بند کریں
صحت مضامینورزشورزش کرنے یا نہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے

مزید ورزش

- مزید مضامین
ورزش کرنے یا نہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے
وہ یہ حقیقت نظر انداز کر گئی کہ جو شخص چلنا چھوڑ دیتا ہے ، جلد ہی وہ اس کے قابل بھی نہیں رہتا۔
ورزش کرنے یا نہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے
ایک قصہ ہے کہ ایک امیر عورت لمبی گاڑی میں کسی تفریخی مقام پر واقع ہوٹل میں پہنچتی ہے عملہ بھاگ کر اس کا سامان اٹھانے آتا ہے وہ ایک کو کہتی ہے تم سامان اٹھاؤ اور دوسرے کو کہتی میرے بیٹے کو اٹھاؤ وہ حیران ہوکر پوچھتا ہے کیا بچہ چل نہیں سکتا؟ جس پر عورت کہتی ہے کہ چل تو سکتا ہے لیکن خدا کا شکر ہے کہ اسے چلنا نہیں پڑتا۔ لیکن وہ یہ حقیقت نظر انداز کر گئی کہ جو شخص چلنا چھوڑ دیتا ہے ، جلد ہی وہ اس کے قابل بھی نہیں رہتا۔ اس بات کو یوں لیں کہ کسی کو موافق ماحول، باافراط خوراک اور مناسب آب و ہوا مہیا کردی جائے اور اسے کچھ نہ کرنا پڑے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسکی فٹنس اتنی نچلی سطح تک گر جاتی ہے کہ وہ بس زندہ ہی رہ سکتا ہے لیکن اگر اس سے یہ تمام سہولتیں واپس لے لی جائیں تو وہ گھبرا کر سوچتا ہے کہ اب مجھے زندہ رہنے کیلئے کچھ کرنا ہوگا، میرے کام خود بخود ہونے بند ہوجائیں گے۔ دراصل اپنے ماحول کے مطابق اپنے آپ کو تھوڑا یا زیادہ تیار کرلینے کا نام ہی فٹنس ہے چونکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے ذہن عطا کیا ہے اور وہ سوچ سکتا ہے اسلئے وہ اندازہ بھی لگا لیتا ہے کہ اسے اپنے ماحول کے مطابق کتنا ڈھلنا پڑے گا۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ نکما بیٹھ کر وہ کمزور سے کمزور تر ہوتا جائے گا جو خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ کبھی ایسا بھی ہوگا کہ اسے کسی اونچی جگہ یا درخت پر چڑھنا پرجائے ، یادنگے فساد کا سامنا ہوجائے یا کوئی مشکل کام کرنا پڑ جائے جسمیں طاقت درکار ہوگی تو وہ کیا کرے گا؟ ایک وقت تھا جب یہ خیال کیاجاتا تھا کہ جسما نی نقل وحرکت جسمامی بافتوں کی ٹوٹ پھوٹ میں اضافہ کرکے بڑھاپے کو جلد آنے کی دعوت دیتی ہے۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ غلط اور اس کے برعکس بالکل صحیح ہے۔ بافتیں اور کام کی صلاحیت ہلنے جلنے سے بڑھتی ہے دل، پھیپھڑوں ، جنسی اعضاء اور ہڈیوں کا مستقل استعمال ہی انہیں کارگررکھنے کی ضمانت ہے اور بڑھاپے کو مئوخر کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جسم کو آپ کم یا زیادہ جتنا کام کرنے کا عادی بناتے ہیں وہ اسی طرح ہوجاتا ہے ۔ جب آپ کام کرنا بالکل چھوڑ دیتے ہیں تو پٹھے ناکارہ ہوجاتے ہیں اور جسم کی طاقت بری طرح متاثر ہوتی ہے دل چھوٹا ہوجاتا ہے اور اسکی کارکردگی بھی کمزور پڑجاتی ہے۔ رگیں غائب ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور جسم کا طاقت دینے والے اجزا بھی ضائع ہوجاتے ہیں ۔ ان سب کا نتیجہ بھیانک ہوتا ہے کیونکہ جسم کسی بھی ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے قابل ہی نہیں رہتا اور آپ کو پریشانی اور ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اس کے علاوہ ذیا بیطس ، دل کے ہلکے دورے اور فالج کے خطرات الگ منڈلانے لگتے ہیں یہ سب کچھ اعصاب شکن ہے کہ نہیں۔ متحرک رہنے کے اثرات کا جتنا واضح اثر خلابازوں پر دیکھا گیا وہ حیران کن ہے جو خلا باز ایک ہفتہ خلا میں رہے ان کی ہڈیاں 10 % متاثر ہوئیں جبکہ دو ہفتے اور میں یہی اثر 15% ہوگیا۔ اس سے یہ خدشہ پیدا ہوا کہ آیا انسان کبھی ستاروں تک پہنچ بھی پائے گا یا نہیں۔ کیا وہاں جا کر اسکا کچھ بچے گا بھی یا نہیں۔ بعد میں سکائی لیب مشن کے دوران یہ سامنے آیا کہ 15 دن کے بعد ہڈیوں کا نقصان پھر سے بحال ہونے لگا۔ گو خلابازوں کی فٹنس شروع کی نسبت کم ضرور ہوئی لیکن پھر بھی اتنی ضرور تھی کہ روزمرہ کام آسانی سے کئے جاسکیں۔ اپولومشن کے دوران دیکھا گیا کہ جو خلا باز چاند کے گرد منڈلاتے رہے ان کی فٹنس چاند پر اترنے اور کام کرنے والوں کی نسبت کم تھی۔

(0) ووٹ وصول ہوئے