بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتتحقیق کے تصدیق کیسے ہو؟

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
تحقیق کے تصدیق کیسے ہو؟
آئے روز مختلف غذاؤں کے فوائد اور نقصانات کے حوالے سامنے آنے والی تحقیق اس قدر گمراہ کن ہے کہ اچھا خاصا سمجھدار انسان بھی سوچ میں پڑجاتا ہے کہ آخر کیا کھائے اور کیا نہ کھائے؟

محمد اظہر:
مختلف غذاؤں کے حوالے سے آپ کو اکثر یہ جملے سننے یا پڑھنے کوملتے ہیں کہ پروٹین والی غذاؤں کا زیادہ استعمال کینسر کا باعث بنتا ہے سیچوریٹڈ فیٹس صحت کے لیے تباہ کن ہیں روز ایک انڈا کھانا صحت کے لیے ضروری ہے مچھلی میں پارے کی بہتات ہوتی ہیں کم سے کم استعمال کریں سرخ گوشت استعمال کینسر کا سبب بن سکتاہے ایک سیب روزانہ کھائیں ڈاکٹر کے پاس کبھی نہ جائیں روزانہ مٹھی بھر خشک میوے کھانا لمبی عمر کا راز ہے چائے اور کافی کا زیادہ استعمال پٹھوں کو کمزور کرتا ہے برائلر مرغی کا گوشت سو بیماریوں جڑ ہے نہار منہ پانی جگر اور گردوں کی تباہی کا باعث بنتا ہے گوشت نہ کھانے والے اعصابی کمزوری کا شکار ہوسکتے ہیں انڈے بیڈ کولیسٹرول بڑھانے کا سبب بنتے ہیں کافی پینے والے جلدی بوڑھے نہیں ہوتے فرائیڈ اور گرلڈ گوشت سے شوگر کا خطرہ لاحق ہے چینی کا زیادہ استعمال آپ کی جلد کے لیے نقصان دہ ہے میٹھی غذاؤں کے شوقین خوش و خرم زندگی بسر کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن چونکہ کھانا پینا انسان کی بنیادی ضروریات میں سے اہم ترین ضرورت ہے اس لئے غذائی اجزاء سے متعلق نت نئے انکشافات بھی ہر ذی شعور انسان کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں بلاشبہ انسان کو لاحق ہونے والی بیماریوں یا ان کے تدارک میں غذاؤں کابڑا واضح کردار ہے لہٰذا اس تعلق سے بھی کوئی نئی بات سامنے آئے تو کوئی اسے نظر انداز نہیں کرسکتا کہا جاتا ہے کہ علم کی ترقی اور فطرت کی بو قلمو نیوں کو آشکار کرنے میں ریسرچ یعنی تحقیق کا بڑا اہم کردار ہے۔ یہ بات سوفیصد درست ہے کہ اگر تحقیق کا دروازہ نہ کھلتا تو آج بنی نوع انسان ترقی کی اس معراج پر کبھی نہ پہنچ پاتا۔اگر دیگر شعبوں میں ہونے والی انقلابی تحقیق سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف غذائت اور صحت کے تعلق سے سامنے آنے والی تحقیق پر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ آج کل دنیا بھر میں انسانی غذا کی کم و بیش سات سو اقسام دستیاب ہیں اور بدقسمتی سے ان کے فوائد اور نقصانات پر اس قدر تحقیق سامنے آچکی ہے کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ کیا کھایا جائے کیانہ کھایا جائے یامتوازن غذا کیا ہے؟
صرف آن لائن شاپنگ کی معروف ویب سائٹ ایمازون پر غذائیت اور صحت کے حوالے سے قریباً 24 ہزار کتب دستیاب ہیں،اگر معروف سرچ انجن ”گوگل“پر”ڈائٹ“لکھ کر سرچ کیا جائے تو چند ہی لمحوں میں دس کروڑ سے زیادہ آرٹیکز اُبھرتے ہیں 2014 میں امریکہ میں ایک محدود تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ غذاؤں کے بارے میں معلومات رکھنے کے خواہش مند افراد کی اکثریت کو شکوہ تھا کہ جس قدر زیادہ جاننے کی کوشش کی جائے انسان کشمکش کا شکار ہوجاتا ہے کیونکہ اس ضمن میں ہونے والی ریسرچ میں ”گہرا تضاد اور تصادم“دیکھنے میں آتا ہے۔گذشتہ مای امریکہ کی ہارورڈیونیورسٹی کے محقیقین کی ایک ٹیم نے جامع تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ غذاؤں اوربیماریوں سے متعلق آئے روز سامنے آنے والی نئی باتوں کے پیچھے کسی حد تک اس قسم کی ریسرچ یعنی تحقیق کے لیے فنڈ مہیا کرنے والے اداروں کا ہاتھ بھی ہے یعنی مخصوص قسم کی تحقیق اور اس کے نتائج کی ترویح پر مذکورہ ادارے لازماً اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہ اچھا ہے،نہیں براہے!!
