بند کریں
صحت مضامینمضامینانفیکشن کئی موذی امراض کی وجہ بن سکتا ہے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
انفیکشن کئی موذی امراض کی وجہ بن سکتا ہے
ڈاکٹر شعیب سرور کی رائے میں اکثر خواتین کوسبزی یاپھل وغیرہ کاٹتے وقت چھری سے معمولی سا کٹ لگ جاتا اور بدقسمتی سے زیادہ تر خواتین اس کی پرواہ نہیں کرتیں جس کے باعث نہ صرف جراثیم انفیکشن پھیلانے کاسبب بنتے ہیں بلکہ زخم بھی جلدی ٹھیک نہیں ہوتا۔
محمد اظہر:
انفیکشن سے مراد کسی بھی ضرررساں خورد بینی مخلوق جیسے وائرس یابیکٹیریا کا انسانی جسم پر اثر انداز ہو کر اسے نقصان پہنچانا ہے۔ یوں تو یہ وائرس اور بیکٹیریا کئی قسم کے موذی انفیکشنز کا باعث بنتے ہیں جن میں ایڈز، کینسر اور ہیپاٹائٹس جیسے مہلک امراض شامل ہیں تاہم چھوٹے موٹے نقصانات ہماری غفلت یابے احتیاطی کی صور میں بھی سامنے آتے ہیں۔ بچوں اور بڑوں میں زخم کا خراب ہوجانا، ڈائریا، نزلہ، کھانسی اور چہرے کے دانے بھی اکثر انفیکشن کے باعث ہی ہوتے ہیں۔بچوں کوکھیل کود کے دوران کوئی چوٹ لگ جائے تو بھی بعض والدین توجہ نہیں دیتے اور بیکٹیریا اپنا کام دکھاکرزخم کوخراب کردیتے ہیں۔ خاتون خانہ کوبھی اکثر انفیکشنز کاسامنا رہتا ہے بہت سی خواتین دسٹنگ(Dusting) یعنی صفائی ستھرائی کے دوران اپنا چہرہ مکمل طور پر کور(Cover) نہیں کرتیں اور انہیں فلو (Flu) ہوجاتا ہے۔ ان حالات میں کھانا تیار کرتے یا دیگر گھریلو معمولات نپٹاتے ہوئے یہ انفیکشن گھر کے دیگر افرادمیں بھی منتقل ہوسکتا ہے۔ اسی طرح سبزی یا پھل وغیرہ کاٹتے وقت اکثر اوقات چھری سے معمولی ساکٹ لگ جاتا ہے، بدقسمتی سے زیادہ خواتین اس کی پرواہ نہیں کرتیں جس کے باعث نہ صرف جراثیم انفیکشن پھیلانے کاسبب بنتے ہیں بلکہ زخم بھی جلدی ٹھیک نہیں ہوپاتا۔ بعض گھروں میں بچے شوق کے ساتھ بلی یا کتا وغیرہ پال لیتے ہیں جوکئی موسمی بیماریوں کاشکار ہوتے ہیں چنانچہ ان سے کھیلنے والے بچے بھی ان کے جراثیم سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ ان حالات میں تمام افراد کانہ بالخصوص بچوں کے معاملے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ اس کے باوجود اگر بچوں یابڑوں کو چھوٹی موٹی چوٹ لگ جائے تو انہیں انفیکشن سے بچانے کے لئے وہ جگہ فوری طور پر الکحل پیڈ (Alcohol pad) اور پائیوڈین سے صاف کریں بلکہ دونوں چیزیں، ہروقت گھر میں موجود ہونی چاہئیں۔ البتہ زخم یاکٹ گہرا ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کری۔
ناخنوں کو ہمیشہ احتیاط سے کاٹیں:
اکثرلوگ ناسمجھی میں ہاتھوں اور پاؤں کے ناخنوں کی ضرورت سے زیادہ اور غلط طریقے کاٹ لیتے ہیں۔ ناخنوں کی ہمیشہ بارڈرلائن کٹنگ کریں یعنی دائیں اور بائیں کناروں کوکاٹنے کی بجائے صرف اوپر کے رخ سے ناخنون کے لیٹرل اینڈز (Lateral ends) ہی کاکاٹنا چاہیے ورنہ ان گروئن نیل کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ جس سے چھٹکاراپانے کے لئے چھوٹی سری سرجری کروانا پڑتی ہے۔ اسی طرھ کئی لوگ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں پر ناخنوں کے نیچے پیدا ہونے والے باریک باریک ریشوں کو کھینچ کراُتارنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسا دراصل زیادہ خشکی یابہت زیادہ نمی کی وجہ سے ہوتا ہے اور اگر انہیں بھی چھیڑا جائے تو یہ مردہ خلیے خود بخود جھڑ جاتے ہیں۔ بہر حال پہلے تو انگلیوں پر موئسچرائز لگا کر رکھیں تاکہ یہ خشک نہ رہیں اور دوسرے انہیں زیادہ دیر تک گیلانہ رہنے دیں۔ چیڈیاں یابوائیاں بننے کی صورت میں بھی ذاتی نیل کٹریا قینچی کے ساتھ انہیں بڑی احتیاط سے کاٹ دیں۔ خیال رہے کہ ان میں کھنچاؤ پیدا نہ ہو ورنہ یہاں موجود نقصان دہ بیکٹیریا کے باعث زخم بن سکتا ہے۔ بعض اوقات یہ صورتحال وٹامن اے ، سی اور ڈی کی کمی کے باعث بھی پیدا ہوتی ہے اس لئے تازہ پھلوں اور سبزیوں کا بھرپور استعمال کریں۔
جس کے کسی بھی حصے سے بالوں کو نوچنا نہیں چاہیے:
بعض لوگوں میں ناک کے اندریا بیرونی کناروں پردانے نکل آتے ہیں۔ ہمیشہ اس بات کا خیال رکھیں کہ ناک کے قریب بننے والی مثلث دراصل چہرے کا حساس ترین حصہ ہے اور اگر ناک کے قریب یا ناک کے اندر سے جبراََ بال وغیرہ اکھاڑے جائیں تو یہاں انفیکشن کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے اور اس حصے میں ہونے والی انفیکشن دماغ تک اثر کرتی ہے۔ ناک کے بالوں کو اگر نکالنا ضروری ہوتو اس مقصد کے لئے جراثیم پاک کٹر یاقینچی استعمال کریں۔ بعض اوقات چہرے کے کسی بھی حصے سے ناخنون سے کھینچ کر بال اکھاڑنا انفیکشن کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ کان کے اردگرد یااندر بال موجود ہوں تو اسی احتیاط کا مظاہرہ کریں۔
فلو سے بچنے کے لئے ویکسی نیشن کیوں ضروری ہے:
ہمارے ہاں سب سے عام قسم کی انفیکشن فلو (Flu) یعنی نزلہ زکام کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ اس سے بچنے کے لئے ہرسال باقاعدگی سے فلو کی ویکسینیشن کروائیں۔ آج کل بالخصوص سوائن فلو کابھی خدشہ ہے اس لئے آئندہ برس مقسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی احتیاط شروع کردیں۔ گھر میں جب بھی کسی کو فلو کی شکایت ہوتو باقی افراد کوبے حد احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ہمارے ہاں کپڑے سے ناک صاف کرنے کی روایت بھی بالکل غلط ہے۔ بہتر ہے کہ ہر دفعہ نئے ٹشوپیپر یا پانی سے ناک صاف کیا جائے۔ فلو کے دوران نیزل باتھ (Nasal bath) یعنی ناک میں پانی ڈالنا بے حد فائدہ مند ہے۔ اس کے لئے وضو کی طرح ناک میں بار بار پانی ڈال کراسے صاف کرلیں، یہ عمل دن میں کئی مرتبہ دہرائیں۔ فلو ہوجانے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ پانی پئیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ بعض اوقات کھانسی کی وجہ بھی کوئی وائرل یابیکٹیریل انفیکشن ہی ہوتی ہے۔ ہوا میں موجود وائرس یا بیکٹیریا جسم پر اثرانداز ہوجائیں تو پھیپھڑوں کا انفیکشن ہوجاتا ہے جس کے باعث کھانسی کی شکایت ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں گھر کے بزرگ افراد کی خاص طور پر کیئر کریں ورنہ انفیکشن دوسروں تک بھی منتقل ہوسکتا ہے۔
کیل مہاسوں سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں:
اکثر خواتین اور ٹین ایجر لڑکیاں کیل مہاسوں سے چھیڑچھاڑ کے باعث بھی انفیکشن کا شکار رہتی ہیں۔ واضح رہے کہ کیل مہاسوں کی بڑی وجہ ہارمونز (Hormones) میں تبدیلی، بیرونی ماحول اور مخصوص غذائیں ہیں۔ آپ کیل مہاسوں کو جتنا دبائیں گی، انفیکشن کاخطرہ بڑھتا جائے گا۔ مہاسوں سے چھٹکارا پانے کے لئے ہمیشہ کسی ماہر امراض جلد سے رابط کریں نہ کہ اپنے ناخن یا مختلف اوزاروں سے انہیں مزید خراب کریں۔ چہرے کے دانوں میں انفیکشن کاایک اور ہم محرک سٹیرائیڈز (Steroids) والی کریمیں بھی ہیں، جنہیں خواتین کی ایک بڑی تعداد کبھی رنگ گورا کرنے اور کبھی کیل مہاسوں سے نجات کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ ایسی غیر معیای چیزوں سے مکمل پرہیز کریں اور بالخصوص چہرے کو سورج کی براہ راست دھوپ اور چولہے کی حدت سے ہر ممکن حدتک بچائیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے