بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتاملی منہ میں پانی بھر دینے والا لذیذ پھل

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
املی منہ میں پانی بھر دینے والا لذیذ پھل
کاربوہائیڈریٹ’شکر‘ ڈائٹری فائبر’فیٹ‘پروٹین‘وٹامنز کیلشیم فولاد میگنیشیم فاسفورس پوٹاشیم سوڈیم اور زنک سے بھرپور اس پھل کی خوبیاں بیشمار ہیں۔ کیلوریز پر نظر رکھنے والوں کے لیے املی مناسب نہیں ایک کپ املی سترہ چمچے کے برابر شکر پائی جاتی ہیں اس کے باوجود اسے زائد شکر پر مبنی غذا نہیں سمجھا جاتا ہے۔
نسیم حسین:
املی برصغیر پاک و ہند میں بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں املی کو عربی میں ثمر ہندی کہا جاتا ہے ،جہاں سے اس کا انگریزی نام Tamarind پڑا،اس کا نباتاتی نام Tamarinus Indida ہے ماہرین کے مطابق املی افریقہ سے تعلق رکھنے والا پھل جس پیداوار دنیا میں سب سے زیادہ اب بھارت میں ہوتی ہیں،جو پونے تین لاکھ ٹن سالانہ ہے،املی افریقہ میں سوڈان ،کیمرون،نائجیریا میں پیدا ہوتی ہیں اس کے علاوہ اومان کے ایسے پہاڑوں میں پیدا ہوتی ہیں جو سمندر کی جانب ہیں املی افریقہ سے لیکر جنوبی ایشیا شمالی اسٹریلیا اوشیانا جنوب مشرق ایشیا،تائیوان اور چین میں بھی پیدا ہوتی ہیں . 16 صدی میں املی کو میکسیکو میں اس کے بعد جنوبی امریکا میں اسے متعارف کروایا گیا۔پوری دنیا میں برصغیر کے علاقائی کھانے بنانے والے علاقوں میں املی کوبہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے یعنی ساؤتھ ایشین کو زینز کی تیاری میں املی کو کھانوں کے بنیادی اجزاء میں بطور خاص استعما ل کیا جاتا ہے املی طویل عرصے تک زندہ رہنے والا پھل ہے املی کٹارے کی صورت میں سبز اور انتہائی کھٹی جبکہ پکنے کے بعد کھٹی میٹھی اوت میرون مائل رنگت اختیار کرلیتی ہیں اس میں ٹارٹرک ایسڈ شکر وٹامن B اور کیلشیم پایا جاتا ہے املی کا عام درخت سالانہ 175 کلو گرام کے قریب پیداوار دیتا ہے لاطینی امریکا میں املی کو Tamarindo کے نام سے پکارا جاتا ہے املی کے بیج برسوں پیداوار دینے کے قابل رہتے ہیں املی میں کاربوہائیڈریٹ شکر،ڈائٹری فائبر،فیٹ،پروٹین،مختلف وٹامنز مثلا تھیامائن،ریبوفلاون،نیاسن،پینٹو تھینک ایسڈ،فولیٹ،چولین،وٹامن C ،وٹامن E ، وٹامن K کے علاوہ معدنیات میں کیلشیم فولاد میگنیشیم فاسفورس پوٹاشیم سوڈیم اور زنک پایا جاتا ہے املی کٹارے کی صورت میں نہایت کھٹی ہوتی ہیں اور اس کا کھانا بہت مشکل ہے البتہ کٹارے کا اچار بہت لذیذ ہوتا ہے،پکنے کے بعد املی مختلف مشروبات اچار،چٹنی،اور کھانوں میں استعمال ہوتی ہیں کچھ ممالک میں اسے ٹینگی ڈیزرٹس اور جام وغیرہ کی تیاری میں شامل کیا جاتا ہے،ایران سمیت کچھ ممالک میں املی کو گوشت کے سالن میں پکایا جاتا ہے،املی کو مختلف بیماریوں مثلاً ڈائریا،قبض،بخار اور السرکے خاتمے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے املی کی ٹہنیاں اور پتے زخموں کو مندمل کرنے کے کام آتے ہیں ماڈرن ریسرچز میں املی کو مختلف ادویات کیلئے موزوں موزوں قرار دیتے ہوئے اس کا استعمال بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے،ثمر ہندی میں ہندی کھجور کہلانے والی املی میں اینٹی اکسیڈنٹس اور اینٹی انفلیمٹری عناصر پائے جاتے ہیں جو مختلف امراض مثلاً امراض قلب سرطان اور ذیا بیطس سے محفوظ رکھتے ہیں۔