Sabziyan Khayeen Tu Dantal Patte Kiyon Chorain

سبزیاں کھائیں تو ڈنٹھل پتے کیوں چھوڑیں

منگل جون

Sabziyan Khayeen Tu Dantal Patte Kiyon Chorain
سبزیوں کے فوائد تو ہم اکثر ان صفحات میں بتاتے رہتے ہیں کہ آج بات ہو جائے ان کے ڈنٹھلوں اور پتوں کی یہ نہ کہیں کہ بھلا یہ بھی کوئی کھانے کی چیزیں ہیں دراصل ان میں معدنیات اور وٹامنز موجود ہوتے ہیں جنہیں آپ بے کار سمجھ کر علیحدہ کر دیتی ہیں انہیں بھی تراشئے ،دھوئے اور پکائیے انہی سبزیوں کے ساتھ ساتھ اور قدر کیجئے ان سپر فوڈز کی کیونکہ یہ حیرت انگیز طور پر مزیدار بھی ہوتے ہیں۔


شلجم کے پتے
بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ بینائی کمزور ہو جاتی ہے لیکن اگر آپ سمجھتی ہیں کہ اس کا کوئی غذائی حل نہیں تو آپ غلطی کر رہی ہیں شلجم پتوں سمیت پکائی جائے تو آنکھوں میں پیدا ہونے والے موتیا سے محفوظ رہیں گی بلکہ اس کا خطرہ 30فیصد کم ہو سکتا ہے ۔

(جاری ہے)

خواہ آپ شلجم کو گوشت کے ساتھ پکائیں یا بھجیا بنائیں اس میں پتے ضرور شامل کریں۔


مولی کے پتے
مولی کے کرکرے پتوں کا ذائقہ کچھ تیکھا ضرور ہوتا ہے مگر ان میں مولی کی نسبت چھ گنا زیادہ وٹامنC- موجود ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ یہ قدرتی ڈی ناکسی فائر ہوتے ہیں ۔انہیں کھانے والے بریسٹ کینسر سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔یہ لیو کیمیا ختم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں اس لئے جب بھی مولی کی بھجیا بنائیں یا سلاد پتے ضرور شامل کریں۔


پھول گوبھی کے پتے
یہ گوبھی کی حفاظتی تہہ اور غلاف سا بنائے رکھتے ہیں بالکل اسی طرح اسے کھانے والے کینسر جیسے مہلک مرض سے بچے رہتے ہیں وہ اس طرح کے گہری سبز رنگت کے باعث ان میں ایسے انزائمز موجود ہیں جو جگر کی صفائی کرتے ہیں۔جسم سے فاسد مادوں کا اخراج کرتے ہیں۔ گوبھی پتے سمیت کھانے سے بریسٹ ،ہیضہ دانی اور چھوٹی آنت کے کینسر کی شرح کم ہونے میں مدد ملتی ہے ۔

سالن بنائیں ،سلاد بنائیں،سوپ میں ڈنٹھل باریک کرکے شامل کریں یا آملیٹ میں صرف پتوں کو باریک کاٹ کر استعمال کرلیں ہر طرح سے فائدہ مند رہیں گے۔اگر آپ نے گھر میں مرغیاں پالی ہوئی ہیں تو انہیں کھلا کر ان کی شاندار صحت کا جائزہ خود لے سکتی ہیں۔
چقندر کے پتے اور ڈنٹھل
چقندر کے مٹھی بھرپتوں اور ڈنٹھلوں میں ایک گلاس دودھ سے بھی زیادہ کیلشیم موجود ہے۔

دودھ ہضم نہ ہویا کبھی دستیاب نہ ہوتو اس سبزی سے کیلشیم کے حصول کا کام لیا جا سکتا ہے۔چقندر کے پتوں کا ذائقہ پالک جیسا ہوتا ہے اور ان میں کیلوریز بھی انتہائی کم ہیں لہٰذا جب بھی چقندر پکائیں ان کے پتے علیحدہ نہ کریں پکالیں۔
گاجر کے پتے
عام طور پر گاجر پتوں کے بغیر بکنے آتی ہے لیکن اگر آپ سبزی والے سے فرما ئٹا کہہ دیں گی تو وہ منڈی سے پتوں والی گاجر لے آئے گا کیونکہ ان پتوں میں پروٹین ،معدنیات اور گاجر کے مقابلے میں چھ گنا زائد وٹامن C-اور پوٹاشیم کا ذخیرہ ہوتا ہے جس کے سبب آپ کے جسم سے غیر ضروری پانی کا اخراج آسان ہو جاتاہے۔


بلڈ پریشر بھی معتدل رہتا ہے اور خون بھی گاڑھا نہیں ہوتا نہ ہی پھنکیاں بنتی ہیں۔گاجروں کو پتوں سمیت سلاد میں شامل کریں یا گاجر کی بھجیا بنالیں یا گوشت میں بطور سالن استعمال کریں ہر انداز سے مفید ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-06-23

Your Thoughts and Comments