ایک دن تحقیقی سامنے آتی ہیں کہ کافی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے اور یہ فلاں فلاں بیماری سے بچاتی ہیں جبکہ اگلے ہی روز اسے کئی بیماریوں اور طبی پیچیدگیوں کا ذمہ دار قرار دے کر فوراً ترک کردینے سے متعلق تازہ ترین ریسرچ شائع ہوجاتی ہیں کبھی نمک کو انسانی مسائل کا سبب بتاکر اسے ڈائٹ چارٹ سے نکال دینے کی ہدایت کی جاتی ہیں تو فوراً ہی کی ماہر غذائیت کی جانب سے نمک کی افادیت اور اہمیت پر آرٹیکل سامنے آجاتے ہیں کبھی کہا جاتا ہے آلو نہ کھائیں کیونکہ یہ موٹاپے کا باعث بنتا ہے کاربوہائیڈریٹس کو وزن کی زیادتی کا سبب بتایا جاتا ہے اور کبھی مخصوص غذاؤں کو یہ کہہ کر مکمل ترک کردینے کی ترغیب دی جاتی ہیں کہ یہ آپ کی عمر گھٹا رہی ہیں بہر حال درسی کتب میں کاربوہائیڈریٹس کو بنیادی جزا کے طور پر پڑھایا جاتا ہے لیکن جدید تحقیق میں موٹاپے شوگر اور دیگر عوارض کی ذمہ داری بھی کاربوہائیڈریٹس پر ہی ڈال دی جاتی ہیں کبھی ذرائع ابلاغ میں وٹامنز کی افادیت پر مضامین کا سلسلہ شروع ہوجائے تو قریباً سبھی انسانی عارضوں کا مختلف اقسام کے وٹامن کے ذریعے ٹھیک کرنے کی تحقیق کا دور شروع ہوجاتا ہے مخصوص بیماریوں کے لئے مختلف اقسام کے وٹامن تجویز کئے جاتے ہیں لیکن شومئی قسمت کہ لوگ ابھی نہیں آزماہی رہے ہوتے ہیں کہ ان کے الٹ انکشافات سامنے آتے ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ کس طرح فلاں فلاں وٹامن کا زیادہ استعمال آپ کے فلاں اعضا کو بری طرح متاثر کرتا ہے یا طبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے ۔اسی قسم کا مسئلہ فوڈ سپلیمنٹس کے ساتھ بھی ہے ۔گذشتہ چند سالوں سے فوڈسپلیمنٹس کو بہت سے طبعی مسائل کا واحد حل قرار دیا گیا ہے۔ہڈیوں کے امراض کے لیے مچھلی کے تیل کے سپلیمنٹس وٹامنز کے سپلیمنٹ ۔مسلز بنانے کے لیے سپلیمنٹ ،پھلوں کے سپلیمنٹ اورنہ جانے کن کن غذائی جزو کو صرف سپلیمنٹس کی صورت میں لینے کو ہی علاج قرار دیا جاتا رہا ہے،اگرچہ اس وقت بھی بہت سے غذائی اور طبی ماہرین اس رجحان کے مخالف تھے لیکن اب ان مخصوص سپلیمنٹس کے خلاف کتابوں اور آرٹیکلز کے پلندے موجود ہیں تاہم ان کا کاروبار بھی برابر پھل پھول رہا ہے کیونکہ ان کے حق میں پراپیگنڈا کرنے والے ماہرین کی تعداد بھی کم نہیں اور صارفین اس ضمن میں تذبذب کا شکار ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مخصوص قسم کے وٹامنز کے لئے صرف سپلیمنٹس کا استعمال مسائل کا سبب بن سکتا ہے بہتر یہ ہے کہ انہیں پھل یا مکمل سبزیوں کی صورت میں استعمال کیا جائے جو فطرت سے قریب ترہے اکثر ڈاکٹر حضرات دیسی گھی بلڈپریشر اور دل کے امراض کا باعث قرار دیتے ہیں۔