Ap SAW K Chalne Ka Andaz - Fawaid Or Jadeed Science

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چلنے کا انداز، فوائد اور جدید سائنس

Noor Hussain Afzal نور حسین افضل منگل جون

Ap SAW K Chalne Ka Andaz - Fawaid Or Jadeed Science
چلنا (Walk) بھی ایک آرٹ ہے۔ جس سے بہت سے لوگ ناواقف ہوتے ہیں۔ چلنے میں اگر عاجزی، انکساری اور متانت نظر آئے تو بلاشبہ خوش آئند ہے۔ اور اگر چلنا سنت نبوی کے عین مطابق ہو تو اس پر اجر و ثواب کا وعدہ اور کئی بیماریوں سے شفاء بھی ہے۔ حضرت حسن سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم چلنے کے لیے قدم اٹھاتے تو قوت سے پاؤں اکھڑتا تھا اور قدم اس طرح رکھتے کہ آگے جھک پڑتا اور تواضح کے ساتھ قدم بڑھا کر چلتے۔

چلنے میں ایسا معلوم ہوتا کہ گویا کسی بلندی سے پستی پر اتر رہے ہیں (نشر الطیب، شمائل ترمذی)
آپ کے چلنے کے انداز میں پاؤں کے پنجوں پر وزن زیادہ پڑتا ہے۔ اس کے بے شمار فائدے ہیں۔ ڈاکٹر کلیم خان نے اس موضوع پر وسیع ریسرچ کی ہے۔ ان کے مطابق:
1)جو شخص اس انداز سے چلے گا وہ کبھی بھی جوڑوں کے درد میں مبتلا نہیں ہوگا۔

(جاری ہے)


2)اس انداز سے چلنے سے تھکاوٹ محسوس نہیں ہوگی۔


3)یورپین سیاحوں کی معلوماتی کتابوں میں یہ بات واضح ہے کہ اگر آپ کا سفر لمبا اور طویل ہے تو پاؤں کے پنجوں پر وزن دو۔ قدرے جھک کر چلو، سفر آسانی سے طے ہو جائے گا۔
4)اس انداز سے چلنے والے کی نگاہ تیز ہوتی ہے۔
5)اعصابی کھچاؤ اور بے چینی ختم ہو جاتی ہے۔
6)جو کھلاڑی اس انداز سے چلتے اور دوڑتے ہیں، وہ ہر میدان میں کامیاب ہوتے ہیں۔


7)مزید یہ کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چلا کرتے تھے۔ آج اس نعمت کو چھوڑ کر ہم پریشان ہیں۔ تمام یورپ و امریکہ کے لوگ پیدل چلتے ہیں۔
پیدل چلنا سنت ہے۔ ایک سنت چھوڑنے سے کیا کیا نقصانات ہوئے اس سلسلے میں جدید سائنس کیا کہتی ہے؟ پیدل چلنا صحت ہے۔ ایک صاحب دل کی بیماری میں مبتلا ہو گئے۔ لاہور کے اسپتال میں داخل ہوئے وہاں کے ماہرین قلب نے کہا کہ آپ کراچی تشریف لے جائیں وہ وہاں پہنچے کچھ عرصہ علاج کیا لیکن وہاں کے ماہرین سے مرض کنٹرول نہ ہوا انہوں نے بھی مشورہ دیا کہ آپ لندن علاج کے لیے تشریف لے جائیں وہ جب لندن پہنچے تو انہوں نے مکمل چیک اپ کے بعد فرمایا کہ اس مرض کا علاج امریکہ کا ایک کارڈک ہسپتال ہے وہاں ہوگا۔

مرتے کیا نہ کرتے وہاں پہنچے فرماتے ہیں کہ جب اس اسپتال کے مین گیٹ پر پہنچے تو اس گیٹ پر لکھا ہوا دیکھا کہ پہلے پاؤں پیدا ہوا یا پہیہ؟ وہ وہاں علاج کراتے رہے خاطر خواہ افاقہ ہوا ماہرین قلب نے انہیں آخری اور اہم مشورہ یہی دیا کہ آپ پیدل چلیں یہی آپ کا علاج ہے۔ اگر ہم پیدل (walk) کریں سنت پر عمل کی نیت سے ایک تو سنت پر عمل کرنے کا ثواب اور دوسرا کئی بیماریوں سے شفا حاصل ہوگی۔

ذیل میں ایسی ہی بیماریوں کا ذکر پیش خدمت ہے۔
1) بے خوابی (Insomnia):
ہر آدمی بے خوابی کا شکار ہے۔ ڈاکٹروں کے کلینک اور اطباء کے مطب ایسے مریضوں کا مرکز ہیں لیکن جتنی ادویات میں اضافہ، مرض اتنا ہی بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر آپ اپنے ماحول پر غور کریں تو آپ کو فوراً اس بات سے آگاہی ہوگی کہ اس کی اصل وجہ بے حرکت زندگی ہے۔ اس مرض کی شکایت کرنے والے مریض رو رو کر اپنا حال بیان کرتے ہیں۔

