Dil Ke Bat

دل کی بات ۔۔۔تحریر: فیضی ڈار

ہفتہ جون

Dil Ke Bat
آج کے دور میں ذرا سی تکلیف کی صورت میں ہم فورا دواؤں کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔ گھریلو ٹوٹکے، سنے سنائے سوشل میڈیا کے ذریعے حاصل کردہ نسخے، گھر میں پہلے سے موجود دل کے مریضوں کے اپنی دوائیں دوسروں کو استعمال کرنے کے مشورے ۔مجھے بھی یہی علامات ہوتی تھیں، اس دوا سے مجھے فائدہ ہوا تھا، آپ بھی یہی دوا آستعمال کر لیں غرض جو بھی دوا، پھکی، چورن، معجون، ہاضمے کا شربت، میٹھی گولیاں، کچھ بھی مل جائے ہم نے کھا لینا ہے اور اگر کچھ بھی نہ ملا تو نزدیکی میڈیکل سٹور یا دواخانے جا کر علامات بتا کر دوائیں خرید کر کھا لیتے ہیں بنا یہ جانے کہ ہمیں مسئلہ کیا ہے، کیا واقعی کوئی بیماری ہے بھی یا نہیں ، بلکہ اب تو لیبارٹریز میں جا کر خودہی یا ٹیکنیشن سے مشورہ کرکے خون کے مختلف ٹیسٹس بھی کروا لیتے ہیں۔

(جاری ہے)

ایکس رے، الٹرا ساؤنڈ، ای سی جی، اسٹریس ٹیسٹ اور ایکو کا مشورہ بھی دے دیتے ہیں۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی کچھ لوگ تو انجیوگرافی کروانے بلکہ سینے میں درد کی صورت میں اسٹینٹ ڈالنے کے لئے بھی مجبور کرتے ہیں۔ سوچئے ہم کہاں جارہے ہیں۔ سگریٹ نہیں چھوڑیں گے، الکوحل نہیں چھوڑیں گے، بازار کے مرغن کھانے نہیں چھوڑیں گے اور جب ان کی وجہ سے سینے میں تیزابیت ہوگی تو مختلف گولیاں شربت کیپسول کھاتے رہیں گے۔

عادات تبدیل نہیں کرنی۔ کیا ہوا ایک اسٹینٹ پڑ گیا؟ پھر تکلیف ہوئی تو دوبارہ انجیوپلاسٹی کروالیں گے۔ یاد رکھیں! بغیر تشخیص کوئی دوا کبھی نہ کھائیں، کسی کے مشورے پر عمل نہ کریں سوائے مستند ڈاکٹروں کے۔ کسی کے مشورے پر کسی قسم کا کوئی ٹیسٹ نہ کرائیں جب تک آپ کا مکمل طبی معائنہ نہ کر لیا جائے۔ ہماری بے شمار بیماریاں ایسی ہیں جن کے علاج کے لئے کسی دوائی کی ضرورت نہیں ہوتی ذرا سی احتیاط سے یہ بیماریاں خودہی ٹھیک ہو جاتی ہیں۔آخر میں ایک بات! صحت کے لئے کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ صحتمند رہنے کے لئے اپنے نفس پر جبر کرنا پڑتا ہے۔ اپنی غیرصحتمندانہ عادات کو ترک کرنا پڑتا ہے۔۔
تاریخ اشاعت: 2019-06-22

Your Thoughts and Comments