مغربی ممالک میں ایک برا مکتب فکر بھی اس سے ملتی جلتی رائے رکھتا ہے لیکن پچھلے کچھ عرصے کے دوران مغربی ماہرین نے اپنی پرانی تحقیق کو رد کرتے ہوئے دیسی گھی کو انسانی صحت کے لئے مفید اور ضروری قرار دیا ہے تاہم اس کے استعمال میں اعتدال کی ہدایت کی گئی ہے اسی طرح خالص دودھ کے بارے میں آج دنیا بھر میں کنفیوژن موجود ہیں کہ آیا یہ موٹاپے او ر کندذہن بنانے کا سبب ہے یا دودھ کے بغیر انسان بہت سے غذائی اجزاء سے محروم رہ جاتا ہے ؟آج دنیا بھر میں”پیکڈ فوڈ“ یعنی تقریباً سبھی اقسام کی غذاؤں کو پیکنگ میں بیچا جارہا ہے اور قرار دیا جاتاہے کہ کھلی اشیاء کا استعمال صحت کے لئے انتہائی مضر ثابت ہوتا ہے لیکن اس کے برعکس پچھلے کئی برسوں سے تواتر کے ساتھ تحقیق کے نتیجے میں ایسے شواہد ملے ہیں کہ پیکنگ والی غذائیں نے نئی بیماریوں کا سبب بن رہی ہیں۔دنیا میں زیادہ کیلوریز والی غذاؤں کی”بدنامی“کے بعد سمجھدار صارفین لوگ اب کم کیلوریز والی غذاؤں کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی صحت بہتر نہیں ہو پاتی بلکہ اکثر لوگ غذائی کمی کا شکار ہوجاتے ہیں شاید مارکیٹنگ والے صارفین کی نفسیات کو سمجھ چکے ہیں پرکشش اصطلاحات جیسے لو کیلوریز،ڈائٹ،زیرو شوگر،لوکارب،گلیوٹن فری اور سب سے بڑھ کر نیچرل یعنی قدرتی یا ”آرگینگ“جیسے الفاظ کسی بھی شے سے نتھی کردئیے جائیں تو لوگ بھاگم بھاگم اسے خریدنا چاہتے ہیں جبکہ”پراسیسڈ“یعنی قدرتی غذا کو مختلف مشینی مراحل سے گزار کر تیار کیا جانا ایک ایسی اصطلاح ہے جو صارفین کو بے چین کردیتی ہے کیونکہ غذائی ماہر اکثر اسیسڈ فوڈ کو انسانی صحت کے لیے مضر قرار دیتے ہیں۔
نتائج اس قدر مختلف اور متضاد کیوں ہوتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق دیگر عوامل کے قطع نظر تحقیق کا طریقہ کار سروے میں شامل افراد تحقیق کا دورانیہ تحقیق کاروں کی صلاحیت اور جغرافیائی حالات بھی ایک ہی غذا کے بارے میں مختلف قسم کے نتائج کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔مثال کے طور پر دل کے امراض کے بارے میں تحقیق کے دوران اکثر اوقات سرخ گوشت کے اثرات کا مطالعہ ہی کیا جاتا ہے اور اس کے مقابلے میں سبزویں اور دالوں کے استعمال کو موزوں سمجھا جاتا ہے حالانکہ اس ضمن میں مرغی مچھلی اور پرندوں کے گوشت سمیت کئی دیگر اقسام کے گوشت کا تقابلی جائزہ لینا ایک زبردست پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے لیکن ایسا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ صرف بنیادی معلومات یا مخصوص نتائج کی تشہیر کی جاتی ہیں یعنی نامکمل وضاحت بھی تحقیق کو فائدہ مند بنانے کی بجائے مسائل اور تذبذب کو فروغ دیتی ہے۔