Aaye PhalooN Ke Badshah Mango Ka Istaqbaal KareeN - Article No. 2170

آیئے پھلوں کے بادشاہ آم کا استقبال کریں - تحریر نمبر 2170

منگل جون

Aaye PhalooN Ke Badshah Mango Ka Istaqbaal KareeN - Article No. 2170
آپ نے غالب کی زبان سے سنا ہو گا’آم ہوں اور بہت سارے ہوں‘یہ بہترین مٹھاس اور خوش ذائقہ اس لئے تو پھلوں کا بادشاہ بھی کہلاتا ہے اور لوگ اسے بڑی رغبت اور شوق سے کھاتے ہیں۔پاکستانی آم کے بارے میں زرعی سائنسدان دعویٰ کرتے ہیں کہ اس خطے کا پھل بے حد خوش ذائقہ ہوتا ہے تو واقعی اس میں دورائے نہیں ہو سکتیں۔
آم کب اور کس طرح کھایا جائے
ویسے تو پھلوں کو دو کھانوں کے درمیان وقفے میں کھانا چاہئے۔

آموں کے لئے کہا جاتا ہے کہ سہہ پہر کا وقت زیادہ موزوں ہے۔اسے نہار منہ کھانا درست نہیں۔بہتر یہی ہے کہ آموں کو کمرے کے عام درجہ حرارت کے مطابق ٹھنڈے پانی میں کچھ دیر بھگو کر رکھا جائے۔اس کے بعد ہاتھوں سے دبا کر کھایا جائے۔واقعی آم تو ایسا پھل ہے کہ کھاتا جائے دل اور نیت نہ بھرے تاہم زائد مقدار پیچش میں مبتلا کر سکتی ہے۔

(جاری ہے)


آم کو معتدل بنا لیجئے
آم ہی کے موسم میں قدرت جامن جیسا قدرے تلخ پھل بھی دیتی ہے یہ بھی بڑی نعمت ہے۔

بلڈ شوگر سے بچاؤ کے لئے اگر آپ آم کھانے کے بعد دو ایک جامن کھا لیتے ہیں تو ذیابیطس کے بڑھنے کا خطرہ نہیں رہتا۔اسی طرح دودھ کی لسی کو بھی آم کی گرم تاثیر زائل کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
آم کریں قوت ہاضمہ بحال
ریشے والا آم قدرے ثقیل ہوتا ہے مگر مفید،ہاضم اور قبض بھی دور کرتا ہے۔یہ آنتوں کو تقویت دیتا ہے۔

پیٹ صاف کرتا ہے۔خون بہتر بناتا ہے۔جگر کی کمزوری اور خون کی کمی دور کرتا ہے۔دبلے پتلے لوگوں کو اس موسم کا لطف لینا چاہئے اس طرح ان کا وزن بھی بڑھتا ہے ۔جسم میں چستی بھی آتی ہے۔دماغی کمزوری اور پژمردگی دور ہوتی ہے۔اگر بچوں کو مٹی کھانے کی عادت ہو جائے تو انہیں آم کی گٹھلی کھانے دیں اور گٹھلی کو سینک کر سپاری کی طرح پیس کر کھلائی جائے تو انہیں مٹی کھانے سے رغبت نہیں رہتی۔

آم کے تازہ پتے چبانے سے دانت مضبوط ہوتے ہیں۔
پتے کے امراض اور ٹی بی میں آم کا گودا شہد ملا کر پینے سے ٹی بی یعنی تپ دق میں افاقہ ہوتا ہے۔یہ پھل خشک کھانسی بھی دور کرتا ہے‘بے خوابی کے مریض بھی رات کو آم کھا لیں تو بھرپور نیند لے سکتے ہیں۔البتہ خالی پیٹ آم کھانے سے قبض ہو سکتی ہے۔آم کے استعمال سے جسم میں خراب کولیسٹرول کی مقدار کم ہوتی ہے۔

وٹامن C اور Pectin کے اجزاء خراب کولیسٹرول کو اعتدال میں لاتے ہیں۔ اس پھل میں کثیر مقدار میں آئرن ہوتا ہے۔نئی ماؤں کو آم کھانے چاہئیں تاکہ اضافی سپلیمنٹس کم سے کم لئے جا سکیں۔
ایسی خواتین جو مینوپاز کے دور سے گزر رہی ہوں یعنی 50 برس سے زائد خواتین کو لازم ہے کہ خوراک میں آم شامل رکھیں کیونکہ اس دور میں جسم میں آئرن اور معدنیات مثلاً فاسفورس اور پوٹاشیم بننا کم ہو جاتے ہیں۔

آم میں یہ اجزاء خصوصیت سے موجود ہیں۔آنکھوں کے امراض کے لئے بھی آم بے حد مفید پھل ہے۔وٹامن A جیسا طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ بینائی کو قائم رکھتا اور آنکھوں کی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ آم فائٹو کیمیکلز کا خزانہ بھی ہیں۔عام خیال ہے کہ یہ وزن میں اضافہ کرنے والا پھل ہے جبکہ یہ فربہہ لوگوں کو چربی سے پاک بھی کرتا ہے۔ قدرتی طور پر چربی پگھلانے کی عمدہ صلاحیت سے مالا مال پھل ہے۔

یہ کینسر جیسے مہلک مرض کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے۔
آموں کی متعدد اقسام ہیں ان میں سرولی،نیلم،فجری،الماس،مالدا،گلاب، خان سہرا،لعل بادشاہ،توتاپوری،لنگڑا،چونسہ انور ریٹول، سندھڑی اور دوسہری شامل ہیں۔پاکستان میں لنگڑا،چونسہ،انور ریٹول،سندھڑی اور دوسہری زیادہ تر دسیتاب ہوتے ہیں اور عوام و خواص ان کے تحائف، مربے،چٹنیاں،اچار اور اسکواش کی شکل میں احباب کو بھیجتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2021-06-08

Your Thoughts and Comments