بند کریں
صحت مضامینمضامینجوئیں بھی ایک آفت

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جوئیں بھی ایک آفت
فیض صاحب اپنی بچی کی صحت کی طرف سے بہت پریشان تھے۔ ان کی بچی کے سر کی جلدکسی نامعلوم جلدی بیماری سے لہولہان رہتی تھی۔
سیدرشید الدین احمد:
فیض صاحب اپنی بچی کی صحت کی طرف سے بہت پریشان تھے۔ ان کی بچی کے سر کی جلدکسی نامعلوم جلدی بیماری سے لہولہان رہتی تھی۔ بچی کے سر میں ہونے والی کھجلی نے اس کاناک میں دم کررکھا تھا۔ آخر ایک دوست کے مشورے پر انھوں نے جلدی امراض کے ایک ماہر سے مشورہ کیا تو اس نے بڑی سنجیدگی سے ان سے کہا کہ جناب آپ کی بچی کی اس تکلیف کاایک ہی علاج ہے۔ اولین فرصت میں اس کا سرمنڈوا دیجئے اس کی ی تکلیف صرف جوؤں کا نتیجہ ہے۔
اخبارات میں یہ خبربھی نمایاں طور پر شائع ہوئی کہ انگلستان میں اسکول کے بچوں، بچیوں کے سرجوؤں سے اس حد تک بھر چکے ہیں کہ ہرکلاس میں وہ سر کھجاتے نظر آتے ہیں ۔ چنانچہ محکمہ صحت نے ہر اسکول کے لیے ایک نرس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، تاکہ وہ ایسے بچوں کے بالوں سے جوؤں کا خاتمہ کردے۔
ہمارے ہاں یہ تکلیف نئی نہیں ہے۔ کیس بھی محفل میں جوؤں کاتذکرہ ہوتے ہی خواتین خواہ مخواہ اپنے سر کھجانے لتی ہیں۔ یہ کھجلی جوؤں کی وجہ سے نہیں ہوتی ، بلکہ ان کی پرانی یادسر کھجانے لگتی ہے۔
جوؤں کے باے میں مشورہے کہ گرم مرطوب موسم میں ان کا بڑا زور ہوتا ہے، اسی طرح یہ بھی مشہور ہ کہ گیلے بالوں میں یہ خوب پھلتی پھولتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق کراچی کے بیشتر اسکولوں کے بچوں کے سروں میں یہ خوان چوسنے والا کیڑا موجودہوتا ہے۔ کراچی نہیں جوں دنیا بھر میں موجود ہوتی ہے۔
جوں اس اعتبار سے ایک بڑا مسئلہ ہے کہ اس کا کھوج لگانا بہت مشکل ہوتا ہے کہ ی کب اور کہاں سے انسانی سرمیں آگھستی ہے، اس لیے فیشن ایبل خواتین بھی اس کے ذکر سے کتراتی ہیں اور جب بھی موقع ملے، اسے اپنے بالوں میں ٹٹولتی نظر آتی ہیں۔
یوں تو اساتذہ، خاص طور پر استانیوں کی ایک ذمے داری یہ بھی ہے کہ وہ طلبہ اور طالبات کے بڑھے ہوئے ناخن گندے دانت اور گندے کپڑوں پر نظر رکھنے کے علاوہ یہ بھی دیکھیں کہ یہ حقیر کیڑاان کے سروں میں ڈیرہ ڈالے ہوئے تونہیں ہے، ایسی صورت میں ان کی ذمے داری ہے کہ متعلقہ لڑکی اور لڑکے کے والدین کو اس کی تحریری اطلاع دیں ، تاکہ وہ اسے اس تکلیف سے نجات دلائیں۔ اس ضمن میں بہ طور سزابچے کواسکول آنے سے روکنا نہیں چاہیے، کیوں کہ دراصل بچے یہ سزا، خاص طور پر اپنی ماں کی بے پروائی کی وجہ سے بھگتتے ہیں۔ اس کے علاوہ استاد کایہ فرض بھی ہے کہ وہ پوری کلاس کو بتادے کہ ان میں سے کسی کے سر میں جوئیں موجود ہیں، اس لیے وہ محتاط ہوجائیں اور اپنے والدین سے سراوربال گھر پر چیک کرنے کے لیے اصرار کریں۔
جوں کیا ہے :
کھٹمل اور دیگر کیڑوں کی طرح جوں بھی ایک طفیلی کیڑا ہے ۔ کھٹمل فرنیچریاپلنگ، گھر کی دیگر اشیا، خاص طور پر بستر وغیرہ میں موجود ہوتے ہیں، جب کہ جوں کا ٹھکانا سرکے بال ہوتے ہیں۔ یہ زیادہ تر 5سے 13سال کی عمر کے بچوں کے سرمیں موجود ہوتی ہیں،لیکن یہ ضروری نہیں ہے۔ بڑی عمر کی خواتین کے سر میں بھی یہ موجود ہوتی ہیں، خاص طور پر وہ خواتین اس کانشانہ بنتی ہیں، جنھیں اپنے بالوں میں توجہ کے ساتھ کنگھی کرنے تک کی فرصت نہیں ہوتی ۔ مغرب میں ایسی خواتین بھی دیکھی گئی ہیں، جو اپنے سر کی صفائی کے لیے پالتو بندر سے بھی کام لینے سے نہیں چوکتیں۔ واضح رہے کہ بندر فرصت کے اوقات میں ایک دوسرے کے بالوں سے جوئیں چن کرانھیں چٹ کرتے رہتے ہیں۔
جوئیں سرکی جلد سے چمٹ کر اُس کاخوان پیتی رہتی ہیں، اگرچہ یہ خوان مقدار میں بہت کم ہوتا ہے، یعنی مچھر اور کھٹمل کے مقابلے میں یہ کم خوچ چوستی ہیں، گردن کے پچھلے حصے میں اور کان کے پیچھے یہ زیادہ جمع رہتی ہیں۔
علامات:
جوں کے خون چوسنے کی وجہہ سے سر میں کھجلی رہتی ہے اور کھال سوج جاتی ہے۔ بار ار کھجانے سے کھال سے خون بھی رسنے لگتا ہے۔
علاج:
بنیادی طور پر بالوں کا روزانہ صاف کرنا ایک اہم ضرورت ہے۔ ہرماں کا فرض ہے کہ وہ بچوں کے گھر آتے ہیں ان کے سر کا معائنہ کرے اور کنگھی سے اچھی طرح صاف کرے۔ اب جوؤں کو ہلاک کرنے والے شیمپو اور کریمیں وغیرہ بہت عام ہیں ، جن کے درست استعمال سے بال جوؤں سے صاف اور محفوظ رکھے جاسکتے ہیں۔ گیلے بالوں میں کنگھی اچھی طرح کرنے سے جوئیں کنگھی کے ساتھ باہر نکل آتی ہیں، انھیں اسی وقت مار دینا چاہیے۔ جوؤں سے متاثر افراد کے کپڑے اور تکیوں کے غلاف کھولتے پانی میں بھگوکردھودینا چاہیے۔ اسی طرح ہیئر بینڈوغیرہ کاصاف کرنا بھی ضروری ہے۔ بچوں بچیوں کویہ ہدایت بھی کی جائے کہ وہ ایک دوسرے سے سر ملاکر نہ بیٹھیں۔ یہ احتیاط بھی ضروری ہے کہ جوؤں کو ہلاک کرنے کے لیے کسی قسم کی کیڑے مار ادویہ استعمال نہ کی جائیں۔ نیم کا تیل اس کے پسے ہوئے پتوں کا لیپ بھی مئوثر علاج ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے