بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتخربوزہ :صحت دوست مفید پھل

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خربوزہ :صحت دوست مفید پھل
خربوزے کارسیلا میٹھا ذائقہ ہائی کیلوریز کے حامل اسنیکس اور ڈیزرٹ کا بہترین متبادل اور بے شمار غذائی افادیت کی بدولت ڈائٹنگ کرنے والوں کیلئے آئیڈیل اسنیک ثابت ہوسکتا ہے
شاہانہ دلشاد:
ٹھنڈے میٹھے خربوزے کی پھا نکیں ہر کسی کے لیے پسندیدہ ہوتی ہیں۔بچے بڑے اور بوڑھے افراد سب ہی اس خوش ذائقہ پھل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔یہ عموما گولائی کی شکل میں لیکن قدرے چینی بال کی طرح دکھائی دیتا ہے۔پکا ہوا تازہ خربوزہ مٹھاس سے بھرپور ہوتا ہے۔اس میں پانی کی تقریبا 95فیصد مقدار موجود ہوتی ہے جبکہ یہ وٹامنز اور منزلز سے بھی بھر پور ہے۔
اس میں موجود پانی کی وافر مقدار ٹھنڈک کااحساس دیتی اور پیاس کی شدت میں کمی لاتی ہے یہی وجہ ہے کہ اسے سینے کی جلن دور کرنے اور گردوں کی قدرتی طور پر صفائی کے لیے بھی مفید مانا جاتا ہے۔ خربوزے کی جوسی مٹھاس پیاس کا احساس ختم کردیتی ہے۔یہ مختلف شکل سائز اور رنگ میں دستیاب ہوتا ہے مگر ان سب میں دو چیزیں یکساں ہوتی ہیں ایک نرم مٹھاس سے بھر پور سیلا گودااور دوسرا اس کا مزید ذائقہ اس وجہ سے کسی کے لیے بھی اسے کھانے سے انکار کرنا مشکل ہوتا ہے۔اس میں موجود فائبر کی وجہ سے کھانے کے بعد شکم سیری کا احساس ہوتا ہے۔لہٰذا یہ ڈائٹنگ کر نے والوں کے لیے ایک بہترین اسنیک ثابت ہوسکتا ہے۔اس میں موجود رسیلا میٹھا ذائقہ ہائی کیلوریز والے اسنیکس اور ڈیزرٹ کا ایک بہترین متبادل ہے۔
خربوزے کی غذائی افادیت بھی بے شمار ہیں۔اس میں انتہائی کم کیلوریز ہوتی ہیں یعنی ایک کپ خربوزے میں صرف64 کیلوریز ہوتی ہیں۔یہ وٹامنز اور منزلز سے بھر پور ہوتا ہے اس میں چکنائی تقریبا نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جو اسے ایک کے لیے ایک بہترین انتخاب بناتا ہے۔خربوزے میں کیلشیم 15ملی گرام فاسفورس 25گرام آئرن 0.5ملی گرام وٹامن34C ملی گرام وٹامن A 640 ملی گرام اور وٹامن 0.03B1 ملی گرام پائی جاتی ہے۔خربوزہ خون میں کلوٹ بننے جوکہ ہارٹ ٹیک کا سبب بنتا ہے کے عمل کوروکتا ہے۔یہ Gourd کی بائیو لوجیکل فیملی سے تعلق رکھتا ہے جس میں کھیرا بھی شامل ہے جبکہ تربوز بھی اس فیملی کاحصہ ہے۔
شفائی افادیت وخصوصیات:
اس کا شمارگوکہ سستے اور عام پھلوں میں ہوتا ہے لیکن افادیت کے لحاظ سے یہ پھل بے مثال ہے کیونکہ اس میں پوٹاشیم کی کافی مقدارپائی جاتی ہے لہٰذا یہ بلڈپریشر کنٹرول کرنے اور دل کی دھڑکن کو اعتدال میں لانے کے لیے بے حد معاون ہے۔
