Gaza Main Phaloon Or Sabziyon Ki Ehmiyat

غذا میں پھلوں اور سبزیوں کی اہمیت

Gaza Main Phaloon Or Sabziyon Ki Ehmiyat

دنیا بھر کے ماہرین صحت اس بات پر متفق ہیں کہ ہمیں اپنی غذا میں سبزیوں اور پھلوں کو زیادہ شامل کرنا چاہیے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سبزیوں اور پھلوں میں پائے جانے والے مانع تکسیداجزاء (ANTIOXIDANTS)خطرناک بیماریوں سے بچانے میں ہماری مدد کرتے ہیں ۔ان میں نہ صرف سرطان اور امراض قلب ،بلکہ بعض ایسی بیماریاں بھی شامل ہیں جنھیں عمر میں اضافے کا لازمی تقاضا سمجھا جاتا ہے،مثلاً جوف چشم کی خرابی،موتیابند(CATARACT)اور دیگر امراض چشم ۔


یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بعض مانع تکسید اجزاء کو ہمارا جسم کچی غذاؤں کی نسبت پکی ہوئی چیزوں یا پکے ہوئے کھانوں سے بہتر طریقے سے جذب کرتاہے۔
ایک ماہر کا کہنا ہے کہ غذا کے مانع تکسیدا جزاء کے بارے میں طویل مدت سے تحقیق جاری ہے۔

(جاری ہے)

اس ماہرکا مشورہ ہے کہ ہم پھل اور سبزیاں زیادہ ضرور کھائیں ،لیکن کچھ ادویہ بھی کھائیں،خصوصاً حیاتین ھ(وٹامن ای)،جو بلاشبہ سب سے اہم مانع تکسید ہے۔

ہمارے جسم کے لیے 200ملی گرام حیاتین ج(وٹامن سی)،100ملی گرام حیاتین ھ اور 8سے10ملی گرام بیٹا کیروٹین (BETA CAROTENE)کی مقدار فائدہ مند رہتی ہے،البتہ بعض پرانی بیماریوں کے مریضوں کے لیے اس سے زیادہ مانع تکسید اجزاء کا کھانا بہتر ہو تاہے۔
ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جن لوگوں کو حال ہی میں دل کے درد(انجائنا)کی شکایت ہوئی،ان میں حیاتین ج کی کمی تھی۔

تحقیق کاروں کے مطابق ان مریضوں کی بیماری میں شریانوں کے تنگ ہو جانے سے زیادہ حیاتین ج کی کمی کود خل تھا۔اس طرح کے مریضوں کے لیے حیاتین ج جیسے مانع تکسید جزو کا حصول اس لیے بہت فائدہ مند ہے کہ یہ متاثر ہ شریانوں میں جمع چکنے مادے کو شریانیں بند کرنے سے
روکتی ہے اور اس طرح دل کے درد کا خطرہ کم ہو جاتاہے۔
مانع تکسید معدنیات (منرلز)،جست اور سیلنیئم زخموں کے اندر مال اور جسم کے مدافعتی نظام کے لیے مفیدہیں،خصوصاً ان لوگوں کے لیے ان معدنیات کی بڑی اہمیت ہے،جو جراحت(سرجری)کے بعد روبہ صحت ہورہے ہوں یا جو عنقریب جراحت سے گزرنے والے ہوں۔


یہ دیکھا گیا ہے کہ جن لوگوں کی غذا میں پھل اور سبزیاں زیادہ شامل ہوتی ہیں ،ان میں سرطان کا امکان کم ہوجاتاہے،چونکہ اس طرح کی غذا مانع تکسید اجزاء اور ریشے سے بھی پُر ہوتی ہے ،لہٰذا اس خیال کو تقویت حاصل ہوتی ہے کہ مانع تکسید غذائیں سرطان کا راستہ روک سکتی ہیں ۔جسم میں مانع تکسید اجزاء کی کمی اور سرطان کے امکان کے درمیان تعلق پایا جاتاہے۔

جن عورتوں کے پستانوں میں مانع تکسید کیراٹینا ئڈز(CAROTENOIDS)زیادہ جمع ہو جاتے ہیں ،ان کے لیے چھاتی کے سرطان کا امکان کم ہو جاتاہے۔پپیتے ،آم اور نارنگی میں پایا جانے والا کیراٹینا ئڈز جسم میں زیادہ ہوتو وہ فم رحم کے سرطان کو کم کرتاہے۔اس کیراٹینا ئڈ زکو کرپٹوز ینتھن (CRYPTOXANTHIN)کہتے ہیں۔
ٹماٹر میں پایا جانے والا سرخ نباتی مادّہ لائکو پین (جو کیراٹینا ئڈ زمیں شامل ہے)پھیپڑے اور آنتوں کے سرطان سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

جو مرد زیادہ ٹماٹر کھاتے ہیں، ان میں غذئہ مثانہ(PROSTATE GLAND) کے سرطان کی شرح ان مردوں کے مقابلے میں نصف پائی گئی ،جوٹماٹر کم کھاتے ہیں۔جن مردوں کے خون میں بیٹا کیروٹین(BETA CAROTENE) کی سطح کم ہوتی ہے ،انھیں اگر دوا یا غذا کے ذریعے یہ مانع تکسید حاصل ہوتو ان میں غدئہ مثانہ کے سرطان کا خطرہ بہت کم ہو جاتاہے۔تمباکونوشی کرنے والے جو لوگ سبزیاں اور الفاکیروٹین ج(جو گاجر اور میٹھے کدو میں پائی جاتی ہے)کم کھاتے ہیں ،ان میں پھیپھڑے کے سرطان کی شرح بڑھ جاتی ہے۔


ماہرین غذا کا خیال یہ ہے کہ بیٹا کیروٹین کے ساتھ ساتھ ہمیں لائکو پین ،لیوٹین اور زینتھن والی غذائیں بھی کھاتے رہنا چاہیے۔بیٹاکیروٹین سے ہمارا جسم حیاتین الف(وٹامن اے)بناتا ہے،جب کہ باقی ماندہ متذکرہ اجزاء آنکھوں کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے مفیدہیں۔
زیادہ محنت والی ورزش مثلاًدوڑنے،تیز چلنے ،تیرنے اور سائیکل چلانے میں ہم جتنی اوکسیجن صَرف کرتے ہیں ،وہ اس مقدار سے دس بیس گنا زیادہ ہوتی ہے،جو ہم عام حالت میں یا آرام کرنے میں خرچ کرتے ہیں۔

یہ کیفیت ہمارے عضلات اور دوسرے ریشوں کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے، خصوصاً زیادہ عمر کے لوگوں کے لیے،کیونکہ اگر معمول سے زیادہ غذائیت والی غذا نہ کھائی جائے تو بڑھاپے میں ہمارے جسم کے اندر مانع تکسید مدافعتی خامروں(انزائمز)کی پیداوار کم ہوتی جاتی ہے۔اس صورت میں مانع تکسید غذا اور دوا کی اہمیت زیادہ ہو جاتی ہے۔حیاتین ج اور حیاتین ھ روزانہ کھانے سے دمے کے مریضوں کو فائدہ ہوتاہے۔

تاریخ اشاعت: 2019-10-07

Your Thoughts and Comments