Bachon Ki Achi Sehat - Article No. 1441

بچّوں کی اچھّی صحّت - تحریر نمبر 1441

منگل دسمبر

Bachon Ki Achi Sehat - Article No. 1441

مریم خالد
بچے صحت مند اور تندرست ہی ہوں تو ہنستے کھیلتے ہیں ورنہ تو کبھی یہ مسئلہ تو کبھی وہ مسئلہ والا سلسلہ چلتا رہتا ہے اور بچہ کسی ہسپتال کا ٹریلر معلوم ہوتا ہے ۔اکثر والدین خصوصاً نوجوان اور نئے والدین کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے بچوں کو کس طرح کے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ایسے بھی والدین ہوتے ہیں کہ ان کے بچوں میں کوئی بیماری پورے عروج پر پہنچ جاتی ہے تو تب انہیں احساس ہوتا ہے کہ بچہ بیمارہے جبکہ ایسے بھی والدین ہوتے ہیں کہ جو اپنے کیا کسی کے بھی بچوں کو بیمار ہونے ہی نہیں دیتے ۔

وہ جانتے ہیں کہ پر ہیز علاج سے بہتر ہے ۔
مشترکہ خاندانی نظام کے زوال کے باعث ایسے والدین بہت کم ملتے ہیں ۔صحت مند بچے جب ہنستے کھیلتے ہیں تو اس سے ان کے والدین بھی خوش ہوتے ہیں ان کی یہ خوشی ان کی اپنی صحت میں بہتری کا باعث بنتی ہے اور اس کا فائدہ دونوں کو ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

اچھی صحت کے حامل بچے محض اچھی خوراک کی وجہ سے ہی نہیں بنتے بلکہ اس کے لئے اچھی سوچ اور اچھی تربیت کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔

اچھی تربیت وہی والدین کر سکتے ہیں جو خود اچھی طرح سے تربیت یافتہ ہوں ۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے حوالے سے سوچ مثبت رکھیں اکثر والدین بے خیالی میں اپنے بچوں کے حوالے سے منفی رائے کے حامل ہوجاتے ہیں ۔وہ دوسروں کے سامنے اپنے بچے کی باتیں اس طرح کرتے ہیں کہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ انہیں کسی بھی طرح سے کوئی شعور ہے ہی نہیں یاوہ بہت کمزور ہیں اور کوئی ذمہ داری اُٹھا ہی نہیں سکتے ۔


حقیقت یہ ہے کہ وہ ایسا صرف اُن کی معصومیت کو بڑھانے کیلئے کہہ رہے ہوتے ہیں مگر نا دانستگی میں وہ اُن کا منفی تاثر بنا دیتے ہیں ۔بچے جب ان کی یہ رائے سنتے ہیں تو خود کو بہتر کرنے کی بجائے والدین کی دی گئی رائے کے مطابق خود کو ڈھالنے لگتے ہیں ۔دوسری طرف بعض والدین ایسے ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کی معمولی سی خوبی کو بھی اِس طرح بڑھا چڑھا کر دوسروں کے سامنے بیان کرتے ہیں کہ بچہ سُن کر خود بھی حیران ہوجاتا ہے ۔

ایسی رائے بچے کا حوصلہ بڑھاتی ہے اور اپنے اندر اس خوبی کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
شاہ زیب کے والدین اس کی صحت کے حوالے سے اکثر پریشان رہتے ہیں مگر انہوں نے کبھی بھی اس کا ذکرا س کے سامنے نہیں کیا ۔وہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ اپنے کلاس فیلوز اور کزنز میں سب سے نمایاں نظر آئے ۔اس کیلئے اُنہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ اسے جم میں داخلہ دلوایا ۔

شروع شروع میں تو وہ شوق سے جم گیا مگر چند ہی دنوں کے بعد وہ اُکتاگیا اس کی اُکتا ہٹ کی سب سے بڑی وجہ اس کی تھکاوٹ تھی چنانچہ اُسکے پاپا نے اُسکے ساتھ ہی جم جانا شروع کردیا ۔
اپنے پاپا کو جم میں ورزش کرتے دیکھ کر شاہ زیب کا حوصلہ بڑھا اوراس نے بھی ورزش میں باقاعدگی اختیارکرلی اورچند ہی ہفتوں کے اندر اُسکی صحت اور جسم بہت اچھا ہو گیا ۔

