بند کریں
صحت مضامینمضامیناحتیاط علاج سے بہتر ہے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
احتیاط علاج سے بہتر ہے
”احتیاط کا ایک اونس علاج کے ایک پاؤنڈ سے کہیں بہتر ہے ۔“ یہ خوبصورت بات بینجمن فرینکلن نے کہی اور آج تک درست ثابت ہو رہی ہے ۔ انسان غلطیوں کا پتلا ہے اور ان غلطیوں سے سیکھ کر اصلاحات بھی کرتا ہے
اشبا کامران
”احتیاط کا ایک اونس علاج کے ایک پاؤنڈ سے کہیں بہتر ہے ۔“ یہ خوبصورت بات بینجمن فرینکلن نے کہی اور آج تک درست ثابت ہو رہی ہے ۔ انسان غلطیوں کا پتلا ہے اور ان غلطیوں سے سیکھ کر اصلاحات بھی کرتا ہے ۔ احتیاط کسی بھی مرض کو پھیلنے سے قبل بھی روک لیتی ہے جبکہ علاج اس کا حل ہے یہی وجہ ہے احتیاط کو علاج سے بہتر قرار دیا گیا ہے ۔ اس کہاوت کا عملی مظاہرہ دنیا بھر میں ہوتا ہے لیکن تیسری دنیا کے ممالک میں صحت کے حوالے سے بہت سے تحفظات پائے جاتے ہیں اور خاص طور پر یہاں مرض کو پھیلنے دیا جاتا ہے اور احتیاط کے پہلو کو نظر انداز رکھا جاتا ہے ۔ غالباً یہاں احتیاط کے حوالے سے لوگوں کے خیالات اتنے واضح ہی نہیں ہیں ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن یعنی ڈبلیو ایچ او(WHO) کے مطابق دنیا میں سالانہ 13ملین اموات کو محض ماحول بہتر بنانے سے روکا جا سکتا ہے ۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پانچ برس سے کم عمر کے بچے زیادہ تر ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے موت کا شکار ہوتے ہیں جس میں پانی اور آلودہ ہوا شامل ہے تا ہم معمولی سی توجہ اور ماحولیاتی انتظامات کو بہتر بنانے سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔ اس ضمن میں لوگوں کو باخبر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس ضمن میں ایسی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے جس پر عمل درآمد کرنا ممکن ہو ۔ گھروں سے لے کر کام کرنے والی جگہوں تک کے معاملات میں بچاؤ کی تدابیر کو اپنانے کی ضرورت سے آگاہ کرنا ہو گا ۔ تمام لوگوں کو آگاہی کی اس مہم میں شامل کر کے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔
اس پر عالمی برادری کی توجہ بھی درکار ہے کہ وہ ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کیلئے آگے آئے اور گلوبل وارمنگ سے لے کر کیمیائی اعتبار سے آلودگی پھیلنے کے مسئلے پر اپنے ذرائع خرچ کرے اور خوراک ، صاف پانی کی دستیابی کو یقینی بنائے ۔ یہ موحولیاتی اقدامات عام اور غریب آدمی کی صحت پر مثبت اثرات چھوڑیں گے اور قومیں اس میں تعاون کو بڑھا کر مل کر اس مسئلے پر قابو پا لیں گی ۔ اس ضمن میں دنیا بھر کی مشترکہ کوششوں سے ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے پھیلنے والی وبائیں پھوٹنے سے قبل ہی ختم ہو سکیں گی اور صحت مند معاشرے کی بنیاد مضبوط کی جا سکے گی ۔
احتیاط کی اہمیت کو پاکستان میں پہلے سے زیادہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں انسانی صحت کے حوالے سے بہت سے تحفظات پائے جاتے ہیں ۔ یہاں پر بڑھتی غربت اس طرح کے معاملات کو اور بھی بھیانک بنا رہی ہے ۔ یہاں پینے کے صاف پانی ، آلودگی ، آلودہ اور مضر صحت خوراک اور علاج معالجے کی سہولیات کی کمی کی وجہ سے ماحولیات آلودگی وہ گند پھیلا رہی ہے جس کی زد میں آنے والے لوگوں کی شرح اموات کہیں زیادہ ہے ۔ اس خوفناک صورتحال میں چند حفاظتی اقدامات لاہور میں میڈیکل اینڈ نرسنگ سہولت بورڈ کی وجہ سے کئے جا رہے ہیں ۔ اس منصوبے کو ایف این ایف (FNF) کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ لوگ مریضوں کی بہبود کیلئے کام کرتے ہیں اور ان کا طریقہ کار علاج سے زیادہ احتیاط پر مبنی ہے ۔ ایف این ایف مریض اور مریضوں کے لواحقین کو ماحولیاتی آلودگی سے بچاؤ کیلئے بنیادی آگاہی اور تعلیم فراہم کرتی ہے ۔ اس ادارے کا اولین مقصد مریضوں کو اچھا ماحول فراہم کرنے کیساتھ ساتھ صحت مند غذا کی دستیابی بھی ہے ۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں” احتیاط علاج سے بہتر ہے“ جیسے مصدقہ مقولے پر عمل درآمد کروانا وقت کی ضرورت ہے اور یہاں ایف این ایف جیسے کئی اور اداروں کو صحت اور ماحول کو بہتر بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر آگے آنا ہو گا اورخود کو ماحولیاتی آلودگی کیخلاف سیسہ پلائی دیوار ثابت کرنا ہو گا ۔

(1) ووٹ وصول ہوئے