نئی شکل دے رہی ہے، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان
-
پٹواریوں نے عوام پر ایک اور مہلک پیٹرول بم پھینک دیا، مونس الٰہی کی حکومت پر شدید تنقید
-
فون کو الٹا رکھنا بہتر یا سیدھا ماہرین نے اہم وجوہات بتادیں
-
مالک مکان نے کرایہ دار کی دو بیویوں کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
-
نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی ترک وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال بارے تبادلہ خیال
-
عوام کی جیبوں پر ڈاکہ؛ صرف 3 دنوں میں پیٹرول 21 روپے 88 پیسے فی لیٹر مہنگا
-
احسن اقبال کی زیر صدارت اڑان پاکستان کے قومی اقتصادی مشن، ٹیکس اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق اجلاس
-
سعودی شہروں پر حوثی باغیوں کے حملے کے بعد پاکستان کی ایران کو سخت وارننگ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.