Sehat Bakhash Masale - Article No. 2004

صحت بخش مصالحے - تحریر نمبر 2004

جمعرات نومبر

Sehat Bakhash Masale - Article No. 2004
پاکستان میں مصالحے بہ کثرت استعمال ہوتے ہیں،لیکن ان سے استفادے کی بہتر صورت یہی ہے کہ انھیں تھوڑی مقدار میں استعمال کیا جائے۔اس کے علاوہ پسے پسائے مصالحوں کے استعمال کا طریقہ ممکنہ حد تک ترک کر دیا جائے،یعنی انھیں تازہ پیس کر استعمال کیا جائے۔ ان کی مہک،رنگ اور ان میں شامل اجزاء ہاضم اور مقوی ہوتے ہیں۔ان سے غذائیت میں اضافہ ہوتا ہے اور مختلف غذائی اجزاء کی مضرت دور ہو جاتی ہے۔

پاکستان اور ہندوستان کی طرح دوسرے مشرقی ملکوں میں ہرے مصالحے،یعنی ہرے دھنیے،پودینے اور سبز مرچ کا استعمال بھی مقبول ہے،تاہم عرب ملکوں میں سبز مرچ کی پھیکی اقسام استعمال ہوتی ہیں۔ان کے استعمال سے کھانوں میں مہک کے علاوہ ان کے ظاہری روپ میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

عرب دسترخوان پر تازہ زیتون،سبز دھنیے اور پودینے کے علاوہ کھیرا اور سبز پیاز بھی ہوتی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث مبارک کا گہرا اثر ہے کہ جس دسترخوان پر سبز اور تازہ ترکاری ہوتی ہے،وہاں شیطان کا گزر نہیں ہوتا اور ایسا کھانا بابرکت ہوتا ہے۔

آپ کی دلچسپی اور معلومات میں اضافے کی خاطر ذیل میں چند ایسے مصالحوں کے خواص اور خوبیاں درج ہیں،جو مشرقی ملکوں میں بہت مقبول اور مستعمل ہیں۔
ادرک
ادرک غذا کو ہضم کرتی،بھوک لگاتی،بلغم کو چھانٹتی،بادی پن دور کرتی اور ریاح خارج کرتی ہے۔جن لوگوں کا معدہ کمزور ہو،کھانا اچھی طرح ہضم نہ ہوتا ہو اور ریاح زیادہ پیدا ہوتے ہوں،انھیں اس کے کھانے سے بہت فائدہ پہنچا ہے۔

ماش کی دال،گوبھی اور اروی جیسی بادی چیزوں میں ادرک شامل کرنے سے ان کا بادی پن دور ہو جاتا ہے۔
لہسن
اپنی خوبیوں کی وجہ سے یہ تقریباً دنیا بھر کی غذاؤں کا لازمی جزو بن گیا ہے۔یہ گوشت،مچھلی وغیرہ کی بساندھ دور کرتا ہے۔اسے کھانے سے انسان خراب آب وہوا کے نقصانات سے محفوظ رہتا ہے۔لہسن معدے کو قوت دیتا،ریاح کو خارج کرتا،بلغم کو دور کرکے کھانسی اور دمے میں فائدہ کرتا ہے۔

کولیسٹرول گھٹا کر خون کا دباؤ کم کرتا اور بعض جلدی امراض کو کم کرتا ہے۔دال،ترکاریوں اور دیگر کھانوں کی تیاری میں اسے شامل کرنے سے مہک اور خوشبو پیدا ہوتی ہے۔
پیاز
سالن کا ایک اہم جزو،جس کا استعمال لہسن کی طرح عالمگیر ہے۔یہ بھی بساندھ دور کرتی اور سالنوں کو خوش ذائقہ اور خوش رنگ بناتی ہے۔ پیاز زہریلے اثرات دور کرتی ہے اور وبائی امراض سے محفوظ رکھتی ہے۔

کچی پیاز بھی غذا کے ساتھ شوق سے کھائی جاتی ہے۔یہ بلغم چھانٹتی اور نزلے کو کم کرتی ہے،ہاضم اور مقوی ہے۔ریاح اور بادی پن دور کرنے کے لئے مفید ہے۔
دھنیا
دال،ترکاری اور مختلف نمکین ڈشوں کی تیاری میں دھنیا ڈالا جاتا ہے۔اس کی وجہ سے سالن خوشبودار ہو جاتا ہے۔یہ معدے کو طاقت دیتا اور ریاح خارج کرتا ہے،دل و دماغ کو فرحت بخشتا ہے،توانائی بخش ہے اور صفرے کو کم کرتا ہے۔


بڑی الائچی
بڑی الائچی ہاضم ہوتی ہے۔یہ معدے کو طاقت دیتی اور بھوک لگاتی ہے۔متلی اور ریاح کو دور کرتی ہے۔گرم مصالحے میں یہی الائچی استعمال ہوتی ہے۔
سبز الائچی
یہ معدے کو طاقت پہنچاتی اور غذاؤں کو خوشبودار بنا کر بھوک تیز کرتی ہے،ریاح دور کرتی اور دل کو قوت دیتی ہے۔مشرق کی میٹھی ڈشوں میں بہ کثرت شامل کی جاتی ہے۔

گوشت اور مچھلی کی بو اس سے دور ہو جاتی ہے۔آبی پرندوں کے گوشت کی اصلاح کرتی اور بساندھ دور کر دیتی ہے۔
سیاہ مرچ
سیاہ مرچ بادی غذاؤں کے نقصان کو کم کرتی ہے،خاص طور پر بڑے گوشت کی اصلاح کرتی ہے۔کھانوں کے ذائقے کو بڑھاتی ہے۔یہ بھی ریاح کو خارج کرتی اور بلغم کو چھانٹتی ہے۔اس سے ٹھنڈی اشیاء،مثلاً دہی،املی وغیرہ کی بھی اصلاح ہو جاتی ہے۔

سیاہ مرچ بھوک لگاتی ہے اور کھانوں میں خوشبو پیدا کرتی ہے۔
سونٹھ
سونٹھ خشک ادرک ہوتی ہے۔یہ کھانا ہضم کرتی اور ریاح خارج کرتی ہے۔کھانوں میں اسے شامل کرنے سے خوشبو پیدا ہوتی ہے اور ان کا ذائقہ بڑھ جاتا ہے۔سونٹھ بھوک لگاتی اور سردی و بادی پن کے اثرات دور کرتی ہے۔
سفید زیرہ
سفید زیرہ کھانوں کو خوشبودار بناتا اور معدے،جگر اور آنتوں کو قوت دیتا ہے۔

بادی اور ریاح دور کرتا ہے۔اس کی خوشبو بھی بھوک بڑھاتی ہے۔بلغم کم کرتا ہے۔
سیاہ زیرہ
سیاہ زیرہ خوشبودار ہوتا ہے اور اس سے معدے اور نظام ہضم کو فائدہ پہنچتا ہے۔گوشت کے پکوانوں کو خوشبودار بنانے کے علاوہ ان کے نقصانات کم کرکے انھیں زود ہضم بناتا ہے۔
لونگ
لونگ گرم مصالحے کے ساتھ شامل ہوتی ہے۔

یہ دافع ریاح ہے اور بدہضمی نہیں ہونے دیتی۔معدے کا عمل اس کی وجہ سے تیز ہو جاتا ہے۔ دل اور دماغ کو طاقت دیتی اور ٹانک کا کام کرتی ہے۔کھانوں کا لطف اس سے دوبالا ہو جا تا ہے۔
دارچینی
دار چینی کھانوں کو خوشبودار بناتی ہے۔یہ بھی ریاح دور کرتی اور معدے کو طاقت دیتی ہے۔دار چینی بلغم خارج کرتی اور پیٹ کے کیڑے مارتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-11-12

Your Thoughts and Comments