Mausam Garma Ke Mazay Daar Mashrobat

موسم گرما کے مزے دار مشروبات

Mausam Garma Ke Mazay Daar Mashrobat

شیخ عبدالحمید عابد
موسم گرما میں تیزی سے بہنے والا پسینا جسم میں پانی کی کمی پیدا کرتا ہے اور اس طرح نمکیات کا توازن بگڑ جاتا ہے ۔گرمیوں میں بھوک کے بجائے پانی کی طلب بڑھ جاتی ہے ۔جولوگ گرمی میں سخت محنت کا کام کرتے ہیں ،انھیں پیاس بجھانے اور لُو سے بچنے کے لیے تسکین وتوانائی بخش مشروب کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔کم قیمت دیسی مشروب پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ گرمی کا توڑ بھی کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر مشروبات کو انتہائی آسانی سے حفظِ صحت کے اصولوں کے مطابق گھر پر بھی تیار کیا جا سکتا ہے
۔


گرمی میں شدید درجہ حرارت نہ صرف بے چینی و بے قراری اور چڑ چڑے پن کا باعث بنتا ہے ،بلکہ ہمارے جسمانی نظام کو بھی متاثر کرتا ہے ۔شدید گرمی میں نیند نہیں آتی ،نیند کی کمی سے تھکاوٹ اور کاہلی بڑھ جاتی ہے ۔

(جاری ہے)

مسالے دار کھانے اور گرم مشروبات جو عام طور پر ہمارے کھانوں کا حصہ ہوتے ہیں ،وہ درحقیقت ہمارے منھ میں موجود حرارتی آخذے(HEAT RECEPTOR)کو بیدار کر دیتے ہیں ،جس کے نتیجے میں پسینا زیادہ آنے لگتا ہے ۔

یہ پسینا ہمارے جسم کو ٹھنڈا کرنے کا کام کرتا ہے
۔
گرمیوں میں بازار کی تیار شدہ غذائیں کھانے سے بھی طبیعت میں بھاری پن کا احساس ہونے لگتا ہے ۔
جسم میں نمی کو بر قرار رکھنے اور ٹھنڈک کے احساس کے لیے موسم کے حساب سے درست غذاؤں کا انتخاب ضروری ہوتا ہے ۔یہ غذائیں جسمانی طور پر ہمیں مضبوط بناتی ہیں ۔اس موسم میں دل گرم اور روغنی غذاؤں کی طرف مائل نہیں ہوتا ،لہٰذا جسمانی کم زوری بڑھنے لگتی ہے ۔

ایسے میں اگر ہلکی پھلکی صحت بخش غذائیں کھائی جائیں اور ٹھنڈے مشروبات پیے جائیں تو پانی اور نمکیات کے ساتھ ساتھ جسم کو درکار توانائی بھی مل جاتی ہے ۔ذیل میں موسم گرما کی مناسبت سے منفرد اور مفید مشروبات کے بارے میں معلومات دی جارہی ہیں۔
لسی
لسی دہی سے بنایا جانے والا ایک روایتی پنجابی مشروب ہے ۔اس کی مختلف اقسام میں میٹھی لسی ،نمکین لسی اور دودھ کی کچی نمکین لسی شامل ہیں ۔

روایتی نمکین لسی بنانے کے لیے اُسے خوب بلویا جاتا ہے ۔بلونے کے دوران لسی میں سے مکھن نکال کر اس میں نمک شامل کرکے مزید پانی ملا کر پھر بلویا جاتا ہے اور پھر ٹھنڈا کرکے پیا جاتا ہے۔
عام طور پر پنجاب کے دیہی علاقوں میں تقریباً ہر گھر میں یہی لسی پی جاتی ہے ۔میٹھی لسی میں دہی کے ساتھ دودھ اور چینی شامل کی جاتی ہے ۔یہ عام لسی سے زیادہ گاڑھی ہوتی ہے ۔

