بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتبدہضمی

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بدہضمی
سڑی ہوئی یا سخت اور ناپسندیدہ غذاؤں کو ہمارا معدہ پسند نہیں کرتا اور معدے کے عدم تعاون کا نتیجہ بدہضمی ہوتا ہے منہ اور دانتوں کی بیماریوں بالواسطہ طریقے سے بدہضمی کا سبب بن سکتی ہے
بدہضمی :
بدہضمی نظام ہضم کی عام خرابی ہے اس کے بہت سے اسباب ہوسکتے ہیں سب سے اہم سبب غذا ہے اگر غذا اچھی طرح چبا کر نہ کھائی جائے تو اس کے بڑے بڑے ریزوں کو ہضم کرنے کے لئے معدے اور آنتوں کو زیادہ زور لگانا پڑتا ہے اور اس میں وقت بھی زیادہ لگتا ہے کچی،سڑی ہوئی یا سخت اور ناپسندیدہ غذاؤں کو ہمارا معدہ پسند نہیں کرتا اور معدے کے عدم تعاون کا نتیجہ بدہضمی ہوتا ہے منہ اور دانتوں کی بیماریوں بالواسطہ طریقے سے بدہضمی کا سبب بن سکتی ہے بہت زیادہ کھانے سے یا بے قاعدہ وقفوں سے کھانے سے بھی بدہضمی ہوجاتی ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت کم کھانا بھی بدہضمی کا سبب بن سکتا ہے کیو نکہ بہت کم خوراک سے معدہ سست اور”آوٹ آف پریکٹس“ہوجاتا ہے بہت سے لوگ زیادہ گھی والی غذائیں ہضم نہیں کرسکتے ورزش کی کمی بھی نظام ہضم کو سست کردیتی ہے بدہضمی کا اہم سبب نفسیاتی عناصر بھی ہیں صدمہ۔غصہ،پریشانی وغیرہ بدہضمی پیدا کرتے ہیں بہت زیادہ تھکے ہوئے یا روزے کے فوراً بعد کھانا کھانے سے بھی بدہضمی ہوسکتی ہے نشہ آور اشیا مثلاً چائے،تمباکو،شراب وغیرہ کا زیادہ استعمال(خصوصاً جب یہ شخص ان چیزوں کا عادی نہ ہو) بدہضمی پیدا کرتا ہے بے خوابی اور بہت زیادہ ذہنی ورزش سے بھی بدہضمی ہوجاتی ہے ننھے بچوں میں بدہضمی کی اہم وجود گائے یا بھینس کا دودھ یا ناقص مصنوعی دودھ ہیں بعض بیماریوں میں بدہضمی ہوجاتی ہے بدہضمی عموماً بذات خود ایک بیماری نہیں ہوتی بلکہ کسی دوسری بیماری کی علامت ہوتی ہے۔
علاج:
کھانے پینے کی عادت میں تبدیلی یا بدہضمی کے اسباب کو دور کرنا دواؤں کے استعمال سے کہیں زیادہ بہتر ہے دوائیں اس نظام پر غیر ضروری بوجھ ڈالتی ہے غذا آرام سے اور خوب چبا کر کھائیے کھانا مناسب وقفے کے بعد کھائیے اور ضرورت سے زیادہ کھانے سے پرہیز کیجیے سخت ورزش کرنے یا روزہ کھولنے سے کم از کم نصف گھنٹہ بعد تک کھانا نہ کھائیں منہ اور دانتوں میں اگر کوئی خرابی ہو تو اس کا علاج کرائیں زیادہ گھی والی غذاؤں کے بے شمار نقصانات ہیں ان میں دل کی بیماری اور جلد بوڑھا ہونا بھی شامل ہیں گھی زیادہ مقدار میں ہرگز استعمال نہ کریں خصوصاً اگر آپ نطام ہضم اسے قبول کرنے کو تیار نہیں تو اس کا استعمال بہت کم کردیں اگر گھی کی تھوڑی سی مقدار