Paneer Tawanai Bakhash Bhi Mazay Daar Bhi

پنیر۔توانائی بخش بھی،مزے دار بھی

Paneer Tawanai Bakhash Bhi Mazay Daar Bhi
پنیر(CHEESE)ایک مقوی غذا اور گوشت کا عمدہ نعم البدل ہے۔اس میں روغنی اور نائٹروجنی اجزاء بہ کثرت پائے جاتے ہیں ۔اس سے معدہ اور آنتیں قوی ہوتی ہیں ۔اب اس کا کھانا ملک کے دُور دراز کو ہستانی علاقوں کے رہنے والوں کی حد تک محدود ہو کررہ گیا ہے ۔پنیر توس یا روٹی پر لگا کر کھایا جاتا ہے ،جس سے جسم میں توانائی اور حرارت پیدا ہوتی ہے۔جاڑوں کے رخصت ہوتے ہی ہر طرف زندگی جاگتی ہے ۔

درختوں پر شگوفے پھوٹتے ہیں ۔نئی گھاس زمین سے اپنا سر نکالتی ہے ۔مویشی سبزہ زاروں اور چراگاہوں کا رخ کرتے ہیں اور ایک بار پھر تازہ دودھ ،دہی خوب ملنے لگتا ہے ۔اس سے ان علاقوں کے لوگ خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ خواتین دودھ کو پھاڑ کر یا دہی کو کپڑے میں باندھ کر اس کا پانی خارج کردیتی ہیں اور بچ جانے والے ٹھوس اجزاء کو لڈوؤں کی شکل میں محفوظ کرلیتی ہیں۔

(جاری ہے)


دودھ کو پھاڑ کر تیار کیاجانے والا پنیر خانہ ساز پنیر(کاٹج چیز)کہلاتا ہے ۔ہمارے ہاں اور یورپ وغیرہ میں بھی اسے زیادہ مفید سمجھا جاتا ہے۔کھوئے کے مقابلے میں پنیر کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اسے طویل عرصے تک رکھا جا سکتا ہے ۔نیز اسے مختلف سالنوں یا سبزیوں کے ساتھ بھی ملا کر کھا سکتے ہیں ۔
پنیر بناتے وقت اس میں نمک مرچ کے اضافے سے یہ خود ایک بہترین سالن کاکام دیتا ہے ،جب کہ کھویا بالعموم مٹھائیوں کی تیاری میں کام آتا ہے ۔

پھر اسے دیر تک رکھا بھی نہیں جا سکتا۔
یورپ میں خانہ ساز پنیر ”کاٹج چیز“کے نام سے فروخت کیا جاتا ہے۔یہ برائے نام ہی”کاٹج چیز“ہوتا ہے ،کیوں کہ اب اسے پرانی ترکیب سے تیار نہیں کیا جاتا۔اسے بالائی اُترے ہوئے دودھ کو خوب اُبال کر تیار کرتے ہیں ۔اس طرح یہ بالائی میں شامل مقوی روغنی اجزاء اور حیاتین الف(وٹامن اے)سے بڑی حد تک خالی ہوتا ہے ۔

یورپ میں اس کی کئی اقسام تیار کی جاتی ہیں ،جن میں سے کچھ ہمارے ہاں بھی ڈبوں میں بند آتی ہیں اور بہت مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہیں۔
اگر آپ کو دیسی طریقے پر تیار کردہ پنیر میسر ہوتو اسے تو س یاروٹی کے ساتھ کھانے کے بجائے مختلف انداز میں استعمال کرکے اس کے فوائد حاصل کیجئے،مثلاً آپ اسے ترکاریوں کے ساتھ پکا کر کھائیں توجسم کو ضروری لحمیات (پروٹینز)کے علاوہ اہم حیاتین اور معدنی نمک بھی مل سکتے ہیں۔


پنیر کا مقوی شوربا
پنیر کا شوربا بنانے کے لیے یہ اشیاء در کار ہوں گی:ایک چھوٹی پھول گوبھی،ایک پاؤ تازہ اور نرم گاجریں،درمیانے سائز کی پیاز ایک عدد،4پیالی اُبلے ہوئے گوشت یادال کا پانی(250گرام) ،تھوڑی سی سیاہ مرچ پسی ہوئی،ایک تیز پات یا دار چینی کا ٹکڑا ،لہسن کے جوئے 3-2اور پنیر ایک پاؤ،گوبھی اور گاجروں کو اچھی طرح دھو کر باریک ٹکڑے کرلیجیے۔

پھر پیاز کے لچھے اور گوشت یا دال میں حسب ضرورت پانی ملا کر دیگچی چولھے پر چڑھادیجیے۔اس میں لہسن ،تیز پات یادار چینی،نمک اور کالی مرچ ملا کر ہلکی آنچ پر پکنے دیجیے۔جب سبزیاں خوب گل جائیں،تیز پات یا دار چینی کے ٹکڑے نکال کر پنیر کے ساتھ بلینڈر میں خوب اچھی طرح گھوٹ لیجیے اور دوبارہ گرم کرکے ہرے دھنیے کی تازہ پتیاں چھڑک کر پیش کیجیے۔

پنیر سے اسی طرح مختلف قسم کے دیگر پکوان بھی تیار کیے جاسکتے ہیں،جو نئے ذائقے کے علاوہ صحت وتوانائی مہیا بھی کر سکتے ہیں۔
شہروں میں رہنے والی خواتین بھی گھر میں پنیر تیار کر سکتی ہیں۔اکثر گھروں میں پھٹنے والے دودھ کو پھینک دیا جاتا ہے ۔سگھڑ خواتین اس دودھ سے بھی پنیر تیار کرکے اپنے خاندان کے لیے مقوی غذائیں تیار کر لیتی ہیں۔

ہمارے ہاں شہروں میں اب تو خشک دودھ بہ آسانی ملتا ہے ۔دہی سے بھی یہ کام لیا جا سکتا ہے ،اگر چہ اس میں تازہ دودھ کی سی افادیت تو نہیں ہوگی ،پھر بھی اس سے کچھ نہ کچھ غذائیت ضرور مل سکتی ہے ۔بغیر بالائی والے دودھ کا پنیر چکنائی سے مبراہونے کی وجہ سے بلڈ پریشر اور قلب کے مریضوں کے لیے بھی مفید ثابت ہوتا ہے ۔اس پنیر سے وزن بڑھنے کا امکان بھی نہیں رہتا۔
تاریخ اشاعت: 2019-06-13

Your Thoughts and Comments