متضاد تحقیق پر ریسرچ کرنے والے ماہرین کے خیال میں اس قسم کی تحقیق سامنے آمنے کا ایک بڑا سبب مشتہر کی فراہم کردہ معلومات کی تشہیر ہے یعنی بعض اوقات ذرائع ابلاغ کی جانب سے اپنے ایڈورٹائزر کو خوش کرنے کے لئے اس کی جانب سے فراہم کردہ تحقیق اور اعدادوشمار کو بلا چوں چراں پھیلا دیا جاتا ہے اس طرح ایڈورٹائزر کا بھلا توضرور ہوتا ہے لیکن عام لوگوں پر اس کا برا اثر ہی ہوتا ہے ،مثال کے طور پر دنیا ہی سب سے بڑی مشروب بنانے والی کمپنی نے اپنی مصنوعات کے مضر اثرات کو مثبت دکھانے کے لیے باقاعدہ ایک بڑا ادارہ قائم کر رکھا ہے جہاں طبی ماہر دل کے امرض کے ماہر ڈاکٹر ماہر غذائیت اور میڈیا سے وابستہ افراد کی خدمت حاصل کرکے متعلقہ اداروں کی مصنوعات منفی تاثر کو زائل کردینے کی کوشش کی جاتی ہیں،بڑے نشریاتی اداروں اور پریس کانفرس کے ذریعے سوڈا کے مضر پر تحقیق نمایاں جگہ دلوائی جاتی ہیں تاکہ لوگوں میں اپنی پراڈکٹس کے حوالے سے مثبت تاثر اجاگر کیا جاسکے۔اکثر ”ڈائٹ گرو“ دراصل فوڈ کمپنیز زرعی اداروں اورت دیگر منافع بخش اداروں کے تنخواہ دار ملازم ہوتے ہیں اس لئے یہ حقیقت بیان کرنے کی بجائے مالی مفادات کو مدنظر رکھتے ہیں جبکہ انسانی فطرت میں شامل ہے کہ وہ انتباہ یعنی وارننگ اور خطرات کو ہمیشہ سنجیدگی سے لیتا ہے اس لئے اگر غذاؤں اور صحت کے تعلق سے ماہرین کی آراء کو بنیاد بنا کر کوئی چشم کشا بات کی جائے صحت کے تعلق سے ماہرین کی آراء کو بنیاد بناکر کوئی چشم کشا بات کی جائے تو یہ خاصی اثر پذیر ی رکھتی ہیں۔نت نئی متضاد ریسرچ کو سامنے لانے میں ڈاکٹر کا بھی بڑا ہاتھ ہے کیونکہ ڈاکٹر حضرات بھی خود کو ماہر غذائیت سمجھ بیٹھتے ہیں اور غذاؤں کے استعمال کے حوالے سے الٹے سیدھے مشورے دے کر لوگوں کی کنفیوژن میں کمی لانے کی بجائے اضافہ کرتے ہیں۔
کرنا کیا چاہیے؟ کوشش کریں کے فطری غذائیں زیادہ سے زیادہ استعمال کریں اور بازاری کھانوں کی بجائے کھانا خود پکائیں۔اگر کوئی آپ کو نئی تحقیق کی بنا پر کسی چیز سے منع کرے تو فوراً من وعن تسلیم کرنے کی بجائے سوالات اٹھائیں لیکن یہ دلیل مت دیں کہ آج تک فلاں غذا کے استعمال سے آپ کو کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔سپلیمنٹس کی بجائے مکمل غذا یعنی کسی ایک پھل یا سبزی کو ترجیح دیں جس میں مطلوبہ غذائی جزو کی بہتات ہو۔محض نیچرل اور ”آرگینگ“جیسے الفاظ سے متاثر ہوکر کسی پراڈکٹ کو منتخب نہ کریں بلکہ جو چیز آپ گھر پر اُگاسکیں اسے خود تیار کریں۔اگر کسی نئی تحقیق میں یہ بتایا جائے کہ فلاں پھل یا سبزی آپ کی لمبی عمر کا سبب بن سکتی ہیں تو اسے اندھا دھند اور وافر مقدار میں استعمال کرنے سے پہلے کسی ماہر غذائیت سے ضرور مشورہ کریں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے