کیا بلوچستان میں بھی گورنرراج لگایا جائے گا؟ اعظم نذیر تارڑ سے سوال

بلوچستان حکومت، حُکومتی مشینری آرگنائز کرکے وفاق پر چڑھائی نہیں کر رہی، اگر بلوچستان حکومت سیکیورٹی فورسز کو سپورٹ دینا بند کر دے اور وفاق پر چڑھائی کا پلان بنائے گی تو یہی صورتحال ہوگی، وفاقی وزیرقانون کا جواب

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 30 ستمبر 2026 19:10

کیا بلوچستان میں بھی گورنرراج لگایا جائے گا؟ اعظم نذیر تارڑ سے سوال
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 30 ستمبر 2026ء ) وزیر قانون و انصاف اعظم نزیر تارڑ کا کہنا ہے کہ اگر بلوچستان حکومت وفاق پر چڑھائی کا پلان بنائے گی تو یہی صورتحال ہوگی۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں ایک سوال ’بلوچستان میں بھی گورنر راج لگایا جائے گا؟ ‘ کے جواب میں کہا کہ بلوچستان حکومت، حکومتی مشینری آرگنائز کر کے وفاق پر چڑھائی نہیں کر رہی۔

اگر بلوچستان حکومت تعاون کرنے سے انکار کرے گی،سیکیورٹی فورسز کو سپورٹ دینا بند کر دے اور وفاق پر چڑھائی کا پلان بنائے گی تو یہ ہی صورتحال ہوگی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کی حلیف جماعت ہے اور اسے اعتماد میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آج کے اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔

(جاری ہے)

وزیر قانون نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی سے متعلق ان کا مؤقف وہی ہے جو پہلے تھا۔ ان کے مطابق اس معاملے پر حتمی فیصلہ صدر مملکت اور وزیراعظم کریں گے، جبکہ اس کے لیے تمام آئینی اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔اعظم نذیر تارڑ نے بانی پی ٹی آئی سمیت کسی بھی شخص کی رہائی کے معاملے پر کہا کہ رہائی کا حکم حکومت نے نہیں بلکہ عدالت نے دینا ہے۔

رہائی کی اپیلوں پر فریقین عدالت کے سامنے اپنا اپنا مؤقف پیش کریں گے۔انہوں نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات میں فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت وفاق کے خلاف عدم تعاون یا چڑھائی نہیں کر رہی۔ اگر بلوچستان حکومت بھی خیبر پختونخوا کی طرح وفاق کے ساتھ عدم تعاون کرے گی تو پھر اسی نوعیت کا فیصلہ وہاں بھی لاگو ہوسکتا ہے۔موجودہ صورتحال کے تناظر میں یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکان پر حکومتی حلقوں میں مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