Beetroot Ke Fawaid - Article No. 2240

چقندر کے فوائد - تحریر نمبر 2240

پیر 6 ستمبر 2021

Beetroot Ke Fawaid - Article No. 2240
یہ دراصل پودے کی جڑ ہوتی ہے۔اس میں حیاتین الف اور ب کے علاوہ فولاد اور قدرتی شکر وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔یہ سبزی جگر کے لئے بے حد مفید ہے۔حاملہ خواتین کے لئے اس کا استعمال خصوصاً مفید ہے۔چقندر شلجم کی مانند مشہور ترکاری ہے۔قدرے شیریں اور مزاج گرم تر درجہ اول بتایا جاتا ہے۔اسے فارسی میں چقندر‘عرب(سلق)‘سندھی(سورن)اور انگریزی میں beetroot کہتے ہیں۔

اکثر لوگ چقندر کو دوسری سبزیوں کے ساتھ پکانا تو درکنار کبھی کبھار بھی استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں حالانکہ یہ ترکاری ایک مفید غذا بھی ہے اور بہت سے امراض میں فائدہ دینے کے ساتھ ساتھ صحت مند خون کے اضافہ کا بھی سبب ہوتی ہے۔عام طور پر بطور سلاد زیادہ کھایا جاتا ہے۔لیکن بعض لوگ اسے پکا کر کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

اس کے گودے کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔

اس کی بعض قسمیں انتہائی سرخ جبکہ کچھ اقسام کم سرخ ہوتی ہیں۔چقندر کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے۔اس لئے ذیابیطس کے مریضوں کو اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے یہ شکر تیار کرنے کے کام بھی لایا جاتا ہے۔اس میں وٹامنز بی کے علاوہ کیلشیم‘فاسفورس اور آئرن پایا جاتا ہے۔اسے کھانے سے جسم کو طاقت ملتی ہے۔ہاضمے میں مدد دیتا ہے اور جگر کی کارکردگی درست کرتا ہے۔

تلی کے لئے بھی مفید ہے۔سر درد کی صورت میں چقندر کا استعمال فائدہ دیتا ہے۔
سرطان کا علاج
یورپی ممالک چقندر پر سرطان کو دور کرنے کیلئے تجربات کر رہے ہیں اور بعض کے خیال میں سرطان میں چقندر مفید ثابت ہوتا ہے۔ فرانس کے معالج سرطان کے مریضوں کو ایک کلو چقندر کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
قبض کشا
یہ قبض کشا ہے ورموں کو دور کرتا ہے اور ریاح کو تحلیل کرتا ہے اس میں غذائیت بہت ہوتی ہے اس کے پتوں کو بطور ساگ پکا کر کھایا جاتا ہے اور بعض لوگ اس میں تھوڑی سی مسور کی دال بھی ملا لیتے ہیں۔


بالوں کو لمبا اور نرم کرنا
بیرونی استعمال میں چقندر ابال کر اس کا پانی سر کی خشکی دور کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اس سے بال لمبے اور نرم ہو جاتے ہیں۔
سر کی خشکی
اس کے علاوہ چقندر کے پتوں کو مہندی کے پتوں کے ہمراہ پیس کر سر پر لیپ کرنے سے بھی بالوں کو نئی طاقت ملتی ہے اور سر کی خشکی جاتی رہتی ہے۔

بعض حکماء نے اس کی چند اہم خوبیاں بیان کی ہیں۔
مفرح دماغ
اس کا استعمال دماغ کے لئے انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔یہ دماغ کی تکان کو دور کرکے اسے تروتازہ کر دیتا ہے۔
بلغم کا علاج
اس کا مسلسل استعمال گلے میں گرنے والی اور سینے کی بلغم کو خشک کرتا ہے۔
برائے قوت باہ
قوت باہ کے لئے اس کو ایک ایسے ٹانک کا درجہ حاصل ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔


ورم اور ریاح کا علاج
ورم اور ریاح کو تحلیل کرنے کی قدرتی صلاحیت اس میں وافر مقدار میں موجود ہوتی ہے۔اس کے لئے اس کا رس پینا مفید ہے۔
خون اور دودھ کی کمی کا علاج
نہ صرف انسانی خون میں خاطر خواہ اضافہ کرتا ہے بلکہ وہ عورتیں جو بچوں کو دودھ پلا رہی ہوں لیکن ان کا دودھ بچے کے لئے پورا نہ پڑتا ہو چقندر استعمال کریں تو ان کے دودھ میں اضافہ ہو گا تاہم درد قولنج اور معدے کے مریضوں کے لئے مضر اثرات رکھتا ہے بلکہ کمزور معدے کے افراد کو کھانے کے بعد اپھارہ کی شکایت ہو سکتی ہے اور پیٹ پھولتا ہوا محسوس ہو سکتا ہے تاہم ہر چیز کی طرح اس کا حد سے زیادہ استعمال مضر ثابت ہو سکتا ہے۔


انیمیا کا علاج
چقندر سے خون کی پیدائش میں اضافہ ہوتا ہے۔اگر چقندر اور ٹماٹر کا جوس استعمال کیا جائے یا ان کا سوپ تیار کر لیا جائے تو یہ دبلے پتلے حضرات کے لئے یا جن کا وزن کم ہو یا پھر ان میں خون کی کمی کی شکایت ہو تو یہ ان تمام شکایات کا ازالہ کر دیتا ہے۔ایسے ننھے سے بچے جن کے جسم میں خون کی شدید کمی ہو انہیں اس سبزی کا جوس یا رس پلائیں۔

انشاء اللہ چند ماہ میں خون کی کمی کی شکایت ختم ہو جائے گی۔یہ سبزی ہر عمر کے بچوں اور خواتین و حضرات کے لئے مفید ہے۔
بلغم اور ریاح کے لئے
اس کا مزاج گرم ہے۔چقندر سینے کی نالیوں کو کھولتا ہے اور بلغم ختم کرکے جسم سے خارج کرتا ہے۔ورم اور ریاح کو تحلیل کرتا ہے۔
درد گردہ اور گنٹھیا
درد گردہ اور گنٹھیا میں آرام پہنچاتا ہے۔

اعصاب کو قوت دیتا ہے اور جسم کو طاقتور بناتا ہے۔قبض کشا ہے۔جسم کی عام لاغری کو ختم کرنے میں اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔
گنج کا علاج
سر کے بالوں کو نرم و ملائم کرنے اور سر پر بال اُگانے کے لئے اس کے پتے مہندی کے ہمراہ پیس کر سر پر لگائیں۔سر کے بال اُگنے لگیں گے اور نرم و ملائم ہوں گے۔
پتھری کا اخراج
چقندر پانی میں اس طرح اُبالیں کہ اس کا پانی گاڑھا گاڑھا نکل آئے۔ہر روز تین چار بار تین چھٹانک پانی مریض کو پلائیں۔انشاء اللہ پتھری ریزہ ریزہ ہو کر خارج ہو جائے گی۔
تاریخ اشاعت: 2021-09-06

Your Thoughts and Comments