تحقیق کے مطابق بیٹا کیروٹین اور وٹامن C مل کر کینسر اور امراض قلب دور کرنے کے لیے مئوثر ہیں۔خربوزے کے شفائی اثرات اینٹی اسٹروک دافع امراض قلب صحت مند جلد کے حصول ایکزیما سینے کی جلن اور گردوں کے بیشتر امراض میں مفید ہیں۔یہ قبض کشااور پیشاپ آور ہے جس کی وجہ سے جسم سے کئی زہریلے مادے خارج کرنے میں بھی معاون کرتا ہے۔یہ گردے اور مثانے کی پتھری دور کرنے کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔
اینٹی کینسر:
خربوزے میں کیروٹینائڈ کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے جو کہ کینسر سے بچاؤ میں مفید ہے خصوصأٴ پھیپھڑوں کے کینسر میں کیو نکہ خربوزے میں موجود دافع سرطان اجزا سرطانی خلیات کو ختم کرتے ہیں جو جسم پر اثرانداز ہورہے ہوتے ہیں۔کینسر سے دور رہنے کے لیے خربوزے کا ستعمال ضرور کریں۔
صحت مند جلد کے حصول میں معاون:
خربوزہ جلد کو صحت مند رکھتا ہے کیونکہ اس میں موجود اہم جز کولاجن جلد کو خوبصورت اور جھریوں سے پاک بناتا ہے جبکہ اس میں موجود پروٹین کمپاؤنڈ ٹشوز کو ایک دوسرے سے جڑا رکھنے میں بھی مددگا ہوتے ہیں۔
اگر نقاہت کی وجہ سے چہرے کی دلکشی کم ہوگئی ہویا آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ گئے ہوں اور خون کی کمی بھی ہوتو کچھ عرصہ مستقل خربوزہ استعمال کرنے سے چہرے پر بشاشت آجاتی ہے اور دبلاپن دور ہو جاتاہے۔خربوزے کے گودے کا پیسٹ بنا کر چہرے پر ماسک کی طرح لگانے سے چند روز میں رنگت نکھرجاتی ہے۔اگر آپ کی جلد رف اور ڈرائی ہوتو اپنی روز مرہ خوراک میں خربوزے کا اضاف لازمی طور پر کر لیں۔
سینے کی جلن میں مفید:
اس میں موجود90 فیصد پانی تسکین کا احساس دیتا ہے یہ سینے کی جلن دور کرنے میں بے حد معاون ہے اس میں وٹامن Aاور وٹامنB اور وٹامن C کے علاوہ پروٹین، کیلشیم اور فاسفورس کی بھی بڑی مقدار ہوتی ہے خربوزہ کھانے سے پہلے کھانا زیادہ بہتر ہوتا ہے یعنی آپ اسے صبح ناشتے کے بعد یا شام کے وقت بھی لے سکتی ہیں البتہ خالی پیٹ اس کا ستعمال صحیح نہیں ہے۔
ہاضمے کے لیے بہترین:
آپ لنچ ٹائم میں خربوزے کے ایک پیالے سے اپنی غذائی ضرورت بآسانی پوری کر سکتی ہیں۔ جب کبھی آپ کو ایسا محسوس ہو کہ آپ کا ہاضمہ ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہا ہے تو آپ خربوزے کو اپنی خوراک بنائیں۔پانی سے بھر پور خربوزہ ہاضمے کے کیے بے حد بہترین ہے اس میں موجود منرلز خوراک ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔یہ معدے کے لیے ایک زودہضم غذا ہے جوکہ غذائیت سے بھی بھر پور ہے۔
امراض قلب کے لیے موثر:
خربوزے میں موجود ایک جز خون میں تھکے Clotting بننے کے عمل کو روکتا ہے جو کہ ہارٹ اٹیک ہونے کی ایک بڑی وجہ ثابت ہوتا ہے اور دیگر پیچید گیوں کی وجہ بھی بنتا ہے ۔ خربوزے کے استعمال سے دوران خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور دل کو اپنی کار کردگی برقراررکھنے میں مدد ملتی ہے۔
گردوں کے امراض میں مفید:
خربوزے میں بہترینDiuretic Power موجود ہوتی ہے لہٰذا یہ گردوں کی مختلف بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بیماری سے ہونے والی پیچید گیوں سے بھی بچاتا ہے۔اس کے استعمال سے گردوں کی کار کردگی بہتر رہتی ہے۔آپ اس کے ساتھ لیموں کارس بھی استعمال کر سکتی ہیں اس کے ساتھ یہ یورک ایسڈ کے مسائل سے بچانے میں بھی معاون ہوگا۔اس کے فوائد سے صحیح طور پر مستفید ہونے کے لیے ہر روز ایک بار دن کے آغاز میں اس کااستعمال ضرور کریں۔
فوری توانائی کا حصول:
خربوزے میں مختلف وٹامنز کے ساتھ وٹامن B کی بھی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے جو کہ جسم میں توانائی پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہے یعنی یہ نشاستہ اور شکر کے جزوبدن بننے کے عمل کے لیے ضروری ہے لہٰذا خربوزہ کھانے سے آپ کو توانائی ملتی ہے اور بشاشت کا احساس ہوتا ہے۔
وزن کم کرنے میں معاون:
خربوزہ ان لوگوں کے لیے ایک آئیڈیل فروٹ ہے جو کہ اپنا وزن گھٹانے کے خواہش مند ہوتے ہیں کیونکہ اس میں سوڈیم کی انتہائی کم مقدار ہوتی ہے چکنائی فیٹ بالکل نہیں ہوتی ،یہ کولیسٹرول فری بھی ہے اور اس میں کیلوریز کی بھی انتہائی کم مقدار ہوتی ہے لہٰذا اسے کھانے سے بھوک کا احساس ختم ہوجاتا ہے اور شکم سیری محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس میں پانی کی وافرمقدار پائی جاتی ہے۔
اگر آپ میٹھا کھانے کی خواہش مند ہیں تو خربوزے سے لطف اندوز ہوں اس میں موجود قدرتی مٹھاس آپ کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے آپ کو کینڈیز اور ہائی کیلوریز والی سوئیٹ ڈشز سے دوررکھتی ہے۔
بہترین بے بی فوڈ:
چھوٹے بچوں کے لیے خربوزہ ایک بہترین خوراک ہے۔نارمل صحت مند بچے کو 6ماہ کی عمر سے خربوزے کی ایک پھانک دی جاسکتی ہے۔بچوں کو خربوزہ دیتے ہوئے خصوصا صفائی کا بے حد خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے خربوزے کوصاف ہاتھوں سے دھونے کے بعد صاف چھری اور برتن کا استعمال کریں اور کانٹے سے پہلے اچھی طرح دھولیں ۔کانٹے کے بعد زیادہ دیر تک رکھا ہوا خربوزہ بچوں کو استعمال نہ کروائیں ۔خربوزے کا چھلکا اتار کر بچوں کو پھانک کھانے کے لیے دیں۔کچھ بچوں کو خربوزہ کھانے سے یا اس کا رس منہ کے اطراف میں لگنے سے الرجک ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے منہ کے اردگرد خارش محسوس کر سکتا ہے یا شدید الرجی کی صورت میں دمے کا شکار ہوسکتا ہے لیکن یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے اور عموما خربوزہ کھانے سے بچوں کو ایسی کوئی شکایت نہیں ہوتی البتہ صفائی کا خیال رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ کسی بھی قسم کا بیکٹیر یا اس کے ذریعے بچوں کے پیٹ میں نہ پہنچ جائے۔
