Bwaseer

بواسیر

Bwaseer

پروفیسر ڈاکٹر سید اسلم:
دنیا میں لاکھوں افراد بواسیر کے مرض میں مبتلا ہیں، مگر وہ اس سے بے خبر ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں اور شہروں میں رہنے والی نصف آبادی 30 سال کی عمر کے بعد بواسیر میں مبتلا ہوجاتی ہے اور بعض 15 سال کی عمر بھی ۔ بواسیر ایک ایسا عارضہ ہے، جس کا ذکر کوئی نہیں کرتا ، مگر تقریباََ نصف آبادی اس میں مبتلا ہے۔

اس کی وجہ سے نہ صرف درد ہوتا ہے ،بلکہ جریانِ خون بھی ہوسکتا ہے۔ ریشے دار غذائیں کھانے سے اسے تحفظ مل سکتا ہے اور مداوا بھی ممکن ہے۔ خواتین میں اس عارضے کی اہم وجہ حمل ہے۔ اسلوبِ زندگی میں تبدیلیوں سے بواسیر کے باعث ہونے والی تکلیف اور درد رفع ہوسکتے ہیں۔ یہ مرض نہایت تکلیف دہ ہوتا ہے، گو اس کی شدت ہر مریض میں مختلف ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

مرض شدید نہ ہونے کی صورت میں بھی یہ سخت تکلیف دہ ہوسکتا ہے اور مریض انتہائی پریشان اورحواس باختہ ہوسکتے ہیں، حال آنکہ صحیح معلومات ہوں تو ان کی تکالیف کا ازالہ اور مداوا کیا جاسکتا ہے۔

یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ اس مرض کا سدّ باب ممکن ہے اور احتیاط وپرہیز سے زندگی گزاری جائے تو مرض سے ہونے والی تکالیف بھی کم ہوسکتی ہیں۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ جسم کے نچلے دہانے سے جریانِ خون مختلف وجوہ سے ہوسکتا ہے، جن میں سے بعض مرض سنگین بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ بات معائنے کے بعد صرف آپ کا معالج ہی بتا سکتا ہے کہ جریانِ خون کی وجہ بواسیر ہے یا کوئی دوسرا مرض۔

بواسیر کی وجہ سے درد ، بے چینی اور جریانِ خون کی شکایت ہوجاتی ہے۔ رفع حاجت اور نشست پر بیٹھنا نہایت تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔ اکثر بڑے افسران اس تکلیف کی وجہ سے نشست پر زیادہ دیر تک نہیں بیٹھ سکتے اور اہم اجلاس میں ان کی شرکت مشکل ہوجاتی ہے۔ نپولین کو بواسیر تھی، اس لیے وہ زیادہ دیر تک گھوڑے کی سواری نہیں کرسکتا تھا اور غالباََ اسی لئے وہ ”واٹرلو“ کی جنگ ہار گیا تھا۔

ان تکالیف کے باوجود بواسیر سنگین طبی مسئلہ نہیں، مگر معلومات اور احتیاط شرط ہے۔ کو لوگ ریشے دار غذائیں کھاتے ہیں ، زیادہ پانی پیتے ہیں اور ورزش کرتے ہیں ، وہ اس مرض سے بچے رہتے ہیں۔ اگر انھیں یہ مرض ہوبھی جائے تو اس کی شدت کم ہوتی ہے۔ اس زمانے میں جراحی اور دیگر طریقوں سے بواسیر کا علاج کیا جاسکتا ہے۔
بواسیر کیا ہے؟ یہ دراصل پُھولی اور پھیلی ہوئی نیلی رگیں ہیں، جونچلے دہانے پر بن جاتی یا اندر سے باہر نکل آتی ہیں۔

