Papaya Khaye Patte K Sath

پپیتا کھایئے پتے کے ساتھ

بدھ نومبر

Papaya Khaye Patte K Sath

پپیتے کی مخصوص مہک آپ میں سے شاید کسی کو پسند نہ ہو لیکن فروٹ چاٹ میں یہ شامل ہوتو آپ منہ بنائے بنا کھا لیتے ہیں۔لیکن اس پھل کے فوائد جاننے والے اور اکثر معالجین کے مشورے پر پرانی قبض کے مریضوں کے لئے تو یہ پھل تریاق سے کم نہیں۔کیا آپ یقین کریں گے کہ اس پھل کے پتے بھی بے پناہ فوائد کے حامل ہیں۔اگر چہ ان کا ذائقہ تلخ ہوتاہے۔ان پتوں میں مختلف وٹامنز مثلاً A،B،C،Eاور Kکی وافر مقدار ہوتی ہے۔

علاوہ ازیں اہم معدنیات(منرلز)جن میں کیلشیئم، میگنیشیئم،سوڈیئم اور آئرن بھی موجود ہیں۔پپیتے کو صرف غذا ہضم کرنے میں مدد دینے والا پھل سمجھنا غلط ہو گا۔ذیل میں پھل اور اس کے پتوں کے فوائد درج کئے جارہے ہیں۔
یہ کینسر کش پھل ہے
اور اس کے پتوں میں سرطانی خلیات ختم کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔

(جاری ہے)

طبی جریدے ایتھوفارما کولوجی کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق ان پتوں کا جوس کینسر کا دفاع کر سکتاہے۔

اسے پینے سے مختلف مہلک بیماریوں کے خلاف مدافعتی قوت بہتر ہوتی ہے۔یہ سینے لبلبے،جگر،رحم اور پھیپھڑوں کے کینسرز میں فائدہ دیتاہے۔جسم سے ان فاسد مادوں کو خارج کر دیتا ہے جو بعد ازاں سرطانی خصوصیات کی حامل ہو سکتی ہیں۔
جراثیم کی افزائش روکتے ہیں
یہ پتے جراثیم کش خصوصیات کے حامل یوں ہیں کہ ان میں کارپین مرکبات(Carpaine Compound)سمیت50مختلف اجزاء ایسے فعال ہیں جو خورد بینی اجسام مثلاً پھپھوند،کیڑے ،طفیلی کیڑے(پیرا سائٹس)جراثیم اور مختلف اقسام کے سرطانی خلیات کی افزائش روکتے ہیں۔

ان پتوں کا جوس پئیں تاکہ آپ کی آنتیں صحت مندرہیں اور ان آنتوں میں موجود صحت کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کا قلع قمع ہو جائے۔پیٹ کے کیڑوں کا ایک غذائی علاج یہ جوس بھی ہو سکتاہے کیونکہ ان پتوں کا ایک جزو Tanninہوتاہے جو پیٹ کے کیڑوں کی افزائش روکتاہے۔انہیں آنتوں کی اندرونی دیواروں سے چپکنے کا موقع نہیں دیتا۔
یہ اینٹی ملیریا اور ڈینگی مخالف بھی ہے
پپیتے کے پتوں میں محسوس ہونے والی کڑواہٹ اصل میں اس کی ملیریا مخالف خصوصیت ہے یہ ذائقہ ہی ملیریا کے وائرس کو مار دیتاہے۔

تحقیق کے مطاق ان پتوں میں ایک جزوAcetogeninپایا جاتاہے جو ڈینگی اور ملیریا جیسی مہلک بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتاہے۔ڈینگی بخار سے بچاؤ کے لئے ان پتوں کا عرق پیا جا سکتاہے ۔یہ روایتی طریقہ علاج ہے اور اس کے مضر اثرات بھی نہیں ہیں۔
Papain Enzymeکی خصوصیت
طبی تحقیق کے مطابق ان پتوں کے جوس میں یہ جزو پایا جاتاہے جو انسانی خون میں شامل ایک اہم جزو پلیٹ لیٹس کی تعداد بڑھا دیتاہے ۔

ڈینگی کے مرض اور کیمو تھراپی میں یہ جزو خون میں کم ہو جاتاہے اور اس کی وجہ سے مختلف اعضاء سے خون کا رساؤ شروع ہو جاتاہے۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ دوا ساز ادارے اب پپیتے کے پتوں کے عرق پر مبنی ادویات کیپسول اور سیال کی صورت میں تیار کرنے لگے ہیں۔
خون میں شکر کی سطح معتدل کیسے ہو؟
ذیابیطس کے مریضوں کے لئے بھی پپیتے کے پتوں میں متعدد فوائد چھپے ہیں مثلاً یہ جوس پینے سے انسولین کی پیدا وار باقاعدہ ہو کر خون میں شکر کی سطح کو اعتدال میں رکھتی ہے۔

اس کی اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات ذیابیطس کی دیگر پیچیدگیوں مثلاً گردے کو نقصان اور جگر کے چربیلے پن سے بھی محفوظ رکھتی ہیں۔جگر کے حوالے سے کی جانے والی تحقیق کے مطابق یرقان میں جہان مولی کی ترکاری بہترین غذائی علاج ہے وہیں اس پھل اور اس کے پتے بھی اکسیر ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایام کی تکالیف میں کمی
خواتین ان ایام میں تکالیف سے بچنے کے لئے ان پتوں کا جوس پی سکتی ہیں ۔

اس مقصد کے لئے پپیتے کے ایک پتے کو صاف کرکے گرائنڈ کرلیں سفوف بن جائے تو ایک گلاس پانی میں چند املی کے دانوں اور چٹکی بھر نمک کے ساتھ ابال لیں اور شیشی میں محفوظ کر لیں۔ایام کی تکالیف اس مشروب سے خاصی حد تک دور ہوں گی۔
یہ پتے بھی ہاضم ہیں
پپیتا ہاضم پھل کی بہترین خصوصیات کا حامل ہے۔بڑی آنت کی صفائی میں مدد دینے والا یہ پھل اور اس کے پتے پروٹینز ،کاربوہائیڈریٹس اور منرلز کو جسم میں جذب کرکے بہتر بناتے ہیں۔کیونکہ پتوں میں معدے اور قولون(بڑی آنت )کی سوزش کم کرنے کی خصوصیت پائی جاتی ہے۔یہ چونکہ جراثیم کش بھی ہیں اور Peptic Ulcerسے نجات دیتے ہیں علاوہ ازیں H.Pyloriنامی جراثیم کا بھی خاتمہ کرکے آپ کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

تاریخ اشاعت: 2019-11-20

Your Thoughts and Comments