Sehri Or Iftar Main Kia Khain

سحری اور افطاری میں کیا کھائیں؟

Sehri Or Iftar Main Kia Khain

رمضان المبار ک مسلمانوںکے لیے نیکیاں کمانے کا مہینہ ہے چنانچہ لوگ ذوق وشوق سے روزہ رکھتے ہیں لیکن چند دن بعد بدہضمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ کھانے پینے میں اعتدال نہیں رکھ پاتے اور خوب سیر ہو کر کھاتے ہیں اس کے برعکس جو افراد کھانے میں احتیاط برتتے ہیں وہ معالج کے پاس جائے بغیر اپنے فرائض احسن طریقے سے پورے کر لیتے ہیں۔رمضان کے مہینے میںکھانے اور پینے کے اوقات میں تبدیلی آجاتی ہے لوگ سحری کے وقت کھانا کھاتے ہیں اس کے بعد روزہ رکھ لیتے ہیں اور دن بھر کچھ نہیں کھاتے پھر مغرب کے بعد افطار کرتے ہیں۔

بعض افراد شکایت کرتے ہیں کہ ان سے کچھ کھایا نہیں جاتا جب کہ سحری میں وہ پراٹھے کھانا شروع کر دیتے ہیں حالانکہ سحری میں کم تیل سے بنی ہوئی چیزیں کھانا بہتر ہے۔

(جاری ہے)

سحری میں پراٹھے کھانے کے بجائے روٹیوں پر زیتون کا تیل لگا کر رات کے بچے ہوئے سالن کے ساتھ کھا لیں پا پھر آملیٹ بنا لیں۔کچھ افراد سحری میں دہی کی لسّی کے ساتھ روٹی کھاتے ہیں یہ صحت بخش طریقہ ہے دہی توانائی برقرار رکھتا ہے۔

سحری میں دہی روٹی بھی کھانی چاہیے لوگ سحری میں کھجلہ، پھینی اور دودھ سویاّں بھی کھاتے ہیں ۔یہ بھی مناسب ہے کھانے میں اعتدال رکھیں اور گندم کی ایک چپاتی ضرور کھائیں۔معدے کی کارکردگی کو بہتر رکھنے کے لیے روٹی کے ساتھ ہرے پتوں والی سبزیاں بھی کھائی جا سکتی ہیں نوڈلز میں پکی سبزی اور چکن ملا کر کھایا جا سکتا ہے اس سے مکمل غذائیت حاصل ہو گئی۔


افطار میں کیا کھائیں؟
لوگ روزہ رکھنے کے بعد افطار کا خاصا اہتمام کرتے ہیں کھانے کی بیشتر چیزیں بیسن سے بنی ہوتی ہیں یا چنوں سے ، مثلاََ پکوڑے، پھلکیاں ، آلو چھولے اور دہی بڑے۔ اس کے علاوہ کولا مشروبات بھی خوب پیے جاتے ہیں چنوں سے بنے ہوئے کھانے کھا کر وہ شربت کے گلاس پہ گلاس چڑھا لیتے ہیں اس طرح ان کے معدے کو نقصان پہنچتا ہے کھٹی ڈکاریں آنے لگتی ہیں اور ان کا پیٹ پھول جاتا ہے۔

اس کے برعکس وہ افراد جو کھانے میں اعتدال سے کام لیتے ہیں وہ صحت مندر ہتے ہیں انہیں کمزوری بھی محسوس نہیں ہوتی اس لیے کہ وہ ساد غذا کھاتے ہیں ۔ پکوڑے ، کچوریاں اور دہی بڑے اگر کھاتے بھی ہیں تو برائے نام۔
ذیابیطس کے مریض کیا کھائیں؟
ذیابیطس کے مرض کا کھانے پینے سے گہرا تعلق ہے رمضان میں ذیا بیطس میںمبتلا افراد کے مرض میں پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

سحری کے وقت جب وہ روغنی غذائیں زیادہ مقدار میں کھاتے ہیں تو ان کے خون میں شکر کی سطح بڑھ جاتی ہے ایسے افراد اگر زیادہ دیر تک بھوکے رہیں تو اس کے نتیجے میں ان کی شکر کی سطح اچانک کم ہو جاتی ہے اور انہیں روزہ توڑنا پڑتا ہے۔معالجین کہتے ہیںجو افراد گردوں کے تعدیے (انفیکشن) میںمبتلا ہوں ان کی شکر کی سطح قابو میں نہ رہتی ہو اور وہ اعصاب کو متاثر کرنے والی ادویہ کھاتے ہوں تو ان کے لیے روزہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

معالجین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو افطار سے پہلے اور افطار و سحری کے دو گھنٹے بعد اپنی شکر کی سطح چیک کرنی چاہیے۔ اگر روزے کے دوران شکر کی سطح کم یا زیادہ ہو جائے تو روزہ توڑ دینا چاہیے اورفوراََ اپنے معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔وہ افراد جن کی شکر قابو میں رہتی ہو اور وہ روزہ رکھنا چاہتے ہیں تو معالج کے مشورے سے اپنی غذاو¿ں میں تبدیلی کریں اور انسولین کی مقدار کا تعین ازسرِنو کریں۔

اس کے علاوہ ذیل میں دی گئی تجاویز پر بھی عمل کریں۔
سحری میں ایسی غذائیں کھائیں، جو دیر سے ہضم ہوتی ہوں، مثلاََ باسمتی چاول اور دال یا دال روٹی وغیرہ انکے ساتھ پھل اور سبزیاں بھی کھائیں۔
بغیر شکر والے اسکوائش جوس یا دودھ والے اسکوائش پییں تو پیاس کم لگے گی۔
افطار میں میٹھی، روغنی اور چٹ پٹی چیزیں کم کھائیں۔


سحری آخری وقت میںکریں اور پانی زیادہ پییں۔
پراٹھے، سموسے اور برگر کھانے سے گریز کریں اور کولا مشروبات بھی نہ پییں۔
کھجور کیوں کھائیں؟
کھجور سے افطار کرنا سنت ہے روزہ رکھنے کے بعد شام کو کمزوری محسوس ہونے لگتی ہے دن بھر نہ کھنے سے معدے میں تیزابیت ہو جاتی ہے کھجور میں ایسی معدنیات اور نمکیات ہوتے ہیں جو تیزابیت پر قابو پالیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک چھٹانک کھجور میں 160حرارے(کیلوریز) ہوتے ہیں لہٰذا یہ جسم کو مناسب غذائیت فراہم کرتی ہے۔ کھجور میں تانبا، گندھک، جست، کیلسیئم، پوٹاشیئم اور حیاتین الف اور ب (وٹامنز اے اور بی) ہوتی ہیں اس لی اطبّا اسے کھانے کی تلقین کرتے ہیں۔ رمضان کے اختتام پر عید کی خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ اس دن بچے بڑے سبھی خوش نظر آتے ہیں عید پر غریب رشتے داروں سے ملنا اور انہیں گھر بلانا چاہیے پڑوسیوں اور دوست احباب کو عید کی مبارک باد دینی چاہیے۔

عید کے دن بچوں کو عیدی ضرور دیں اس دن تمام گلے شکوے بھُلا کر سب کو گلے لگائیں۔عید پر سب میں خوشیاں تقسیم کریں شیر خرمے سے سب کی تواضع کریں۔ غریبوں ، محتاجوں اور مفلسوں کو بھی یاد رکھیں ان سارے اعمال سے اللہ خوش ہوتا ہے۔

تاریخ اشاعت: 2018-06-01

Your Thoughts and Comments