Gur Ghiza Bhi Dawa Bhi

گڑ غذا بھی دوا بھی

Gur Ghiza Bhi Dawa Bhi

حکیم راحت نسیم سوہدروی
ایک زمانہ تھا کہ ہمارے ہاں بالخصوص دیہات میں گھر آنے والے مہمانوں کوگُڑیا شکر کا شربت بطور تواضع پیش کیا جاتا تھا ،جو میٹھا ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد غذائی اور دوائی افادیت کا حامل ہوتا ہے۔
مگر اب حالات بدل چکے ہیں ۔شہروں کی بات تو چھوڑیے ،دیہات میں بھی لوگ گُڑ اور شکر کو بھول چکے ہیں ۔سفید چینی جسے سفید زہر کہنا زیادہ مناسب ہو گا،کے فدائی اور شیدائی ہو چکے ہیں اور گُڑیا شکر کے بجائے چینی بہت زیادہ کھارہے ہیں ۔


حال آنکہ ذرائع ابلاغ کے باعث پیدا ہونے والے شعورو آگہی کی وجہ سے دیہاتی بھی چینی کے نقصانات اور گُڑکی غذائی اور دوائی افادیت کے بارے میں خوب جانتے ہیں ،مگر دولت کی ہوس کے باعث گنّا شوگر ملوں کو فروخت اور تیار کردہ گُڑ برآمد کر دیتے ہیں ۔

(جاری ہے)

صورتِ حال یہ ہے کہ آج کے زمانے میں گُڑ کھانے والوں کو قدامت پسند اور دیہاتی کا لقب دیا جاتا ہے ۔

اب تو کوئی اپنے مہمان کو گُڑیا شکر کی چائے پیش کرنے کا خیال بھی دل میں نہیں لاتا۔
سفید چینی کو سفید زہر کا نام دیا گیا ہے ۔انسانی جسمانی نظام کوتباہ کرنے میں اس کا کوئی ثانی نہیں ہے ،
کیوں کہ اسے سفید دانے دار بنانے کے لیے خطرناک قسم کے کیمیائی اجزاء استعمال کیے جاتے ہیں ۔اگر کیمیائی اجزاء استعمال نہ کیے جائیں تو چینی کی اتنی شفاف رنگت نہیں ہو سکتی ۔

چینی زیادہ کھانے کے باعث اس کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہورہا ہے ۔
ہمارے ہاں گنّا بکثرت کاشت کیا جاتا ہے ۔آپ موسم سرما میں کسی دیہاتی علاقے میں چلے جائیں تو گنّے کے لہلہاتے ہوئے کھیت نظر آئیں گے ،مگر یہ سب تجارتی بنیادوں پر کاشت کیا جاتا ہے ،جب کہ پہلے صرف گھریلو استعمال کے لیے کاشت کیا جاتا تھا۔اب کسان تجارتی بنیادوں پر کاشت کرکے بڑا منافع کمارہے ہیں ۔


شوگر ملوں کی کثرت کے باعث گنّے کی مانگ بڑ ھ چکی ہے ۔اس کی قیمت بہت زیادہ ہو گئی ہے ۔اگر کچھ لوگ گنّے سے گُڑ اور شکر بناتے ہیں تو وہ گھر یلو استعمال کے بجائے تجارتی بنیادوں پر افغانستان بھیج دیتے ہیں ۔اس طرح گُڑ کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں ۔اس وقت جتنے بھی شربت بازار میں دستیاب ہیں ،سب مصنوعی چینی سے تیار کردہ ہیں ۔

دیکھنے میں تو یہ بھلے لگتے ہیں ،مگر حقیقت میں میٹھا زہر ہیں اور لوگ پی رہے ہیں۔
گُڑیا شکر سے بنائی گئی چائے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے ۔یہ نہ صرف لطف دیتی ہے ،بلکہ نظام ہضم کی اصلاح بھی کرتی ہے ۔پہاڑی علاقوں کے رہنے والے اب بھی گُڑ او ر شکر کی چائے بناتے اور پیتے ہیں ۔موسمِ برسات میں گُڑ کی روٹیاں بہت لطف دیتی ہیں ۔موسمِ سرما میں دیہات میں تِلوں اور السی کو بھون کر ،پھر اس میں گُڑ ملا کر لڈو بنا کر کھائے جاتے تھے ۔

اس میں گھی کی آمیزش لطف دوبالا کردیتی ۔اسی طرح چنے اور مکئی کو بھون کرگُڑملا کر دوستوں اور مہمانوں کو کھلایا جاتا تھا۔یوں نہ صرف ہر عمر کے لوگ اس سے لطف اندوز ہوتے ،بلکہ جسم کو حرارت پہنچا کر کئی امراض سے محفوظ بھی رہتے تھے ۔
مذکورہ بالااشیا کا کھانا موسم سرما میں سردی کی شدت سے محفوظ رکھتا ہے ۔مگر اب طرزِ زندگی میں تبدیلی آچکی ہے۔

ان صحت بخش غذاؤں کے بجائے مہمانوں کی خاطر مدارت چینی سے بنی ہوئی چائے اور مٹھائیوں سے کی جاتی ہے اور ہر کوئی اس کے نقصانات جاننے کے باوجود کھاتا ہے ،یہاں تک کہ دیہی علاقوں میں گُڑ کی جگہ رنگ برنگی مٹھائیاں تواضع کے لیے پیش کی جاتی ہیں ۔
گزر ے وقتوں میں دیسی طب کے ماہرین برسوں پرانا گُڑ نسخوں میں استعمال کرتے تھے ،کیوں کہ گُڑ جس قدر پراناہوتا ہے ،اس کی افادیت بڑھ جاتی ہے ۔