خربوزہ صرف رسیلا اور مزید ار پھل ہی نہیں ہے بلکہ بچوں کی خوراک میں اس کا اضافہ کی غذائیت بخش خوراک میں ایک بہترین اضافہ بھی ہے اور اس کے ذریعے آپ اپنے بچے کو بہت اہم غذزائی اجزأ مہیا کر سکتے ہیں ۔اس میں موجود بیٹا کیروٹین وٹامن Cپوٹاشیم فائبر،فولیٹ، وٹامن B6 اور نیاسن بچوں کی جسمانی نشوونما میں مدد گار ہونے کے ساتھ مختلف بیماریوں سے بچاؤ میں بھی مدد گار ہوتا ہے جبکہ اس میں لا ئیکو پین کی بھی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔بیٹا کیروٹین جسم میں جانے کے بعد وٹامن A میں تبدیل ہوجاتے ہیں جو کہ بہتر بصارت کے لیے ضروری ہے۔
بچوں کو ہمیشہ پکا ہوا خربوزہ دیں اور اس بات کا خیال رکھنے کے باعث موسم گرم میں بشاشت اور فروحت کا احساس بھی دیتا ہے اور جلد ہضم ہوجاتا ہے۔آپ بچے کو دئیے جانے والے سیریل میں خربوزہ میش کر کے شامل کر سکتی ہیں جبکہ بڑے بچوں کے لیے خربوزے کے کیوب یا قاشیں کاٹ کر دینا بھی مناسب رہتا ہے۔خربوزے کو کیلے کے ساتھ میش کر کے بھی بچوں کو کھلایا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ کاٹیج چیز کا امتزاج بھی بچوں کو بے حد بھاتا ہے۔خربوزے کے کیوب کاٹ کر اس میں فریش کریم یا بالائی ڈال کر بھی بچوں کو دیے جاسکتے ہیں اور یہ یقینا بچوں کے لیے ایک من پسند غذا ثابت ہوگی۔اسے شام کے وقت اسنیکس یا فنگر فوڈ کے طور پر بچوں کو کھانے کے لیے دیں اور ان میں غذا کے حوالے سے صحت مند،رجحان پروان چڑھائیں۔جن بچوں کے دانت نکل رہے ہوں تو مسوڑھوں کو پر سکون رکھنے کے لیے خربوزہ فریج میں رکھیں اور پھر سلائس کاٹ کر بچے کو کھانے کے لیے دیں یہ ایک قدرتی Teether کا کام دے گا اور بچے کے لیے اس کا ذائقہ بھی پر لطف ہوگا۔اگرآپ بچوں کو خربوزہ کھانے کے لیے دیں توزیادہ بہتر ہوگا کہ خربوزہ کاٹنے کے بعد ریفریجر یٹر میں رکھ کر ٹھنڈا کرنے کے بجائے پہلے خربوزہ ثابت ریفریجر یٹر میں رکھ دیں اور جب خوب ٹھنڈا ہوجائے تو اس دھوکر کاٹین اور چھیل کر بچوں کو کھانے کے لیے دیں یہ طریقہ بچوں کو مضر صحت بیکٹیریا وغیرہ سے دور رکھنے کے لیے زیادہ محفوظ رہتا ہے۔
انتخاب اور اسٹوریج:
جب بھی آپ خربوزہ خریدنے کے لیے جائیں تو اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ پیلے رنگ کے ہموار قدرے چمکدار چھلکے رکھتے ہوں ان پر کوئی دھبانہ ہونہ ہی یہ کہیں سے پھٹا ہو اہو۔اس کے علاوہ اگر خربوزہ دیکھنے میں دبا ہوا یا کسی جگہ سے نرم محسوس ہو تو ایسا خربوزہ بھی نہیں خریدنا چاہیے۔