املی کے بیج کا عرق نکال کر کم بلڈ پریشر کو نارمل سطح پر لائے جانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔املی کا گودا وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے یہ جگر پہ چربی سے ہونے والی بیماریوں کو کم کرتی ہیں۔ایک کپ املی کو 69 گرام کاربوہائیڈریٹ پایا جاتا ہے جو شکر ہی کی ایک قسم ہے اور یہ مقدار شکر کے ساڑھے سترہ چمچوں کے برابر بنتی ہیں شکر کی اتنی زیادہ مقدار کے باوجود املی کو زائد شکر پر مبنی غذا نہیں سمجھا جاتا بہت سے پھلوں کے مقابلے میں املی میں کیلوریز خاصی زیادہ مقداد میں پائی جاتی ہیں اور ان لوگوں کے لیے اس کا استعمال مناسب نہیں جو کیلوریز پر نظر رکھتے ہیں جیسا کہ پہلے بتایا گیا املی دل کے امراض کے لیے نہایت مفید ہے اس میں مختلف پولی فینولز مثلا فلیوونائیڈ پایا جاتا ہے جو خاصی حد تک کولیسٹرول کو ریگولیٹ کرتا ہے ایک تحقیق کے مطابق املی کو عرق جسم میں خراب کولیسٹرول یعنی LDL کو کم کرتا ہے املی میں پایا جانے والا میگنیشیم جسم کے 600 افعال کو بہتر بنانے کے لیے مفید ہے۔یہ بلڈپریشر کوکم کرتا ہے اور اس میں اینٹی انفلیمیٹری اور اینٹی ڈائے بیٹک اثرات میں موجود ہوتے ہیں املی میں قدرتی اینٹی مائیکرو بیل اثرات میں موجود ہوتے ہیں ،اس کے علاوہ یہ اینٹی فنگل اینٹی وائرل اور اینٹی بیکٹریل بھی ہے اس روایتی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے جس میں میلیریا شامل ہے،یوں کہہ سکتے ہیں کہ املی بیکٹیریا وائرل انفیکشن بیماریوں کے خاتمے کیلئے بہترین ہے پورے جنوب مشرق ی ایشیاء میں املی کا لیپ بخار اُتارنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔جہاں تک املی کو بطور غذا استعمال کرنے کا تعلق ہے یہ بھارت مشرقی وسطیٰ اور جنوب مشرقی اشیا کے کھانوں میں خاصی استعمال ہوتی ہیں۔املی کے گودے کو پانی میں تھوڑی دیر بھگونے کے بعد اس کا گودا حاصل کیا جاتا ہے جو کئی کھانوں میں استعمال ہوتا ہے ،بھارت میں رسم چٹنی اور دال کی تراکیب میں استعمال ہوتی ہیں،ہاٹ اینڈ سارسوپ میں بھی املی کو شامل کیا جاتا ہے۔املی میں کھجور،شکر،شہد،دارچینی،لونگ،اور ہرادھنیا ملا کر ایک مشروب تیار کیا جاتا ہے جو نہایت لذیذ اور فرحت بخش ہوتا ہے ،املی کو کنفیکشنرئز اشیاء کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے ۔املی کو ریفریجریٹر میں رکھنے سے یہ کئی ماہ استعمال کے قابل رہتی ہیں۔
املی کے درخت کی لکڑی: املی کے درخت کی لکڑی سرخی مائل ہوتی ہیں اور اس لکڑی کو خاصا مضبوط مانا جاتا ہے اس لکڑی سے فرنیچر کے علاوہ فرش بھی تیار کیا جاتا ہے املی کی لکڑی سے تیار کردہ فرنیچر خوبصورت‘پائیدار اور دلکش ہوتا ہے۔
میٹل پالش: بدھ مت کے ماننے والے اپنی عبادت گاہوں میں لگے مجسموں‘لیپ وغیر ہ چمکانے کے لیے املی کو بطورپالش استعمال کرتے ہیں۔املی بطور پالش پیتل،تانبہ اور دیگر دھاتوں کے لیے بھی مفید ہے یہ تانبے کے برتنوں پر لگے فیروزی زنک کو بہت اچھی طرح صاف کرتی ہیں عبادت گاہوں میں موجود دیگر متبرک اشیاء بھی املی سے صاف کرنے کا صدیوں پرنا رواج آج بھی ایشیائی ممالک میں زندہ ہیں۔
بون سائی: یوں تو املی کا پھل کھانے کے کام بھی آتا ہے اور اس کی تجارتی کاشت بھی ہوتی ہیں لیکن املی کے درخت کو بون سائی تکنیک کے ذریعے چھوٹے چھوٹے درختوں میں اُگایا جاتا ہے یہ خاصا گراں قیمت درخت سمجھا جاتا ہے املی کے درخت سے تیار کردہ بون سائی انڈور پلانٹ کے طور پر بھی پسند کیا جاتا ہے۔

(1) ووٹ وصول ہوئے