Strawberry Aik Munfarid Aur Mufeed Phal

اسٹرابیری۔ ایک منفرد اور مفید پھل

Strawberry Aik Munfarid Aur Mufeed Phal
ایم۔ شفیق احمد:
اسٹرابیری پہلی بار سترھویں صدی عیسوی میں یورپ میں پیدا ہوئی۔ 1835ء میں جب امریکا میں اس کو پہلی بار اگایا گیا تو اس کانام ” ہاور“ (HOVER) رکھا گیا۔ اسٹرابیری اتنی مقبول ہوئی کہ اب یہ ساری دنیا میں کھائی جاتی ہے۔ اپنے منفرد ذائقے اور مٹھاس کی بناپر اسے چھوٹے بڑے سب ہی پسند کرتے ہیں۔
اسٹرابیری کی مجموعی پیداوار کا پچاس اسپین اور پولینڈ میں پیدا ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ اس کی کاشت روس، جاپان اور ترکی میں بھی کی جاتی ہے۔ یہ امریکا کی تقریباََ ہر ریاست میں ہوتی ہے اور اسے بڑی شوق سے کھایا جاتا ہے۔ اس کی خوش بواور ذائقے کی وجہ سے اسے کیک، مشروبات، آئس کریم اور دوسری خوردنی اشیا میں ڈالا جاتا ہے۔
اسٹرابیری ہندستان کے پہاڑی علاقو اور میدانوں میں بھی ہوتی ہے، مگر چھوٹے پیمانے پر۔

(جاری ہے)

اس کی نئی نئی اقسام دوسرے ملکوں سے منگواکر کاشت کی جارہی ہیں، جس کے نتیجے میں اس کو فروخت میں اضافہ ہورہا ہے۔


اسٹرابیری پاکستان کے صوبے خیبرپختون خوا کے علاوہ پنجاب اور سندھ میں بھی کاشت کی جاتی ہے، لیکن محدود پیمانے پر۔ سندھ میں مانگ پوری کرنے کے لیے اسٹرابیری پنجاب اور صوبپ خیبرپختون خوا سے منگوائی جاتی ہے۔ اس کی فروخت کابڑا مرکزکراچی ہے۔ وطن عزیز میں اس کی پیداوار زیادہ نہیں ہوتی، لہٰذا اسے پڑوسی ملکوں سے بھی درآمد کیاجاتا ہے۔


موسم اور مٹی:
اسٹرابیری بے حد گرم خطوں، معتدل خطوں اور بحیرہٴ روم کی آب وہوا والے خطوں میں بھی کاشت کی جاسکتی ہے۔ یہ ریت، مٹی کے آمیزے میں پھلتی پھولتی ہے اور اس کے پودے کو بار آور ہونے کے لیے زیادہ نمی درکار ہوتی ہے۔ اس کی کاشت سے پہلے یہ چیک کرلیا جائے کہ مٹی میں ایسے جراثیم یاکیڑے تو شامل نہیں، جو پودوں کی جڑوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔


تولید:
اسٹرابیری قلمی ہے اور تخمی بھی۔ اس کا پودا بیج لگانے پر پھوٹتا ہے اور مادہ پودے سے اس کی ٹہنی لگاکر بھی اگایا جاسکتا ہے۔ اسے اکتوبر اور نومبر کے مہینے میں اگایا جاتا ہے۔ بیج سے نکلنے والے پودے کی نسبت قلم سے نکلنے والے پودے کے پھل کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ اسٹرابیری کو گملوں، باغات اور گرین ہاؤس میں بھی لگایا جاسکتا ہے۔

اس کے پودے نرسریوں میں عام طور پر مناسب قیمت میں فروخت کیے جاتے ہیں۔
کیمیائی ساخت:
اسٹرابیری میں نشاستہ اور حرارے کم ہوتے ہیں، یہ معدنیات (منرلز) اور حیاتین (وٹامنز) کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس میں نارنگی سے زیادہ حیاتین ج (وٹامن سی) ہوتی ہے۔ خوب پکی ہوئی ایک اسٹرابیری میں 9ء 89فیصد پانی ہوتا ہے۔ باقی 1ء 10فیصد میں درج ذیل معدنیات ہوتی ہیں۔


حیاتین ج ،64ملی گرام، حیاتین الف (وٹامن اے) 5ملی گرام حیاتین ب (وٹامن بی ) ۰۳ء۰ملی گرام، مینگنیز 15ملی گرام، فولاد 96ء 0ملی گرام، سوڈیئم 5ء 2ملی گرام جست (زنک) 12ء 0ملی گرام ، کیلسیئم 0ء 21ملی گرام فاسفورس ، 0ء 21ملی گرام، ایک اور تحقیق کے مطابق اس میں پیکٹن کی بھی مناسب مقدار ہوتی ہے۔
طبّی فوائد:
اسٹرابیری سے حیاتین ج خوب ملتی ہے، جو ہڈیوں کی بناوٹ ، دانتوں ، مسوڑوں سے خون آنے اور زخموں کو مندمل کرنے کے کام آتی ہے ۔

یہ نئے خلیوں کو پختہ کرتی، خون کی نالیوں کو تقویت دیتی ، خون صاف کرتی، کولیسٹرول گھٹاتی، سرطان کے خلاف مدافعت کرتی اور دل کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اس کی پتیوں کی چاے بناکر پی جاتی ہے۔
استعمال:
اسٹرابیری ایک منفرد پھل ہے، جس کو کئی طریقوں سے کھایاجاتا ہے۔ لوگ اسے میٹھے کے طور پر کھاتے ہیں، کریم لگاکر یاشکر چھڑک کر۔

اسٹرابیری اپنی اصلی حالت میں بھی کھائی جاتی ہے۔ خوش بوپیدا کرنے کے لیے کیک، مشروبات، آئس کریم ، جام، جیلی اور مِلک شیک میں شامل کی جاتی ہے۔ اسے کڑوی دواؤں میں بھی ڈالا جاتا ہے، تاکہ بچے انھیں آسانی سے حلق سے اتار لیں۔ اسے کھانے سے دانتوں کی سفیدی میں اضافہ ہوتا ہے۔
پیداوار:
پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا میں پنجاب اور سندھ کی نسبت اسٹرابیری زیادہ پیدا ہوتی ہے۔

ضلع ہزارہ میں لوگ اسے گملوں میں بھی لگاتے ہیں۔ سوات، مالاکنڈ، مردان، ولی باغ اور چارسدہ کو اسٹرابیری کی کاشت کے لیے بہتر تسلیم کیاجاتا ہے۔ صنعتی پیداوار کے لیے اسے 2ہیکٹر رقبے پر نہر کے دونوں طرف کاشت کیا جاتا ہے۔
صوبہ پنجاب میں یہ لاہور، قصور، سیالکوٹ، گجرات، جہلم اور راولپنڈی میں دریاؤں کے کناروں پر کاشت کی جاتی ہے۔
صوبہ خیبرپختونخوا سے زراعتی سازو سامان لاکر صوبہ سندھ میں اسٹرابیری کی کاشت کو بہتر بنایا جارہا ہے۔ خیرپوراور نوشہرو فیروز میں پہلے ہی محدود پیمانے پر اس کی کاشت ہورہی ہے۔ ضلع مٹیاری اور نواب شاہ بھی اس کی کاشت کے لیے مناسب پائے گئے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2016-03-29

Your Thoughts and Comments