ایسے خربوزے کا انتخاب کریں جو کہ ٹھوس محسوس ہو اور گہری پیلی رنگت رکھتا ہو ایسا خربوزہ خوش ذائقہ اور زیادہ جوسی ہوتا ہے۔خربوزے کی مخصوص خوشبو بے حد خوشگوار ہوتی ہے۔پکاہوا تازہ خربوزہ زیادہ تیز مہک رکھتا ہے۔خربوزے کو تقریبا ایک ہفتے تک ریفر یجریٹر میں رکھا جاسکتا ہے۔لیکن کاٹنے کے بعد خربوزے کو جتنی جلدی ممکن ہوکھا لینا چاہیے ورنہ فوڈپوائزننگ کاخدشہ ہوسکتا ہے۔اس کے علاوہ خربوزہ کھا کر فورأٴپانی نہیں پینا چاہیے۔ایسے خربوزے جن کے چھلکے کا رنگ پیپر وائٹ ہو یا سبزی مائل سفید ہو وہ بد مزہ پھیکے اور کچے ہوتے ہیں لہٰذا انہیں خریدنے سے اجتناب کریں۔ایسا خربوزہ جس کا چھلکا ہموار اہو اور مرجھایا ہوا محسوس نہ ہو وہ زیادہ بہتر انتخاب کر سکتا ہے۔خربوزہ خریدنے کے بعد اسے 4-5 دن کے اندر اندراستعمال کر لینا چاہیے۔ان کے اندر موجود بیج جوکہ ایک چھوٹی لچھے دار گیند کی صورت میں موجود ہوتے ہیں نکال کر الگ کر لینے چاہئیں،آپ ان بیجوں کو دھوکر خشک کر لیں تو ان کے مغز ایک بہترین اسنیک کے طور پر استعمال کیے جاسکتے ہیں جوکہ کئی لحاظ سے فائدہ مند بھی ہیں۔
مزیدار سرونگ ٹپس:
بہت سے لوگ خربوزے کی قاشیں نہایت ٹھنڈی کر کے کھانا پسند کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اسے روم ٹمپر یچر پر بھی کھانا پسند کرتے ہیں لیکن اگر آپ اس کے ذائقے سے مکمل طور پر لطف اندوز ہونا چاہتی ہیں تو اسے خوب ٹھنڈا کر کے استعمال کریں یہ فرحت کے احساس کے ساتھ آپ کو بہترین ذائقہ دے گا۔آپ اس کا ستعمال فروٹ سیلڈمیں بھی کر سکتی ہیں اس کی بالز ڈیزرٹ کی ٹاپنگ کے لیے بہترین ہیں۔آپ ان پر فریش کریم ڈال کر اور ٹوتھ پک لگا کر بچوں کو ایک مزیدارا اسنیک کے طور پر بھی دے سکتی ہیں۔موسم گرما میں ان کا ستعمال بے انتہا مفید ہے پودینے کے چند پتے چوپ کرکے خربوزے کی قاشوں پر گارنش کرلیں اور سروکریں یہ ذائقے میں اضافے کا باعث ہوگا۔اس کے علاوہ آپ اس پر لیموں کارس چھڑک کر بھی ایک نئے فلیور سے روشناس ہوسکتی ہیں اور ساتھ ہی یہ غذائی اعتبار سے بھی نہایت مفید ثابت ہو گا۔
میلن فروٹ سیلڈ:
ضروری اشیاء:
خربوزہ (کیوب کٹے ہوئے) 1کپ
پائن ایپل1کپ
(کیوب کاٹ لیں)
انگور1/2کپ
اور نج مارملیڈ1/2کپ
لیمن جوس4کھانے کے چمچے
اورنج جوس4کھانے کے چمچے
ترکیب:
پیالے میں اورنج مارملیڈ، لیمن جوس اور اورنج جوس ڈال کر اتنا مکس کریں کہ یکجاں آمیزہ تیار ہوجائے۔
شیشے کے باؤل میں خربوزہ پائن ایپل اور انگور ڈال کر مکس کریں اور اوپر اورنج مارملیڈ کا آمیزہ ڈال کر مکس کریں اور ریفریجریٹر میں رکھ دیں۔خوب ٹھنڈا کرکے سرونگ باؤل میں نکال کر سرو کریں۔ (آپ اس میں حسب پسند پھلوں کا اضافہ بھی کر سکتی ہیں۔)
میلن یوگرٹ اسموتھی:
ضروری اشیاء:
خربوزہ4کپ
(کیوب کٹے ہوئے)
شہد2کھانے کے چمچے
پودینے کے پتے 2کھانے کے چمچے
(چوپ کیے ہوئے)
دہی2کپ
دار چینی پاؤڈر1/2چائے کا چمچہ
برف حسب پسند
(چورا کر لیں)
ترکیب:
فوڈپروسیسر میں خربوزہ شہد اور پودینے کے پتے ڈال کر ہلکا سا بلینڈ کریں،دہی اور دارچینی ڈال کر ہموار آمیزہ بن جانے تک بلینڈ کریں۔سرونگ گلاس میں نکال کر برف کا چوراڈال کر سروکریں۔

(7) ووٹ وصول ہوئے