Ashob E Chashm - Article No. 2769

Ashob E Chashm

آشوبِ چشم - تحریر نمبر 2769

یہ ایک وائرل بیماری ہے جو دس سے چودہ دن تک رہتی ہے

جمعرات 5 اکتوبر 2023

ڈاکٹر جمیلہ آصف
آشوبِ چشم ایک وائرل بیماری ہے جو کہ عام طور پر دس سے چودہ دن تک رہتی ہے۔آشوبِ چشم کو عام طور پر سرخ آنکھیں کہا جاتا ہے،یہ آنکھوں کی ایک عام حالت ہے جس میں آنکھوں میں سوزش ہو جاتی ہے،آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں اور آنکھوں سے پانی جیسا محلول بھی نکلتا رہتا ہے۔آشوبِ چشم زیادہ تر مون سون کے بعد پھیلتا ہے۔
متاثرہ شخص اس حالت کی وجہ سے آنکھوں میں جلن اور درد کا شکار رہتا ہے۔یہ آنکھ کی بیماری طبی توجہ حاصل کرنے کی ایک عام وجہ ہے یہ بیماری ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔آشوبِ چشم مختلف عوامل کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ان عوامل میں سب سے اہم Viral یا Bacterial Infection ہیں۔آشوبِ چشم الرجی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔
اس وقت لاہور میں آشوبِ چشم کا مرض پھیل گیا ہے،ہسپتال میں بھی آنکھوں کے مریضوں کا رش بڑھ گیا۔

(جاری ہے)

ڈاکٹرز کے مطابق آشوبِ چشم کی وجہ سے آنکھوں کی جھلی میں سوزش ہو رہی ہے،آنکھیں سرخ،پانی بہنا،سوجن،چبھن شروع ہو جاتی ہے اور مریض آنکھوں میں شدید تکلیف محسوس کرتا ہے،یہ ایک وبائی مرض ہے،احتیاطی تدابیر کے طور پر آنکھوں کو صاف رکھیں،جب بھی باہر سے گھر آئیں تو صابن سے ہاتھ اور آنکھیں دھوئیں۔
میو ہسپتال کے ماہر امراض چشم کا کہنا ہے کہ ”آشوبِ چشم میں مبتلا مریض متاثرہ آنکھوں پر ہاتھ نہ لگائیں،آنکھیں مسلنے سے پرہیز کریں،تولیا اور چہرہ صاف کرنے والے کپڑے علیحدہ رکھے جائیں،گھر سے باہر نکلتے ہوئے کالا چشمہ پہنیں تاکہ دھوئیں اور گرد و غبار سے محفوظ رہیں۔
ڈاکٹر ناصر چودھری نے کہا آشوبِ چشم کا مرض سب سے زیادہ بچوں میں بڑھ رہا ہے،بچوں کے سکولوں میں ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے مرض گھر تک آ رہا ہے،والدین آشوبِ چشم میں مبتلا بچوں کو سکول نہ بھیجیں،گھروں میں صفائی رکھیں اور مریض کو فوری آنکھوں کے قریبی ہسپتال لے کر جائیں۔“
وہ مزید کہتے ہیں کہ آشوبِ چشم ایک عام وقوع پذیر ہونے والا مرض ہے،جو کافی تکلیف دہ ہوتا ہے۔
موسمِ برسات کے بعد آشوبِ چشم کا مرض بڑی تیزی کے ساتھ پھیلتا ہے۔اس مرض میں مریض کی آنکھیں سوج کر سرخ اور بھاری ہو جاتی ہیں۔آنکھوں میں دکھن اور جلن کا احساس شدت سے ہونے لگتا ہے۔آنکھوں سے پانی نما پتلی رطوبت ہر وقت بہتی رہتی ہے اور آنکھیں تیز چمک یا روشنی برداشت نہیں کر پاتیں۔سو کر اٹھنے سے آنکھوں کی پتلیاں باہم چپک جاتی ہیں اور مریض درد کی شدت کو بڑی مشکل سے برداشت کرتا ہے۔

آشوبِ چشم عام طور پر ایک اچھوتی مرض ہے،جو ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہو جاتا ہے۔اگرچہ آشوبِ چشم کا کوئی خاص موسم یا وقت نہیں ہوتا،تاہم برسات کے بعد اس کے حملہ آور ہونے کے امکانات زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔بارش ہونے کے بعد نکلنے والی دھوپ شدید تیز ہوتی ہے،جو نہ صرف چبھن کا باعث بنتی ہے بلکہ آنکھوں کو چندھیانے کا سبب بھی۔سورج کی چمک آنکھوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے،جس سے آنکھیں متورم ہو کر آشوبِ چشم میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔

علاوہ ازیں سڑکوں پر چلنے والی ٹریفک سے برسات کے دنوں میں گندے ذرات،گرد و غبار اور ماحول کی آلودگی میں اضافہ ہو جانا بھی اس مرض کے پھیلاؤ کا باعث بن جاتا ہے۔آشوبِ چشم کا مرض سات سے دس دنوں کے درمیان خود ہی ختم ہو جاتا ہے۔جب اس کی وبا پھیلتی ہے تو اس کے سامنے بچے،بوڑھے،جوان مرد اور عورتیں سب ہی بے بس ہوتے ہیں۔

Browse More Eyes