Sehat Bakhash Ghiza Ke Bunyadi Usool

صحت بخش غذا کے بنیادی اصول

Sehat Bakhash Ghiza Ke Bunyadi Usool

ماہرغذائیت فائزہ خان کے مشورے
پیاس کی زیادتی ،باربارUrineکا آنا،مسلسل تھکاوٹ اور کمزوری محسوس کرنا،آنکھوں کا دھندلاپن ،زخم کا دیر سے ٹھیک ہونا اور ہاتھوں یا پیروں کا سن ہوجاناہے۔
احتیاطی تدابیر
اپنے طرز زندگی میں معمولی تبدیلیاں نہ صرف ہمیں ذیابیطس لاحق ہونے کے خطرے سے محفوظ رکھ سکتی ہیں بلکہ اس مرض کے لاحق ہو جانے کی صورت میں اس پر قابو پانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے ۔


صحت مند غذا کا تصور
دن میں 3بار کا کھانا 5پر تقسیم کرکے کھایا جائے یا تین وقت کھانے کے بعد 2بار مختصر ناشتے کئے جائیں۔
ایسی غذا کا انتخاب کیا جائے جوتوانائی بہم پہنچانے کے ساتھ ساتھ وٹامنز اور معدنیات سے بھر پور ہو۔
اس میں غذائی ریشہ(Fiber)کی مقدار بھی شامل ہو مثلاً بھوسی ملا آٹا یا چکی کا لال آٹا،براؤن بریڈ
(بھوسی والی ڈبل روٹی یا بسکٹ)چھلکے والی دالیں ،چھلکے والے پھل ،سبزیاں جیسے کھیرا،بند گوبھی ،پالک ،
ہری پھلیاں ،گاجر ،کریلا،پھول گوبھی،شلجم،ٹماٹر،لیموں ،شملہ مرچ سلاد کے پتے وغیرہ۔

(جاری ہے)

ان سبزیوں میں فائبر کے ساتھ ساتھ وٹامنز اور معدنیات موجود ہیں۔
گھی کے بجائے تیل کا استعمال کیا جائے اولیوآئل کی اہمیت بے حد مسلمہ ہے اس کے علاوہ ،کنولا آئل اور سن فلار بہترین تیل ہیں۔ سلاد پر ڈریسنگ کے لئے اولیو آئل کا استعمال بہتر ہے ۔
نمک کا استعمال کم کردیں اور کھانوں میں ذائقے کے لئے سرکہ،پودینہ،ہرادھنیا اور لیموں شامل کرکے نمک کی طرف سے دھیان ہٹاےئے۔


8-10گلاس پانی وقفے وقفے سے پئیں۔
مرغی ،مچھلی یا سرخ گوشت بغیر چربی کے شوربے والے سالن بناےئے۔
دودھ اور دہی بغیر بالائی کے استعمال کریں۔
موسم کے لحاظ سے بازار میں موجود ہر پھل استعمال کریں مثلاً سیب ،امرودیا ناشپاتی ۔ایک پھانک خربوزہ ،تربوز ،پپیتا ،نارنجی ،مالٹا اور گریپ فروٹ مگر ہر پھل کی صرف ایک پھانک کبھی پورا پھل ایک وقت میں نہ کھایا جائے ۔


ورزش
روز مرہ کی جسمانی سر گرمیاں (ہفتے میں تین سے پانچ دنوں میں )معمول سے ہٹ کر 30منٹ باقاعدہ ورزش کے لئے مخصوص کرنا ضروری ہیں ۔
آپ کی عمر کیا ہے ؟غذائی ضروریات کیا ہیں یہ ماہر کنسلٹنٹ ڈائٹیشن بہتر بتا سکتا / سکتی ہے ۔اسی روشنی میں وہ آپ کے لئے ورزش تجویز کرتے ہیں۔ کیا چہل قدمی کافی ہوگی ،یا باغبانی ،سائیکل چلانا،
سیڑھیاں چڑھنا ،تیرا کی کرنا چند مقبول عام سر گرمیاں ہیں جو بہت لمبے عرصے تک بلڈ شوگر اور وزن کو متوازن رکھ سکتی ہیں ۔

اس ضمن میں محترمہ فائزہ خان(ماہر غذائیت )نے ہمارے چند سوالات کے
جو ابات میں مفروضوں پر روشنی ڈالی ہے یقینا آپ قارئین کے لئے یہ معلومات کار آمد ثابت ہوگی۔
”کیا ذیابیطس کے مریضوں کو چاول اور آلو کی ڈشز سے پر ہیز کرنا چاہئے؟“
”کبھی کبھار ابلے ہوئے چاول اور آلو کی ترکاری یا آلو گوشت کی طرح کوئی سالن(پکوان)استعمال کیا جا سکتا ہے مگر ایک پیالی کی پیمائش کے مطابق چاول کھا لینے میں کوئی نقصان نہیں۔

ڈبل روٹی کا ایک سلائس ہی ان کے لئے کافی ہوتا ہے اور کوشش کریں کہ براؤن بریڈلی جائے۔“
”کیا ذیابیطس کے مریض شوگرفری ڈائٹ کو لایا مٹھائیاں کھا سکتے ہیں؟“
”بغیر شکر کا دعویٰ کرنے والی یہ غذا مضر بھی ہو سکتی ہے کیونکہ اس میں کیلوریز بھی موجود رہتی ہیں ۔کبھی کبھار چکھنے کی حد تک یہ اشیاء استعمال کی جائیں تو مضائقہ نہیں مگر اسے عادت نہیں بنا لینا چاہئے۔


”کیا ایک وقت کا کھانا چھوڑ دینا وزن کم کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے ؟“
”صحت مند مریضوں کے لئے کسی حد تک نہ مفروضہ کام کر سکتا ہے مگر پھر ایسا نہ ہو کہ اگلے وقت کھانے پر پچھلے فاقے کی کسر نکال دی جائے اور ضرورت سے بڑھ کر پیٹ بھرا جائے۔اس صورت میں کھانا چھوڑ نا قطعی مفید نہیں ۔ذیابیطس کے مریضوں کے لئے عموماً کھانے کا ناغہ کرنے سے اگلے وقت خوراک کی مقدار اور اشتہابڑھ جاتی ہے ۔

اور خون میں شکر کی صحیح مقدار بر قرار رکھنے میں دشواری پیدا ہوتی ہے ۔“
”کیا ذیابیطس کا مریض آم ،خربوزہ ،چیکو اور اس طرح کے دوسرے میٹھے پھل کھا سکتا ہے ؟“
”ایک وقت میں کھائی جانے والی مقدار کا انحصار پھل کی قسم پر ہوا ہے ۔درمیانے سائز کا آم کھالیا تو چند
گھنٹوں بعد 2کھجوریں لی جا سکتی ہیں ۔چیکو کھالیا تو پھر کوئی ترش پھل چند گھنٹوں بعد کھایا جا سکتا ہے ۔


ایک وقت میں خربوزہ یا آم کھانا مضر ثابت ہوتا ہے ۔“بہتر یہی ہے کہ ماہر غذائیت اور ذیابیطس کے ماہر ڈاکٹر آپ کی ادویات کے ساتھ غذائی پلان تجویز کریں ۔اپنے طرز زندگی میں معمولی تبدیلیاں نہ صرف ذیابیطس لاحق ہونے کے خطرے سے بچا سکتی ہیں بلکہ اس مرض کو پیچیدہ ہونے سے بھی محفوظ رکھ سکتی ہیں۔

تاریخ اشاعت: 2019-03-18

Your Thoughts and Comments