سفید چینی کے باعث مٹاپے اور ذیابیطس کے امراض میں بہت اضافہ ہوا ہے ۔دیہات کے لوگ گُڑ کھاتے تھے ،اس لیے ذیابیطس کے مرض سے محفوظ رہتے تھے ۔گُڑ کئی امراض کے علاج کے لیے بھی کھایا جاتا ہے ۔پرانا گُر کھانسی اور دمے کو دور کرنے کے لیے بھی مفید ہے ۔پہلے وقتوں میں لوگ ہاضمے کے لیے کھانے کے بعد تھوڑا ساگُڑ کھاتے تھے۔پرانا گُڑ قبض ختم کرنے کے لیے بہت فائدہ مند ہے اور کوئی اس کامتبادل نہیں ہے ۔


اطبّا معجون کو گُڑ کے شیرے میں تیار کرتے ہیں ۔اس طرح اس کی افادیت بڑھ جاتی ہے ۔گُڑ انسان کے اعصابی نظام کو طاقت بخشتا اور بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے ۔کپڑے کی ملوں اور کپاس کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے لوگ کام ختم کرکے گُڑ کھاتے ہیں ۔یوں معدے کے اندر داخل ہونے والے روئی کے ذرّات اور مضرِ صحت کیمیائی اجزاء جسم سے خارج ہو جاتے ہیں ۔

گُڑ کی چائے بچوں کی کھانسی اور بلغم کے اخراج میں مفید ہے اور معدے کو بھی درست رکھتی ہے ۔
گُڑ اور شکر میں وہ تمام اوصاف موجود ہیں ،جوگنّے کے رس میں ہوتے ہیں ،بہ شرطے کہ کسان اس کو سفید کرنے کے لیے بے تحاشا سوڈا اور دوسرے کیمیائی اجزاء استعمال نہ کرے۔اگر بے تحاشا سوڈا اور کیمیائی اجزاء سے گُڑ کو سفید کیا جائے تو یہ مضرِ صحت ہو جاتا ہے ۔

گُڑ کی میل کاٹنے کے لیے بھنڈی کارس بہتر ہوتا ہے ۔اس طرح گُڑ بھی صاف اور شفاف ہو جاتا ہے اور مضر صحت بھی نہیں ہوتا۔
گُڑ میں خشک میوے شامل کرکے تھوڑا سا دیسی گھی ملا کر موسم سرما میں کھانا مفید ہے ۔اگر چہ اس گُڑ کی رنگت سیاہی مائل ہوتی ہے ،مگر افادیت اور مزہ بہت ہوتا ہے ۔طبِ یونانی کی رُو سے گُڑ جسم کو موٹا کرتا ہے ۔
گنّے کے رس کو خوب پکا کر جما لیا جاتا ہے اور جب کچھ ٹھنڈا ہو جائے تو ہاتھوں سے مل کر سفوف بنانے سے سرخ شکر تیار ہو جاتی ہے ۔

طب کے ماہرین کے مطابق روزانہ پچاس گرام تک گُڑ کھانا کافی ہوتا ہے ۔
گُڑ کا رنگ گولڈن براؤن سے گہرا براؤن ہوتا ہے ۔عام خیال یہ ہے کہ ہلکے رنگ کو گُڑ بہتر معیار کا ہوتا ہے ۔اسی وجہ سے گُڑ بنانے والے کئی طرح کے رنگ کاٹ کیمیائی اجزاء ڈال کر اس کا رنگ ہلکا پیلا کر دیتے ہیں ،جب کہ یہ صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا۔گُڑ بنانے کے عمل کے دوران کچھ حیاتین اور نمکیات ضائع ہو جاتے ہیں ،مگر چینی کے مقابلے میں یہ پھر بھی مفید ہے ،کیوں کہ اس میں پروٹین ،حیاتین اور نمکیات ہوتے ہیں ۔


100گرام گُڑ میں حرارے 383،کیلسےئم80ملی گرام ،میگنیزےئم112ملی گرام،پوٹا شےئم 453ملی گرام،زنک(جست)30ء گرام ،مینگنیز15ء ملی گرام ،نایاسن (NIACIN) 90ء ملی گرام ،نشاستے 95ملی گرام،فولاد 3ملی گرام ،فاسفورس 40ملی گرام ،سوڈےئم 27ملی گرام،تانبا50ء ملی گرام ،سیلینےئم 871ء ملی گرام اورحیاتین ب 6(وٹامن بی)670ء ملی گرام ہوتی ہے ۔
گُڑ موسم سرما میں جسم کو غذائیت کے ساتھ ساتھ حرارت بھی فراہم کرتا ہے ۔

جسم سے فاسد مادّوں کا اخراج اور تھکن دور کرتا ہے ۔اعصاب کو سکون دیتا اور مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے ۔آدھے سر کا درد اورخون کی کمی دور کرنے میں مفید ہے ،البتہ موٹے افراد اور ذیابیطس کے مریض اسے نہ کھائیں ۔گُڑ کو ہمیشہ خشک اور ٹھنڈی جگہ یا ہوا بند مرتبان میں محفوظ رکھیں ۔یہ ایک سال تک کھانے کے قابل ہوتا ہے ۔

تاریخ اشاعت: 2019-02-07

Your Thoughts and Comments