یہ پنجاب کے شہری علاقوں میں زیادہ تر ناشتے میں پی جاتی ہے ۔کچی نمکین لسی بنانے کے لیے دودھ میں ضرورت کے مطابق پانی ملا کر اسے پتلا کر لیا جاتا ہے ،اس میں نمک شامل کرکے پیا جاتا ہے ۔جب دہی دستیاب نہ ہوتو ایسی صورت میں کچی لسی بنائی جاتی ہے۔یہ عام طور پر گرمیوں کے اوائل میں پی جاتی ہے۔
سکنج بین
لیموں کی سکنج بین موسم گرما کے آخر میں برسات کے موسم میں انتہائی مفید ہے ۔

قدرت نے لیموں کو وافر غذائی اجزا سے نوازا ہے ۔سکنج بین نمکین اور میٹھی دونوں طرح سے بنائی جاتی ہے ۔ہاضمے کے لیے لیموں کو سادہ پانی میں نچوڑ کر پینا چاہیے۔لیموں خون کی صفائی وپھوڑے پھنسیوں ،خارش اور دانتوں کی بیماری دور کرنے کے لیے فائدہ مندہے ۔بخار میں بھی سکنج بین پینا مفید ہے۔
ماضی میں مہمانوں کی خاطر تواضع عام طور پر سکنج بین سے ہی کی جاتی تھی ،لیکن اس جدید دور میں اب اکثر لوگ سکنج بین کو ایک حقیر مشروب سمجھتے ہوئے اس سے اجتناب کرتے ہیں اور اس کی جگہ مہمان نوازی کے لیے بازاری مشروبات کو ترجیح دیتے ہیں ۔

لیموں کو سوڈے میں شامل کرکے بڑے بڑے ہوٹلوں میں اسے ”فریش لائم “کے نام سے بیچا جاتا ہے ۔
گنے کا رس
گنے کا رس مشین کے ذریعے نکال کر پیا جاتا ہے ۔گنے کے رس میں لیموں ،پودینہ ،ادرک کا سفوف اور کالا نمک بھی شامل کیا جاتا ہے ،جس سے اس کا ذائقہ اور لطف دوبالا ہوجاتا ہے ۔یہ مشروب گرمی میں تقویت وتوانائی دیتا ہے۔
صندل کا شربت
یہ ایک مزے دار اور خوشبودار مشروب ہے ۔

یہ مشروب طبیعت کو فرحت بخشتا ہے ۔یہ روح کی تازگی کے لیے بے مثال شربت ہے ۔اس مشروب کو بنانے کے لیے آدھا کلو صندل کا سفوف آدھا کلو عرق گلاب میں پکالیں اور چھان لیں۔پھر چینی اور پانی کا گاڑھا شیرہ بنا کر اس میں صندل کا پانی ڈال کر ہلکی آنچ پر پکا کر ٹھنڈا کرکے رکھ لیں ۔گرمی دور کرنے کے لیے یہ بہترین مشروب ہے۔
فالسے کا شربت
فالسے کا شربت دل کی گھبراہٹ واختلاجِ قلب،پیاس کی شدت ومعدے کی کم زوری ،پیشاب کی جلن اور سینے کی جلن کو دور کرکے ٹھنڈک پیدا کرتا ہے ۔

فالسے کا شربت بناتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ فالسہ ہمیشہ پکا ہوا اور نرم ہو ۔کچا یا نہایت پکا ہوا فالسہ نقصان دہ ہوتا ہے ۔
الائچی کا شربت
چلچلاتی دھوپ میں گھر سے باہر نکلنے سے پہلے منھ میں ایک الائچی رکھ لیں ۔یہ نسخہ کلیجی ممالک میں بے حد مقبول ہے ۔زیادہ تر عرب تیز دھوپ کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے الائچی کھاتے ہیں ۔اس کے علاوہ الائچی کا شربت بھی لُو سے بچاتا ہے۔

تاریخ اشاعت: 2019-04-03

Your Thoughts and Comments