امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں پہلی بار افطار ڈنر،مسلم تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کا بائیکاٹ

دنیا بھرکے مسلمانوں کو رمضان مبارک،آج ہم دنیا کے عظیم ترین مذاہب کی ایک مقدس روایت کا اہتمام کر رہے ہیں،امریکی صدر

جمعرات جون 23:31

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات جون ء)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ روز مسلمانوں کے لیے وائٹ ہاؤس میں افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا،اس موقع پر امریکی صدر اور سعودی سفیر شہزادہ خالد بن سلمان ایک ساتھ ٹیبل پر موجود تھے۔تقریب میں متحدہ عرب امارات، اردن، مصر، تیونس، عراق، قطر، بحرین، مراکش، الجزائر اور لیبیا کے سفیروں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افطار عشائیے میں امریکی وزراء اور اعلیٰ حکام بھی شامل تھے۔اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کو ماہ مقدس رمضان کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ آپ سب حاضرین اور دنیا بھرکے مسلمانوں کو رمضان مبارک!،اس تقریب میں ہم سب دنیا کے عظیم ترین مذاہب کی ایک مقدس روایت کا اہتمام کر رہے ہیں،مسلمان پورے دن پر محیط روزے کے اختتام پر افطار کرتے ہیں جو ماہ مبارک رمضان کے دوران روحانیت کی عکاسی کرتا ہے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب تاہم صدر ٹرمپ کے اس افطار عشائیہ کا مسلمانوں کی تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے بائیکاٹ کیا اور وائٹ ہاوس کے سامنے مسلم مخالف پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے سڑک پر ہی افطار کیا۔ترجمان کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی مسلمان مخالف پالیسیوں کیوجہ سے کوئی مسلمان تنظیم افطار ڈنر میں شرکت کرنا نہیں چاہے گی،اختلافات حل کرنے کے لیے ایک میز پر بیٹھنا اچھا ہوتا ہے لیکن اب ایسا مشکل ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی صدارت کے ڈیڑھ سال میں پہلی بار افطار ڈنر کروایا۔امریکا کے سابقہ صدور رمضان المبارک میں افطار ڈنر کا اہتمام کراتے رہے ہیں اور یہ تقریب وائٹ ہاؤس کے کلینڈر میں شامل رہی ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بنتے ہی اس روایت کو گزشتہ سال توڑ دیا تھا،جس پر وائٹ ہاؤس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔گزشتہ ماہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو رمضان کی مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی پیغام میں کہا گیا کہ رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کس طرح مسلمان امریکا میں مذہبی ہم آہنگی بڑھا رہے ہیں۔تاہم اس پیغام کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو رمضان کی مبارکباد کا یہ پیغام وائٹ ہاؤس کے بجائے اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کرنا چاہیے تھا۔

Your Thoughts and Comments