اُسکی ماما بھی اُسکا حوصلہ بڑھاتی رہتی تھیں ۔وہ اُنہیں اچھے اخلاق کے حوالے سے نصیحتیں کرتی رہتیں اور بتائیں کہ ورزش کرنے والے بچوں کی صحت اچھی رہتی ہے تو اُن کا مزاج بھی اچھا رہتا ہے اور یہ اچھا مزاج ہی اُن کے اچھے اخلاق کا سبب بنتا ہے ۔
آج کل سکول جانے والے بچوں میں سمارٹ رہنے کا بھی بھوت سوا ررہتا ہے ۔ایک دوسرے سے سن کروہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ سمارٹ رہنے کے لئے کم کھانا بہت ضروری ہے ۔

حالانکہ اس بات کا حقیقت سے کوئی تعلق ہے ہی نہیں ۔اسی طرح بعض والدین اور بچے یہ سمجھتے ہیں کہ دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی غذائیں جسم میں موٹاپے کا باعث بنتی ہیں ۔جبکہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی غذائیں جسم کو صحت مند رکھنے کے ساتھ ساتھ موٹا پے سے محفوظ رکھتی ہیں ۔دودھ کا باقاعدگی سے استعمال کرنے والے بچوں میں بیماریوں سے محفوظ رہنے کی صلاحیت اُن بچوں سے زیادہ ہوتی ہے ۔

جو دودھ نہیں پیتے ۔
پھرطبی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ تندرستی اور اچھی فگر حاصل کرنے کیلئے بازاری اور فاسٹ فوڈ کے ساتھ ساتھ کولڈڈرنکس سے پرہیز ازحد ضروری ہے ۔فاسٹ فوڈاگر کھانا ہی ہوتو مکئی کاسٹہ جسے ”چھلی “بھی کہا جاتا ہے بہترین فاسٹ فوڈ ہے اس کے علاوہ بھنے ہوئے چنے ‘تازہ اور موسمی پھل کھانے چاہیں اس سے نا صرف فوری طور پر بھوک کا علاج ہوجاتا ہے بلکہ صحت بھی بہتر ہوتی ہے ۔


کالے ‘براؤن ‘سفید ‘ہرے یا مالٹا رنگ کے کار بونیٹڈ مشروبات کی بجائے پھلوں یا گنے کا رس استعمال کیا جائے ۔یہ قیمت میں مہنگے تو ہوتے ہیں مگر اس سے بچوں کی صحت خراب ہونے کی بجائے اچھی ہوتی ہے ۔
آج کل اکثر بچے گھر پر بھی کھانے کے ساتھ کولڈڈرنکس کا استعمال لازمی کرتے ہیں جس سے ان کا گلا تو خراب ہوتا ہی ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ موٹا پے کا بھی شکار ہوجاتے ہیں ۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانے کے ساتھ کار بونیٹڈ مشروبات صحت کے لئے انتہائی مضرثابت ہوتے ہیں ۔اول تو کھانے کے ساتھ پانی بھی نہیں پینا چاہئے کجا کہ یہ کار بو نیٹڈ مشروبات پئیے جائیں۔ صحت مند اور خوبصورت جسم کے لئے پانی کی مناسب مقدار پینا بھی اشد ضروری ہوتا ہے ۔
کس کو کتنا پانی پینا چاہئے اس کا فیصلہ بچوں یا ان کے والدین کو خود سے کرنے کی بجائے کسی ماہر غذائیت سے کرانا چاہئے جو عمر ‘جنس ‘قداور وزن کے اعتبار سے حساب لگا کر بتا سکتا ہے کہ کس کو دن بھر میں کتنا پانی پینا چاہئے ۔ایک ہی عمر کے دو مختلف بچے جن کے قد اور وزن مختلف ہوں اُن کیلئے پانی کی
ایک جیسی مقدار نا مناسب ہوتی ہے اس کی وجہ سے بھی بچوں کی جسمانی فٹنس متاثر ہوسکتی ہے ۔

تاریخ اشاعت: 2018-12-18

Your Thoughts and Comments