سے بھی متلی یا قے آئے یا دائیں طرف پسلیوں کے نیچے درد محسوس ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں نفیساتی عناصر اور بے خوابی سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں نشہ آور اشیا سے حتیٰ الوسع پرہیز کریں اگر بدہضمی ان کی وجہ سے ہو بچوں کے لیے ماں کا دودھ بہترین غذا ہے لیکن اگریہ ناکافی ہو توگائے بھینس کے دودھ کی بجائے مصنوعی دودھ بچوں کو پلائیے مصنوعی دودھ میں کبھی کبھی تبدیلی کرتے رہیں یعنی کبھی ایک کمپنی کا اور کبھی دوسری کمپنی کا اگر گائے یا بھینس کا دودھ مجبوراً پلانا پڑے تو اس میں پانی کی برابر مقدار شامل کرکے پتلا کرلیں اور اس میں چٹکی بھر سوڈا بائیکارب میٹھا سوڈا ڈال کر پلائیں بچوں کی غذا صرف دودھ تک محدود رکھنا بھی غلط ہے چھ مہینے کی عمر میں یا اس سے بھی ایک آدھ ماہ پہلے بچے کی غذا میں دودھ کے علاوہ جوس یا کوئی اور ہلکی پھلکی غذا شامل کردیں اس طرح اس کے نظام ہضم کی ترتیب اور سارے جسم کی نشوونما بہتر طور پر ہوسکے گی بدہضمی کے مریض کو ہلکی پھلکی غذا مثلاً جوس یخنی دلیہ ساگودانہ وغیرہ کھانی چاہیے اگر کسی خاص غذا کی وجہ سے بدہضمی ہوتی ہو تو اسے ترک کردیں بدہضمی کے ساتھ ساتھ عموماً قبض قے متلی،کھٹی ڈکاریں،پیٹ کا درد اور ایسی ہی دوسری خرابیاں بھی ہوتی ہے ان کا علاج آپ کے دوسرے صفحات پر مل جائے گا۔
بھوک نہ لگنا یا بھوک کم لگنا:
بھوک نہ لگنے یا سبب عموماً نظام انہضام کی کوئی بیماری ہے چند عام بیماریوں کا ذکر اسی باب میں موجود ہے ان کے علاج سے بھوک بحل کی جاسکتی ہے لیکن بھوک نہ لگنے کی ایک دلچسپ سبب سو فیصد نفسیاتی ہے نظام ہضم بالکل ٹھیک ہونے کے باوجود بھوک نہیں لگتی عموماً پندرہ اور پچیس کے درمیان کی عمر کی نوجوان عورتیں اس مرض کا شکار ہوتی ہے ایسے مریض سوکھ کر کانٹا بن جاتے ہیں لیکن کھانا نہیں کھاتے کھانے کو ان کا جی نہیں چاہتا دیکھا گیا ہے کہ ایسے مریض ڈاکٹر یا کسی عزیز کے کہنے پر کھانا کھا بھی لیں تو انہیں قے آجاتی ہے ایسے مریضوں پر کھانے کے بارے میں سختی ہرگز نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس کا اثر اور بھی خراب ہوتا ہے۔
علاج:
اگر نفسیاتی سبب ظاہر ہو تو اسے دور کرنے کی کوشش کریں مریض کو نہایت تحمل سے کھانا کھانے کا قائل کریں اگر ضروری ہو تو کسی ماہر نفسیات سے مشورہ کریں گھریلو علاج کے لیے وومین یا سٹیلازین استعمال کی جاسکتی ہے یہ دوائیں نفسیاتی دباؤ کو وقتی طور پر کم کرکے بھوک بحال کردیتی ہے لیکن نہ تو یہ مکمل علاج ثابت ہوسکتی ہے نہ ہی ان کا زیادہ استعمال مناسب ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے