Kon Si Ghazain Cancer Se Bachayen - Article No. 2302

کون سی غذائیں ․․․ کینسر سے بچائیں - تحریر نمبر 2302

جمعہ 19 نومبر 2021

Kon Si Ghazain Cancer Se Bachayen - Article No. 2302
تحریم نیازی
کسی بھی بیماری میں جہاں ادویہ کا عمل دخل بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے وہیں صحیح خوراک کا استعمال اس سے بھی کہیں زیادہ اہم ہوتا ہے۔ہر بیماری میں خوراک کی ضرورت مختلف ہوتی ہے اور بعض اوقات صحیح خوراک استعمال نہ کرنے سے پیچیدگیوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اسی لئے ترقی یافتہ ممالک میں معالج مریض کو صرف ادویات تجویز کرکے ماہر غذائیات کے پاس بھجوا دیتے ہیں۔

جو ان کے مرض کے مطابق صحیح غذا کا انتخاب تجویز کرتے ہیں۔آج میں کینسر جیسے موذی مرض کے حوالے سے سود مند اور نقصان دہ غذاؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گی۔ایک امریکی تحقیق کے مطابق 30 فیصد کینسر غیر ضروری یا غلط خوراک کے استعمال کی بدولت ہوتے ہیں۔اس لئے دوسری بیماریوں سے قطع نظر ہمیں کینسر سے بچاؤ کے لئے صحیح خوراک کے انتخاب کو مدنظر رکھنا ہو گا۔

(جاری ہے)


کینسر کا باعث بننے والی غذائیں
زیادہ چکنائی اور پروسیسنگ والی غذائیں کینسر کا باعث بنتی ہیں،اس لئے کینسر کے مریضوں کو چکنائی والے کھانوں سے حد درجہ احتیاط برتنی چاہئے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اناج یا اس سے جڑی اشیاء کو اصل حالت میں استعمال کیا جانا چاہئے۔باربی کیو بالخصوص سموک فوڈز (دھوئیں سے گزر کر بنی اشیاء) کینسر کے مریضوں کے لئے زہر قاتل ہیں کیونکہ ان میں ”پولی ایرومیٹک ہائیڈروکاربن“ ہوتا ہے جو کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔

جانوروں سے حاصل کردہ چربی والی اشیاء یعنی بکرے اور گائے،بھینس کا گوشت کینسر کے لئے مضر ہے۔کینسر کے مریضوں کو خوراک میں 30 فیصد سے زیادہ چکنائی ہر گز نہیں لینا چاہئے۔اچار میں موجود نمک معدے کے کینسر کے لئے خطرناک ہوتا ہے۔یہ معدے کی دیوار کو زخمی کر دیتا ہے جس سے کینسر تیزی سے پھیلتا ہے۔
کینسر کے مریضوں کو وٹامن اے والی اشیاء زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے احتیاط برتنی چاہئے،بلکہ وٹامن اے کا استعمال اپنے معالج یا ماہر غذائیات کے مشورے سے کرنا چاہئے۔

موٹے لوگوں میں کینسر کے خطرات دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں میں بڑی آنت اور جلد کا کینسر،عورتوں میں چھاتی اور بچہ دانی کے کینسر کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔کیموتھراپی والے مریضوں کو کھانا وقفے وقفے سے اور تھوڑا تھوڑا کھانا چاہئے۔ایک دم کھانے سے ان کو متلی ہونا شروع ہو سکتی ہے۔
منہ کے کینسر والے مریضوں کو خاص طور پر جن کے منہ میں چھالے ہوں،نمک اور تیزابیت پیدا کرنے والے کھانوں سے پرہیز کرنا چاہئے ۔

ایسے مریضوں کو پھیکے کھانوں نرم اور جلد نکل جانے والی غذاؤں کو فوقیت دی جانی چاہئے۔کیموتھراپی کی وجہ سے اگر پیٹ خراب ہو جائے تو چکنائی والی اشیاء،پھل اور گندم سے بنی اشیاء سے پرہیز کرنا چاہئے۔
کینسر کی سود مند غذائیں
خشک میوہ جات،سمندری غذائیں،گندم،جو اور براؤن چاول میں چونکہ سلینیم موجود ہوتا ہے جو کینسر سے لڑنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں اس لئے ان غذاؤں کا استعمال کینسر سے بچاؤ میں موٴثر کردا ادا کرتا ہے۔

ٹماٹر میں چونکہ Lycopene پایا جاتا ہے جو پراسٹیٹ کینسر کا دفاع کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتا ہے۔کم چربی والا گوشت،چکنائی سے پاک دودھ،انڈے،سویا اور ٹوفو کینسر کو کم کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔پیاز اور لہسن میں چونکہ سلفر ہوتا ہے جو قوت مدافعت بڑھانے کے کام آتا ہے،اس لئے کینسر کے مریضوں کو ان سے استفادہ کرنا چاہئے۔اس کے ساتھ ساتھ لہسن اور پیاز کینسر کے ٹیومر بڑھنے سے روکتے ہیں۔

جدید تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے ورزش کرنے والوں میں دوسرے لوگوں کی نسبت کینسر کے امکانات کم ہوتے ہیں۔پھلوں اور سبزیوں میں ایسے عنصر ہوتے ہیں جو کینسر سے لڑنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔اس لئے ان کے استعمال کو عام حالات میں بھی معمول بنا لینا چاہئے۔اس کے ساتھ ساتھ بے وقت کھانوں کی حوصلہ شکنی اور بروقت کھانوں کو رواج دینا بہت ساری بیماریوں اور بہتر صحت کے ضامن ہوتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2021-11-19

Your Thoughts and Comments