انھیں مسّے بھی کہاجاتا ہے۔ یہ اس طرح کی نیلی رگیں ہیں، جیسے بعض افراد خصوصاََ خواتین کی ٹانگوں پر ہوتی ہیں۔ ابتدا میں بواسیر کا احساس رفع حاجت کے وقت آب دست کے بعد ایسے سوجے ہوئے مسّوں سے ہوتا ہے، جیسے کوئی شے اندر ہے۔ کبھی کبھی خون بہتا ہے۔ یہ اندرونی بھی ہوتی ہے اور بیرونی بھی۔ اس کی وجہ اندر بڑھا ہوا دباؤ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اندرونی رگیں پُھول جاتی ہیں۔

یہ سیدھے کھڑے ہونے والے افراد کا مرض ہے، چوپایوں میں غالباََ نہیں ہوتا۔ قبض کے دوران زور آزمائی اور سخت سدّوں سے بھی یہ مرض ہوسکتا ہے۔ حمل کے زمانے میں بھی یہ عام ہے۔ دائمی اسہال کی وجہ سے پڑنے والی مسلسل خراشیں بھی اس کا سبب بن سکتی ہیں۔ بواسیر مردوں کو بھی لاحق ہوتی ہے اور عورتوں کو بھی ، گو عورتیں حمل کی وجہ سے اس کیفیت سے زیادہ گزرتی ہیں۔

بواسیر بذاتِ خود کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ، مگر اس کی وجہ سے ظاہر ہونے والی علامات مسئلہ بن سکتی ہے ، تاہم انھیں روکا جاسکتا ہے۔ روایتی طرز زندگی گزارنے والوں، مثلاََ افریقیوں میں یہ مرض شاذ ہے، جب کہ مغربی طرز کی غذا کھانے والوں کو ہمیشہ نشین افراد میں یہ مرض بہت زیادہ ہے۔ہمیشہ نشین سے مراد زیادہ تر بیٹھے رہنا او رکم سے کم حرکت کرنا ہے۔

جواقوام ریشے دار غذائیں کھاتی ہیں ، جن میں بھوسی زیادہ اور میدہ کم ہوتا ہے ، ان میں بواسیر بھی کم پائی جاتی ہے۔ چناں چہ ریشے دار غذائیں کھانا نہ صرف بواسیر کی روک تھا م ہے ، بلکہ اس کا مداوا بھی ہے۔
دائمی بواسیر:بعض افراد میں ایک دفعہ بواسیر کے مسّے سُوکھ جاتے ہیں تو پھر تمام عمر کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ ا س کے برعکس بعض افراد میں یہ دائمی مسئلہ بن جاتا ہے ، مگر اس سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

ایسے وقت میں اسلوب زندگی تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے، مثلاََ صحیح ریشے دار غذائیں کھائیں، جن میں ترکاریاں، سبزیاں، پھلیاں، دالیں اور پھل شامل ہیں۔ رفع حاجت کے وقت زور نہیں لگانا چاہیے۔ پانی پیاس سے زیادہ پیا جائے اور ٹہلنے کو شعار بنایا جائے۔ اس طرح اس مرض کی شدت اور تکرار کم ہوسکتی ہے۔
علامات وآثار:مسّے، درد، حسّاسیت ،جریان ِ خون (جو بالعموم اندرونی بواسیر سے ہوتا ہے)کی تشخیص مقامی طبی معائنے سے ہوسکتی ہے۔

بواسیر کے علاوہ اس سے مشابہ دیگر تکالیف بھی ہوسکتی ہیں، مثلاََ نواسیر (ناسور)،شگاف، آلسہ،سوزش، پھوڑا، پیچش ، سوزاک ، آتشک، رسولی یا سرطان وغیرہ مگر طبی معائنے سے ان کا پتا چل جاتا ہے۔ علاج کے ضمن میں مرہم،شافہ، گدّی، برف کی پٹی، ملین ادویہ، پانی میں بیٹھنا ، رفع حاجت کی صحیح عادتیں، ذاتی صفائی اور خود کو آرام دینا شامل ہیں۔

تاریخ اشاعت: 2017-12-06

Your Thoughts and Comments