وانا: ضم اضلاع میں تین سالہ بدامنی سے زندگی اجیرن، تعلیم، صحت، زراعت اور آمدورفت شدید متاثر

اتوار 27 ستمبر 2026 17:20

وانا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 ستمبر2026ء) خیبر پختونخوا کے پاک افغان سرحد سے متصل ضم اضلاع گزشتہ کئی برسوں سے بدامنی اور سکیورٹی بحران کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، مسلسل کشیدہ حالات، سکیورٹی پابندیوں، راستوں کی بندش اور مختلف علاقوں میں خوف کی فضا نے عوامی زندگی کے معمولات کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ان علاقوں میں تعلیم کا شعبہ خصوصی طور پر متاثر ہوا ہے۔

متعدد علاقوں میں سکیورٹی حالات کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بار بار معطل ہونے، طلبہ و اساتذہ کو آمدورفت میں مشکلات اور اسکولوں کی بندش کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ عالمی ادارہ یونیسیف کے مطابق 2026کے آغاز سے خیبر پختونخوا میں اسکولوں پر متعدد حملوں کے باعث ایک ہزار سے زائد طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی، جبکہ شمالی وزیرستان میں جنوری 2026 کے ایک ڈرون حملے میں دو اساتذہ اور ایک اسکول پرنسپل زخمی ہوئے۔

(جاری ہے)

یونیسیف کے مطابق خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر تقریباً 45لاکھ بچے، یعنی 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریبا ایک تہائی بچے، اسکول سے باہر ہیں، جبکہ ضم اضلاع میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے صورتحال مزید تشویشناک بتائی گئی ہے۔ ورلڈ بینک سے منسلک ایک مطالعے کے مطابق ضم اضلاع میں تقریبا 70 فیصد لڑکیاں اسکول نہیں جاتیں۔صحت کا شعبہ بھی مسلسل دبائو میں ہے۔

حکومت اور عالمی اداروں کی جانب سے ضم اضلاع میں بنیادی صحت کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے منصوبے شروع کیے گئے، تاہم دور دراز علاقوں میں طبی عملے، سہولیات اور رسائی کے مسائل اب بھی نمایاں ہیں۔ ورلڈ بینک نے 2023 میں ضم اضلاع سمیت خیبر پختونخوا میں بچوں کی صحت اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے 46 ملین ڈالر کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔زراعت اور دیہی معیشت بھی ان حالات سے محفوظ نہیں رہی۔

ضم اضلاع کی معیشت میں زراعت، مویشی پالنے اور جنگلات کا اہم کردار ہے۔ FAOکے مطابق ان علاقوں میں زرعی پیداوار، مویشیوں اور روزگار کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے منصوبے جاری رہے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دیہی آبادی کے معاشی مسائل اور بنیادی سہولیات کے خلا کو اب بھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔دوسری جانب سکیورٹی خدشات کے باعث مختلف اوقات میں راستوں، بازاروں اور آمدورفت پر پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں، جس سے طلبہ، مریضوں، مزدوروں، تاجروں اور عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ستمبر 2026میں لوئر جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں طلبہ اور اساتذہ نے روزانہ کرفیو کے باعث تعلیمی سرگرمیوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ ضلعی انتظامیہ کا موقف تھا کہ پابندیاں شہریوں کو ممکنہ ناخوشگوار واقعات سے محفوظ رکھنے کے لیے عائد کی جاتی ہیں۔امن و امان کی صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ستمبر 2026 میں وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے 26 اضلاع کو دہشت گردی سے متاثرہ قرار دے کر وہاں تعینات بعض وفاقی افسران کے لیے خصوصی سکیورٹی رسک الانس منظور کیا۔

ان اضلاع میں شمالی وزیرستان، لوئر اور اپر جنوبی وزیرستان سمیت متعدد ضم اضلاع شامل ہیں۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں 2024 کے دوران دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں اور واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ 2025 میں بھی سابق فاٹا کے علاقوں میں عسکریت پسند سرگرمیوں کے انسانی اثرات مزید سنگین ہونے کی رپورٹس سامنے آئیں۔مقامی عوام کا کہنا ہے کہ مسلسل خوف، فائرنگ، ڈرونز اور دیگر سکیورٹی واقعات کے خدشات نے بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت پوری آبادی کو ذہنی دبائو میں مبتلا کر رکھا ہے۔

ان کا مطالبہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے ساتھ ساتھ شہریوں کی روزمرہ زندگی، تعلیم، صحت، کاروبار، زراعت اور آمدورفت کو بھی محفوظ اور بحال رکھنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔عوامی حلقوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ضم اضلاع کو صرف سکیورٹی کے تناظر میں نہ دیکھا جائے بلکہ یہاں تعلیم، صحت، روزگار، سڑکوں، زراعت اور شہری سہولیات کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جامع پالیسی اختیار کی جائے، کیونکہ امن کا حقیقی ثمر عام شہری کی معمول کی زندگی بحال ہونے سے ہی ممکن ہے۔