بند کریں
صحت مضامینمضامینانگور - جگر و قلب کا دوست

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
انگور - جگر و قلب کا دوست
گرمیوں میں آم کے بعد سب سے زیادہ کھایا اور پسند کیا جانے والا پھل انگور ہے، جسے ہر عمر کے لوگ کھا سکتے ہیں۔ انگور کی بیل سدا بہار ہوتی ہے، جس کا پھل جام ، جیلی، سِر کے ، ادویہ اور بیکری کی صنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا آبائی وطن ترکی ہے، جہاں کے لوگوں نے سب سے پہلے اس کی باضابطہ کاشت شروع کی تھی۔

گرمیوں میں آم کے بعد سب سے زیادہ کھایا اور پسند کیا جانے والا پھل انگور ہے، جسے ہر عمر کے لوگ کھا سکتے ہیں۔ انگور کی بیل سدا بہار ہوتی ہے، جس کا پھل جام ، جیلی، سِر کے ، ادویہ اور بیکری کی صنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا آبائی وطن ترکی ہے، جہاں کے لوگوں نے سب سے پہلے اس کی باضابطہ کاشت شروع کی تھی۔
انگور کا پھل گچھے کی شکل میں ہوتا ہے، جس میں 200 سے 300 تک دانے لگے ہوتے ہیں۔ انگور وں کا رنگ سیاہ ، گہرا نیلا، سبز، پیلا، گلابی اور سفید ہوتا ہے۔ انگور میں حیاتین (وٹامنز) اور معدنیات (منرلز)کیثر مقدار میں ہوتی ہیں، البتہ لحمیات(پروٹینز) و چکنائی کی مقدار کم ہوتی ہے۔ یہ توانائی بخش پھل ہے اور جگر کے لئے بھی بہت فائدہ مند ہے۔
انگور کھانے سے جسم میں خون کی کمی کی شکایت دور ہو جاتی ہے۔ سیاہ یا سرخ انگوروں کا رس پینے سے خون میں تھکے بننے کا خطرہ 60 فی صد کم ہو جاتا ہے۔ ایک جدید تحقیق کے مطابق انگور امراضِ قلب اور سرطان سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق انگور پیدا کرنے والے دنیا کے بڑے ممالک میں چین، امریکا، فرانس ، اسپین، ترکی، ایران ، الجیریا، چلّی، بھارت اور اٹلی شامل ہیں۔
100 گرام انگور میں 18 گرام نشاستہ (کاربوہائڈریٹ)،72 گرام لحمیات (پروٹینز)اور 61 گرام چکنائی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ حیاتین الف ، ب، ج، ھ اور ک (وٹامنز اے ، بی، سی، ای اور کے) پائی جاتی ہیں۔ انگور میں کئی مفید صحت نمکیات بھی پائے جاتے ہیں، مثلاِِ سوڈیئم، پوٹاشیئم وغیرہ۔ اس میں کیلسیئم ، تانبا، میگنیزیئم، میگنیز اور جست (زنک) جیسی اہم معدنیات بھی ہوتی ہیں۔
درج بالا تمام حیاتین اور نمکیات صحت کے لئے نہایت ضروری و اہم ہیں۔ انگور کے موسم میں روزانہ یہ پھل کھایئے، اس لئے کہ یہ بہت صحت بخش ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے