Appendix Ka Kahtama

اپنڈکس کا خاتمہ

جمعرات دسمبر

Appendix Ka Kahtama

صبا عمران
بیس سالہ ارشاد کو دوروز سے پیٹ کے نچلے حصے میں درد کی شکایت تھی ۔ اس نے درد کی طرف کوئی توجہ نہیں دی تو وہ بڑھ گیا۔اسے کھانسی آنے لگی اور وہ چھینکنے بھی لگا۔جب وہ ناہموار سڑکوں پر سے گزرتا تو تکلیف بڑھ جاتی تھی ۔جب معاملہ حد سے بڑھ گیا تو اس نے معالج سے ملنے کا فیصلہ کیا۔معالج نے بتایا کہ اسے اپنڈکس (اندھی آنت)کادرد ہے ،لہٰذا اسے فوراً سرجری کر الینی چاہیے،کیوں کہ تعدیہ (انفیکشن )پھیل رہا تھا اور کسی بھی لمحے اپنڈکس پھٹ سکتا تھا۔


اپنڈکس ایک چھوٹی سی نلکی ہے ،جو بڑی اور چھوٹی آنت کے جوڑ پر پیٹ کے نچلے حصے میں کولھے کی ہڈی کے قریب ہوتی ہے ،جس کی لمبائی تقریباً چار انچ اور سات یا آٹھ سینٹی میٹر اُس کا قطر ہوتا ہے ۔ڈاکٹر ساجد شیخ ،جو فیصل آباد کے ایک اسپتال میں جنرل سرجن ہیں ،کہتے ہیں کہ اس میں اچھے بیکٹیریا کا ذخیرہ ہوتا ہے ،جو نہ صرف ہاضمے میں مدد دیتا ہے ،بلکہ بیماریوں اور تعدیے کے خلاف مدافعت بھی کرتا ہے ۔

(جاری ہے)


چنا ں چہ اسے مدافعتی نظام کا حصہ کہنا چاہیے ۔
امریکا کے گردوں اور ہاضمے کے ادارے کا کہنا ہے کہ دنیا کی آبادی کا پانچ فی صد حصہ اس مرض میں مبتلا ہے ۔اپنڈکس کا درد عمر کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے ،لیکن زیادہ تر تیرہ سے بیس برس کے درمیان ہوتا ہے ۔ڈاکٹر ساجد کا کہنا ہے کہ یہ مرض پاکستان میں کم ہے ،لیکن اس کے صحیح اعداد وشمار پیش کرنے سے وہ قاصر ہیں ،اس لیے کہ قومی سطح پر اس سلسلے میں کوئی بڑا کام نہیں ہوا ہے ۔


بیکٹیریا ،وائرس اور نقصان پہنچانے والے دوسرے جراثیم تعدیہ پیدا کر دیتے ہیں ،جس سے اپنڈکس پھٹ جاتا ہے ۔ڈاکٹر ساجد کا کہنا ہے کہ اپنڈکس کے پھٹنے سے نقصان دہ زہر یلے مادّے نکل کر پیٹ میں پھیل جاتے ہیں ،جس سے شدید جلن اور سوزش ہوتی ہے۔
اپنڈکس کی صورت میں پیٹ میں دائیں جانب ناف کے قریب درد ہوتا ہے،بھوک اُڑ جاتی ہے ،قے اور متلی ہوتی ہے ،بخار آجاتا ہے ،پیشاب کرنے میں تکلیف ہوتی ہے ،قبض ہوجاتا ہے ۔


اپنڈکس کے درد کا اتفاقاً پتا چل جاتا ہے ،ورنہ محض علامات سے پتا نہیں چلایا جا سکتا ،اس لیے کہ دوسری بہت سی بیماریوں میں بھی ایسی ہی علامات ظاہر ہوتی ہیں ،مثلاً ریاح کا درد،پیشاب کی نالی میں درد ہونا ،مثانے یا پتّے میں درد ہونا۔
خواتین کی بیضہ دانی میں جب کوئی بیماری ہوتی ہے تو ایسی ہی علامات نظر آتی ہیں ۔جس مقام پر درد ہورہا ہو،اسے دبا کر دیکھا جائے تومعلوم ہوجاتا ہے کہ یہ اپنڈکس کا درد ہے ۔

