بند کریں
صحت مضامینمضامیندوا معالج کے مشورے سے کھائیں

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دوا معالج کے مشورے سے کھائیں
ایک عام اور معمولی بیماری کی ادویہ بھی مختلف ہوسکتی ہے، اس لیے کہ بیماری کس مرحلے پر ہے، اس کا اندازہ معالج ہی لگاسکتا ہے ۔ اس وقت اگر آپ خود معالج بن بیٹھے اور آپ نے اپنے لیے دوا تجویز کرلی تو اس بات کا امکان ہے کہ آپ کی بیماری بڑھ جائے
ڈاکٹر نوید علوی:
ایک دوا جو آپ کے چچا، ماموں، بھائی یا دوست کو فائدہ پہنچا رہی ہو، ضروری نہیں کہ آپ کو بھی فائدہ پہنچائے۔ ایک ہی جیسی بیماری کی علامات مختلف بھی ہوسکتی ہیں۔ معالج ان علامات پر غور کرنے کے بعد ہی دوا تجویز کرتا ہے۔ ایک عام اور معمولی بیماری کی ادویہ بھی مختلف ہوسکتی ہے، اس لیے کہ بیماری کس مرحلے پر ہے، اس کا اندازہ معالج ہی لگاسکتا ہے ۔ اس وقت اگر آپ خود معالج بن بیٹھے اور آپ نے اپنے لیے دوا تجویز کرلی تو اس بات کا امکان ہے کہ آپ کی بیماری بڑھ جائے اور شدت اختیار کرلے۔ وہ دوا جو آپ نے اپنے لیے تجویز کی ہے، ممکن ہے ، اس کے پہلوئی اثرات آپ کے جسم پرپڑنے شروع ہوجائیں یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ دوسری بیماریاں پیدا ہوجائیں۔ یوں خود ہی علاجی سے پچیدگیاں بڑھتی جاتی ہیں۔ پاکستان میں اس وقت ہزاروں ادویہ رجسٹرڈ ہیں۔ ان میں سے بہت سی ادویہ کے نام ایک جیسے ہیں، لیکن ان کی کیمیائی خاصیتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایک عام شخص کو ان کے ناموں کی وجہ سے دھوکہ ہوسکتا ہے۔ میڈیکل اسٹور سے دوا خریدتے وقت یہ اطمینان ضرور کرلیجئے کہ جو دوا آپ کو دی جارہی ہے، اسی کانام معالج کے نسخے پر بھی لکھا ہے۔ کچھ ادویہ ایسی بھی ہیں ، جو دوسری ادویہ کا اثر زائل کردیتی ہیں یا اثر کو بڑھا دیتی ہیں۔ ایسی صورت میں نئی دوا کی خوراک بالکل مناسب ہونی چاہیے، یہ کام کوئی معالج ہی کرسکتا ہے۔ چند ادویہ ایسی بھی ہوتی ہیں جو دوران زچگی جینن اور زچہ پر اثر ڈالتی ہیں، جس کے نتیجے میں بچہ ضائع ہوسکتا ہے اور ماں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کچھ ادویہ جسم میں باقی رہ جاتی ہیں اور ان کا اثر ہفتوں ، بلکہ مہینوں تک رہتا ہے۔ ان کے منفی اثرات سے دوسری ادویہ بے اثر ہوجاتی ہیں۔ کوئی ماہر معالج ہی ان ادویہ کے پہلوئی اثرات سے آپ کو آگاہ کرسکتا ہے اور ان کے ازالے کا طریقہ بھی بتا سکتا ہے۔ جلد صحت یاب ہونے کے خیال سے بہت سے افراد معالج کی بتائی ہوئی خوراک سے زیادہ دوا کھانے لگتے ہیں۔ یہ ادویہ جگر اور گردوں سے ہوکر گزرتی ہیں۔ جب ہم دوا خوراک سے زیادہ کھا لیتے ہیں تو اس کے جگر اور گردوں پر اثرات پڑتے ہیں، وہ مناسب طور پر اپنا فعل انجام نہیں دے پاتے اور انھیں نقصان پہنچتا ہے۔ بعض اوقات وہ کام کرنا بندکردیتے ہیں، لہٰذا معالج آپ کے لیے خوارک تجویز کرے، اس پر عمل کرنا چاہیے۔ اگر آپ ان ادویہ کی کارکردگی اور فائدے سے مطمئن نہ ہوں ، جو معالج نے آپ کے لیے تجویز کی ہیں اور آپ ان میں تبدیلی کے خواہش مند ہوں تو معالج سے مشورہ کیجئے، کیوں کہ بعض ادویہ ایسی ہوتی ہیں کہ جب انھیں مسلسل طویل عرصے کے لیے کھایا جائے ، تب وہ فائدہ دیتی ہیں۔ میڈیکل اسٹورو ں پر کام کرنے والے افراد زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے اور نہ تجربہ کار کہ آپ کے لیے کوئی دوا تجویز کرسکیں۔ وہ آپ کی شکایت سن کر آپ کو کوئی ایسی دوا بھی دے سکتے ہیں ، جو فائدہ کے بجائے نقصان پہنچائے، اس لیے کہ انھیں آپ کی جسمانی حالت کا پتا نہیں ہوتا اور نہ وہ آپ کے خاندان کی تاریخ سے آگاہ ہوتے ہیں، یعنی یہ کہ یہ بیماری آپ کے خاندان میں کب سے چلی آرہی ہے اور اس کا کیا علاج ہونا چاہیے۔ میڈیکل اسٹوروں پر کام کرنے والوں کے پاس جب وہ دوا نہیں ہوتی، جو آپ چاہتے ہیں تو وہ اس سے ملتے جلتے نام کی دوا دے سکتے ہیں۔ چناں چہ معالج کی ہدایت کے بغیر میڈیکل اسٹور سے دوا خریدیے۔ اگر آپ میڈیکل اسٹور سے دوا خرید لیں، تب بھی معالج سے مشورہ ضروری ہے۔ پاکستان میں معالج کے مشورے کے بغیر جن امراض کی ادویہ خریدی جاتی ہیں، ان میں بخار ، نزلہ درد اور جلدی بیماریاں شامل ہیں۔ ایسا کرنا درست نہیں ہے۔ اور اس سے پچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ بیرونی طور پر لگائی جانے والی ادویہ اتنی ہی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں جتنی کہ کھائی جانے والی، اس صورت میں کہ غیر مناسب طریقے یا غیر ضروری طور پر لگائی جائیں۔ بیرونی طور پر لگائی جانے والی وہ ادویہ جو گھروں میں بنالی جاتی ہیں، انھیں معالج سے مشورہ کیے بغیر لگانے سے جلد پر جلن شروع ہوجاتی ہے اور تعدیہ (انفیکشن)بھی ہوسکتا ہے۔ بچوں کو معالج سے مشورہ کیے بغیر دوا بالکل نہ دی جائے، اس لیے کہ ان کا نظام ہضم وجذب کم زور ہوجاتا ہے اور ان کے عضلات جلد متاثر ہوجاتے ہیں۔ اپنے گھر میں صاف شفاف پلاسٹک کے ڈبوں میں ادویہ رکھیے۔ ان کا درجہ ٴ حرارت مناسب ہونا چاہیے اور یہ بچوں کی پہنچ سے دور ہونی چاہییں۔ بچوں کو اس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ شیشوں یا پیکٹوں سے دوا نکال کر خود کھائیں۔ انھیں اپنی نگرانی میں دوا کھلائیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے