میئر کراچی اور چیئرمینز کی مدت میں توسیع کیخلاف جماعت اسلامی کی سندھ ہائیکورٹ میں درخواست

بلدیاتی عہدوں کی مدت مکمل ہونے پر بروقت انتخابات کرائے جائیں، لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کی شق 3 کالعدم قرار دینے کی استدعا پیپلز پارٹی اختیارات اور وسائل پر قابض ہے اور بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کے لیے تیار نہیں، پیپلز پارٹی نے ایک مرتبہ پھر قبل از انتخابات دھاندلی اور پری پول رگنگ کا آغاز کردیا ہے،منعم ظفرخا ن

جمعرات 17 ستمبر 2026 21:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 ستمبر2026ء) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے میئر کراچی اور چیئرمینز کے عہدوں کی مدت میں توسیع اور انہیں ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔جماعت اسلامی کی جانب سے دائر درخواست میں سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کی شق 3 کو کالعدم قرار دینے، حتمی فیصلے تک میئر اور چیئرمینز کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کی شق معطل کرنے اور مقررہ مدت کے اندر بلدیاتی انتخابات کرانے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں سندھ حکومت، میئر کراچی اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ اسمبلی نے موجودہ بلدیاتی نمائندوں کو نئے انتخابات ہونے تک کام جاری رکھنے کی اجازت دی ہے، تاہم مدت مکمل ہونے کے بعد بروقت انتخابات کرائے جانے چاہئیں۔

(جاری ہے)

سندھ حکومت کو پابند کیا جائے کہ بلدیاتی عہدوں کی مدت ختم ہونے پر الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر انتخابات کی تیاری کرے اور انتخابی عمل شفاف بنایا جائے۔

درخواست دائر کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم اور سندھ لوکل گورنمنٹ بل 2026 کے خلاف ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے، پیپلز پارٹی نے ایک مرتبہ پھر قبل از انتخابات دھاندلی اور پری پول رگنگ کا آغاز کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ بل 2026 کے ذریعے اختیارات دینے کا تاثر دیا جارہا ہے، تاہم عملی طور پر اختیارات صوبائی حکومت کے پاس ہی رہیں گے۔

پیپلز پارٹی اختیارات اور وسائل پر قابض ہے اور بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کے لیے تیار نہیں۔منعم ظفر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 140 اے کے تحت بلدیاتی اداروں کو انتظامی، سیاسی اور مالی اختیارات ملنے چاہئیں۔ سندھ حکومت اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کو تیار نہیں، پیپلز پارٹی کی جمہوریت صرف جمہوریت کا نعرہ لگانے تک محدود ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ بل 2026 کو مسترد کرتے ہیں، کراچی کے وہ ادارے جو کے ایم سی کے ماتحت تھے، صوبائی حکومت نے ایک ایک کرکے اپنے قبضے میں لے لیے۔ سینیٹیشن کا اختیار کے ایم سی سے لے کر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے حوالے کردیا گیا، کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بنا کر بلدیاتی اختیار ختم کردیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب یونین کمیٹی چیئرمین کے پاس صرف غیر قانونی تعمیرات اور کچرے کی نشاندہی کا اختیار رہ گیا ہے، کراچی ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی بنا کر اختیارات صوبائی حکومت کو منتقل کردیے گئے۔منعم ظفر نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی گزشتہ 17، 18 برس سے صوبائی فنانس کمیشن تشکیل دینے کو تیار نہیں، شہروں اور ڈویڑنز کو وسائل منتقل نہیں کیے جارہے۔

ان کے مطابق بلدیات کا بجٹ اٹھارویں ترمیم سے قبل 16 فیصد تھا جو اب کم ہوکر 5.2 فیصد رہ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ منصوبہ یہ ہے کہ سیاسی ایڈمنسٹریٹرز مقرر کرکے بلدیاتی اداروں پر صوبائی حکومت کا قبضہ برقرار رکھا جائے۔ بلدیاتی حکومت کی مدت مکمل ہونے کے بعد نئے انتخابات کی کوئی واضح تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔ میئر اور چیئرمینز کو ایڈمنسٹریٹر بنا کر مسلط کرنے کا منصوبہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ ہم نے سندھ حکومت کے خلاف پٹیشن دائر کردی ہے اور ہر محاذ پر پیپلز پارٹی کے اس طرز عمل کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ اختیارات اور وسائل پر قبضے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔انہوں نے کراچی کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے عوام کو پانی، بجلی، انفرااسٹرکچر، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں۔

ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ 6 سال سے مکمل نہیں ہوسکا، تکمیل کے لیے تاریخ پر تاریخ دی جارہی ہے۔ 31 اگست کے بعد 15 ستمبر کی تاریخ دی گئی لیکن 15 ستمبر بھی گزر گیا اور منصوبہ مکمل نہیں ہوا۔منعم ظفر نے کہا کہ ریڈ لائن منصوبے کے باعث یونیورسٹی روڈ تباہ ہوگیا اور لاکھوں شہری متاثر ہورہے ہیں۔ کراچی کے بلدیاتی اختیارات اور وسائل پر صوبائی حکومت کا قبضہ قبول نہیں کریں گے۔ صوبائی فنانس کمیشن کے ذریعے وسائل کی تقسیم اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی بدعنوانی، انتظامی بدانتظامی اور اختیارات پر قبضے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے، کراچی کے شہریوں کو بنیادی سہولیات اور ان کا حق دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