بلڈ ٹیسٹ سے بھی صورت حال واضح ہوجاتی ہے ،اس لیے کہ سفید خلیوں کی کمی یہ ظاہر کردیتی ہے کہ جسم میں تعدیہ ہوچکا ہے اور سفید خلیے مدافعت کرنے میں مصروف ہیں ۔اپنڈکس کی سوزش اور جلن کا پتا چلانے کے لیے ایم آر آئی (MRI)اور سی ٹی اسکین(CT SCAN)سے بھی مدد لی جا سکتی ہے ۔
اپنڈکس میں درد ہویا سوجن ،سرجری اس کا واحد علاج ہے ۔اس سرجری کی دو قسمیں ہیں :معدے بینی سرجری(LAPAROSCOPIC SURGERY)جوجدید ترین تکنیک ہے ،جس میں ننھا سا کیمرا بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔

پھر پیٹ کی اوپری جِلد میں چھوٹے چھوٹے شگاف لگا کر تعدیہ زدہ اپنڈکس کو نکال دیا جاتا ہے ۔
جب کہ روایتی سرجری(TRADITIONAL SURGERY)میں ایک لمبا شگاف لگا کر اپنڈکس کو نکال دیا جاتا ہے ۔سرجری کے نام پر مریض رضا مند نہیں ہوتا اور منفی رویّہ اختیار کرتا ہے ۔ڈاکٹر ساجد کہتے ہیں کہ معدہ بینی سرجری میں چوں کہ بہت ہی چھوٹے شگاف لگائے جاتے ہیں ،لہٰذا زخم جلد مند مل ہوجاتے ہیں ۔

معدہ بینی سرجری کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر ساجد نے کہا کہ سرجری کے بعد بارہ گھنٹے گزرنے پر مریض احتیاط سے حرکت کر سکتا ہے ۔اسے ضد حیوی ادویہ (اینٹی بایوٹکس) دی جاتی ہیں ،جن سے زخموں میں تعدیہ نہیں ہوتا۔مریض کو دس سے چودہ روز تک کوئی سخت کام نہیں کرنا چاہیے ،خاص طور پر اسے بھاری چیزیں نہیں اٹھانی چاہییں ۔مریض خوب گہری اور پُر سکون نیندلے تو اس کے زخم جلد مندمل ہوجاتے ہیں ۔


ڈاکٹر ساجد کے مطابق اپنڈکس کا درد ادویہ سے ختم نہیں ہوتا،البتہ وہ افراد جو ریشے والی غذائیں زیادہ کھاتے ہیں ،ان کا درد کم ہوجاتا ہے ۔ریشے کے حصول کے لیے بغیر چھنے آٹے کی روٹی،پھل اور سبزیاں کھائی جا سکتی ہیں ۔ابتدامیں اس مرض کا پتا چل جائے اور احتیاط کرلی جائے تو تعدیے کا علاج ممکن ہے ۔
ڈاکٹر متنبہ کرتے ہیں کہ دافع درد ادویہ نہ کھائیں ،اس لیے کہ ان سے اپنڈکس کے پھٹنے کا عمل تیز ہوجاتا ہے ۔

بہتر ہے کہ مریض دود ھ میں پانی ملا کریا پھلوں کا رس پیے۔اس سے جسم سے زہریلے مادّے خارج ہوجاتے ہیں ،جن سے تعدیہ اور سوزش ہوتی ہے۔
آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ آپ اپنڈکس کے بغیر کسی زندہ رہ سکتے ہیں ۔اپنڈکس کے نکل جانے سے مریض پرکوئی اثر نہیں پڑتا ۔اپنڈکس نکلنے سے اگر مریض معمولی سے تعدیے میں مبتلا ہوجائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی قوتِ مدافعت پہلے سے کم زور تھی ۔

تاریخ اشاعت: 2018-12-13

Your Thoughts and Comments