سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل آئین اور جمہوری اقدار کے منافی ہے، محمد پناہ پنہیار

جمعرات 10 ستمبر 2026 12:31

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 ستمبر2026ء) میری پہچان پاکستان (ایم پی پی) کی سندھ آرگنائزنگ کمیٹی اور مرکزی کمیٹی کے رکن محمد پناہ پنہیار نے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026 کو عوام دشمن اور اقربا پروری کے نظام کے تحفظ کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بل کا مقصد اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا نہیں بلکہ مقامی حکومتوں کی خودمختاری محدود کرنا ہے۔

محمد پناہ پنہیار نے کہا کہ سندھ حکومت کو آئین کے آرٹیکل 140۔اے کے تحت اختیارات حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقل کرنے، بااختیار بلدیاتی ادارے قائم کرنے اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے، تاہم اس کے برعکس ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن سے مقامی حکومتوں کا کردار مزید محدود ہونے کا خدشہ ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 2027 کے بلدیاتی انتخابات سے قبل اس نوعیت کی قانون سازی پری پول رگنگ کی کوشش محسوس ہوتی ہے، اس لیے بلدیاتی انتخابات کے عمل میں شفافیت، غیر جانب داری اور عوامی اعتماد کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

ایم پی پی رہنما کے مطابق کراچی، حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص، لاڑکانہ اور اندرون سندھ کے دیگر علاقوں میں پانی، صفائی، ٹرانسپورٹ، صحت اور تعلیم سمیت بنیادی سہولیات کے مسائل سنگین ہیں، مگر حکمران عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے اختیارات کے ارتکاز میں مصروف ہیں۔محمد پناہ پنہیار نے کہا کہ سندھ کی بڑھتی ہوئی آبادی، وسیع رقبے اور انتظامی ضروریات کے پیش نظر نئے انتظامی یونٹس اور بااختیار بلدیاتی نظام وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔

عوامی نمائندگی محدود کرنے کے بجائے مقامی حکومتوں کو مالی اور انتظامی خودمختاری دی جائے تاکہ شہریوں کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ اختیارات چند ہاتھوں میں رکھنے کی پالیسی نے سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کو یکساں نقصان پہنچایا ہے، اس لیے آرٹیکل 140۔اے پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد ہی عوامی مسائل کا مستقل حل ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی اداروں کو سیاسی مداخلت سے پاک اور عوام کے سامنے جوابدہ بنایا جائے، جبکہ سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل پر تمام سیاسی جماعتوں، بلدیاتی نمائندوں، ماہرین قانون اور سول سوسائٹی سے مشاورت کی جائے۔محمد پناہ پنہیار نے کہا کہ سندھ میں آبادی، رقبے اور انتظامی ضروریات کے مطابق نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام پر قومی سطح پر سنجیدہ مکالمہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی قانون سازی سے گریز کیا جانا چاہیے جو عوام کے جمہوری حقوق، مقامی خودمختاری یا انتخابی عمل پر اثرانداز ہو۔ایم پی پی رہنما نے کہا کہ میری پہچان پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ ’’پہلے ریاست، بعد میں سیاست‘‘، ملک میں اچھی حکمرانی، بااختیار بلدیاتی نظام، انتظامی اصلاحات اور عوامی فلاح ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