دنیا بھر میں ریکارڈ تعداد میں تعلیمی اداروں پر حملے، 9 کروڑ 30 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر

جمعرات 10 ستمبر 2026 09:44

اقوام متحدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 ستمبر2026ء) دنیا بھر میں تعلیم پر بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث 9 کروڑ 30 لاکھ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں جبکہ 87 ممالک میں مجموعی طور پر 25 کروڑ 80 لاکھ بچوں کی تعلیم شدید متاثر ہو رہی ہے۔عالمی ادارہ ’’ایجوکیشن کین ناٹ ویٹ‘‘ کے مطابق 2024 اور 2025 کے دوران تعلیم پر حملوں اور مسلح تنازعات کے لیے اسکولوں کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔

طلبہ اور اساتذہ کے ہلاک، زخمی، اغوا یا دیگر صورتوں میں متاثر ہونے کی تعداد بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ادارے کی رپورٹ کے مطابق 28 ممالک میں تعلیم کو براہ راست حملوں کا نشانہ بنایا گیا یا اسکولوں اور جامعات کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ مجموعی طور پر تعلیم کے خلاف کم از کم9,259 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں 3,600 سے زائد حملے اسکولوں پر ہوئے۔

(جاری ہے)

یہ تعداد 2022-23 کے مقابلے میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔رپورٹ کے مطابق10,600 سے زائد طلبہ اور اساتذہ ہلاک، زخمی یا اغواہوئے جبکہ فوجی مقاصد کے لیے اسکولوں کے استعمال کے واقعات تقریباً دوگنا ہو گئے۔’’ایجوکیشن کین ناٹ ویٹ‘‘ کی ڈائریکٹر مائسہ جلبوط نے کہا کہ کسی بچے کو برسوں تک تعلیم سے محروم رکھنے کے نتائج فوری اور گہرے ہوتے ہیں، اس سے خواندگی متاثر، معمولات زندگی ختم اور بچوں کا مستقبل اساتذہ کے بجائے بھرتی کرنے والوں یا انسانی اسمگلروں کے ہاتھ میں جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یونیسکو نے کہا کہ تنازعات میں شامل تمام فریقوں پر بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور تعلیم کو حملوں سے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ادارے کے مطابق اسکولوں سے باہر اور بحرانوں سے متاثرہ بچوں میں سے تقریباً 80 فیصد، یعنی 7 کروڑ 40 لاکھ بچے، صرف 20 ممالک میں رہتے ہیں۔ ان علاقوں میں پناہ گزین بچوں کے 74 فیصد، اندرون ملک بے گھر بچوں کے 52 فیصد اور معذور بچوں کے 45 فیصد اسکول سے باہر ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں مسلح تنازعات سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد24,174 رہی جبکہ بچوں کے خلاف مجموعی طور پر38,558 سنگین خلاف ورزیاں تصدیق شدہ ہوئیں۔ ان میں بچوں کا قتل اور زخمی ہونا سب سے زیادہ عام خلاف ورزیوں میں شامل تھا، جس سے 14,224 بچے متاثر ہوئے۔اقوام متحدہ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق بچوں کو مسلح تنازعات میں بھرتی اور استعمال کرنے، اغوا کرنے اور انسانی امداد سے محروم رکھنے کے واقعات بھی سامنے آئے۔

لڑائی میں شہری آبادیوں کے زیادہ متاثر ہونے کے باعث بچے فضائی حملوں، توپ خانے اور دھماکہ خیز ڈرونز کے خطرات سے دوچار ہوئے جبکہ گھروں، اسکولوں، ہسپتالوں اور دیگر شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا یا تباہ کیا گیا۔سب سے زیادہ سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقےمیں ہوئی، جس کے بعد جمہوریہ کانگو، نائیجیریا، میانمار اور صومالیہ کا نمبر آتا ہے۔

پہلی مرتبہ سرکاری افواج کو تصدیق شدہ سنگین خلاف ورزیوں کی اکثریت کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں کا کہنا ہے کہ بحران کے دوران تعلیم بچوں کو تحفظ، استحکام اور معمول کی زندگی کا احساس فراہم کرنے کے ساتھ انہیں مستقبل میں اپنی برادریوں کی تعمیر نو کے لیے ضروری مہارتیں بھی دیتی ہے۔’’ایجوکیشن کین ناٹ ویٹ‘‘ کی ’’ہوپ اسٹارٹس ہئیر‘‘ مہم کا مقصد دنیا کے مشکل ترین حالات سے دوچار ایک کروڑ بچوں کو محفوظ اور معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے 60 کروڑ ڈالرجمع کرنا ہے۔