ان میں نوے فیصد لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی ایسے شعبے یا پیشے سے منسلک ہوتے ہیں جس میں حرکت کم اور دماغ سوزی زیادہ ہوتی ہے۔ اب جب ایسے لوگوں کو روزانہ پیدل چلنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جو مریض اس پر سختی سے عمل کرتے ہیں وہ حیران کن طریقے سے صحت کی طرف گامزن ہوتے ہیں اور بے خوابی ان سے کوسوں دور بھاگتی ہے۔ حتیٰ کہ ایسے مریض جن پر نشہ آور گولیاں اثر کرنا چھوڑ جاتی ہیں وہی مریض جب مسلسل پیدل چلنا اپنا شعار بناتے ہیں تو پھر ان کو طبعی نیند کا مزہ ملتا ہے۔


2) تبخیر، گیس (Indigestion):
بس، ٹرین، اسٹیشن، بازار، گلی ہر جگہ آپ کو ہاضمے کی دوائی کا اشتہار مل جائے گا یا کوئی گولیاں سفوف یا مکسچر بیچنے والا مل جائے گا ہر کسی کا یہ دعویٰ ہوگا کہ ہر قسم کی بادی گیس تبخیر وغیرہ کا آخری علاج اس کا یہ نسخہ ہے۔ اس وقت ملک کے اندر جتنی ادویات امراض معدہ کے لیے بنتی ہیں اتنی شاید کسی اور مرض کے لیے تیار ہوتی ہوں حالانکہ تبخیر گیس کا علاج صرف پیدل چلنا ہے۔

جب ہم مرغن اغذیہ کھا کر کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں۔ پیدل چلتے نہیں تو کھائی ہوئی غذا متعفن ہو جاتی ہے اور پھر وہی غذا بجائے شفا اور خوراک بننے کے بیماری بن جاتی ہے۔
3) دائمی قبض (Prolong Constipation):
دائمی قبض ایک سنگین مسئلہ ہے۔ دوائی گولی کھائی تو اجابت صاف ورنہ پھر قبض لیکن اگر مریض قبض علاج کے ساتھ ساتھ مسلسل پیدل چلنا شروع کردے تو دائمی قبض سے نجات مل جاتی ہے۔


4) دل کے امراض (Heart diseases):
دل چونکہ خود ایک متحرک عضو ہے اس لیے یہ حرکت کو پسند کرتا ہے لیکن بعض انسانوں پر غفلت اور سستی غالب رہتی ہے چنانچہ وہی انسان دل کی طرح متحرک نہیں ہوتا تو پھر یہی دل روٹھ جاتا ہے تو اس کو منانے کے لیے طرح طرح کے طریقے ادویات کی صورت میں اختیار کیے جاتے ہیں لیکن یہ روٹھ کر مان جائے تو کچھ مشکل ہوتا ہے۔

دل کے امراض کا علاج پیدل چلنا ہی ہے۔
5) موٹاپا (Obesity):
کیا موٹاپا لاعلاج ہے۔ ایک پولیس آفیسر ایک ڈاکٹر صاحب کے پاس پیٹ کم کرانے کے لیے گئے۔ اس نے ادویات دیں اور روزانہ 5 کلومیٹر پیدل چلنے کا کہا اس نے اس پر عمل کیا۔ صرف چالیس یوم کے بعد اس کا جسم اور پیٹ نارمل ہوگیا۔ حتیٰ کہ اس صاحب کو اپنی پتلون تنگ کرانی پڑی۔


6) بواسیر (Piles):
بواسیر پیدل چلنے والے کو بہت ہی کم ہوتی ہے اور اس کا علاج اگر پیدل چلنے سے کیا جائے تو بہت کارگر ہوگا۔ حتیٰ کہ بادی بواسیر کے مریض بظاہر چل نہیں سکتے لیکن جب انہوں نے پیدل چلنا شروع کیا اور مسلسل متواتر مستقل مزاجی سے چلتے رہے تو مرض ہمیشہ کے لیے جان چھوڑ دیتا ہے۔ اور سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ یہ سنت سمجھ کرکیا جائے، ثواب بھی ہوگا اور دنیا کے فوائد مفت میں ملیں گے۔ کیا ہی خوب ٹھکانا ہے سنت پر عمل کرنے والوں کا، پاکیزہ اور صاف زندگی بسر کرنے والوں کا، اللہ تعالیٰ ہمیں ایک ایک سنت زندہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
تاریخ اشاعت: 2020-06-16

Your Thoughts and Comments