بند کریں
صحت مضامینمضامینخوشبو لگائیے، سکون پائیے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خوشبو لگائیے، سکون پائیے
آج کل خوشبو سے علاج (Aromatherapy) بھی کیا جاتا ہے، جس سے درد میں آرام ملتا ہے اور آپ مزاج خوش گوار رہتا ہے۔
رضوانہ نقوی:
خوشبو پھولوں ہی سے نہیں، پودے کے مختلف حصوں، مثلاََ چھال، تنے، جڑ اور پتیوں سے بھی حاصل کی جاتی ہے۔ خوشبو سے مراد یہ نہیں ہے کہ کشیدکی ہوئی چیز کو صرف سونگھا جائے، خوشبو سے مساج بھی کیا جاسکتا، لوش میں ڈالا جاسکتااور غسل کرتے وقت پانی میں بھی ملایا جاسکتا ہے۔
خوشبو کے اثرات کئی طرح سے مرتب ہوتے ہیں، چاہے آپ اسے سونگھیں یامساج کریں۔ عطرکو اب متبادل علاج کے طور پر بھی استعمال کیا جارہا ہے، جس میں تعدیہ (انفیکشن)، ذہنی دباؤ اور انسان کی دوسری پریشانیاں بھی شامل ہیں۔ جب عطر کا مساج کیا جاتا ہے تو آپ کی جلد اسے جذب کرلیتی ہے۔ اس طرح سے مساج کرنا بھی ایک طریقہ علاج ہے۔
خوشبو کے ناک میں پہنچتے ہی ناک کے اندرونی اعضا متحرک ہوجاتے ہیں اور اعصابی نظام کے ذریعے سے دماغ کے حصوں کو پیغام بھیجتے ہیں، جو ہماری یادداشت اور جذبات واحساسات کو قابو میں کرتے ہیں عطر کے سالمات (نالیکیولز) دماغ کے احساسات وجذبات کو متحرک کردیتے ہیں اور انھیں سکون پہنچاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اسطوخودوس (لیونڈر) کی خوشبو بھی دماغ کے خلیوں کو اسی طرح سے متحرک کرکے سکون پہنچاتی ہے، جیسے کہ مسکن دوا کھانے کے بعد آپ کونیند آنے لگتی ہے۔
خوشبوکو اچھی طرح سونگھنے سے آپ کاذہنی دباؤ دور ہوجاتاہے، افسردگی، بے چینی اور بے قراری کم ہوجاتی ہے، نیند آنے لگتی ہے، اس لیے کہ دماغ پر سکون ہوجاتا ہے، روح میں فرحت پیدا ہوجاتی ہے اور آپ خود کوتروتازہ اورتوانا محسوس کرنے لگتے ہیں۔
دفاتر میں کام کرنے والے بہت سے افراد دماغی صلاحیت بڑھانے کے لیے خوشبو سے علاج کراتے ہیں، تاکہ چاق چوبندرہیں۔ اسپتالوں میں بھی اس کے تجربات کیے جارہے ہیں۔ مریضوں کو خوشبو لگا دی جاتی ہے، تاکہ ان کے اعصاب پُرسکون ہوجائیں اور ادویہ ان پر بخوبی اثرا نداز ہوسکیں، مثلاََ جب حاملہ خواتین کو گلاب اور لیونڈرکی خوشبو استعمال کرائی جاتی ہے تووہ خوف اور تشویش میں مبتلا نہیں رہتیں۔ چنانچہ چگی کے دوران انھیں دافع دردادویہ پر زیادہ انحصار نہیں کرنا پڑتا۔
وہ حالتیں جن میں خوشبو کاعلاج کار گرہوتا ہے، ان میں بالوں کا گرنا، بے چینی اور اضطراب پر قابو پانا، قبض (اس میں خوشبو سے پیٹ پر مالش کی جاتی ہے)، بے خوابی اور چنبل شامل ہیں۔ خوشبو جراثیم کش ہوتی ہے اور دافع پھپوند بھی۔ یہ دیمک سے بھی بچاتی ہے۔ بڑھاپا روکتی اور آپ کی عمر میں اضافہ کرتی ہے۔
عطر درد کو دور اور سوزش کاخاتمہ کرتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہ افراد جنھیں جوڑوں کے پتھرانے کی شکایت ہو، سرطان ہویا سردرد کی شکایت توخوشبو سے علاج کرانے پر انھیں دافع درد ادویہ بہت کم کھانی پڑتی ہیں۔
خوشبو کااستعمال حالانکہ نقصان دہ نہیں ہے، مگر اسے جسم کے اوپری حصے پر لگاتے یا سونگھتے وقت احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ عطر کو پینا نہیں چاہیے، اس لیے کہ بعض عطر میں زہریلی خاصیت بھی ہوتی ہے۔
خوشبو سے علاج میں پہلوئی اثرات کم ہوتے ہیں۔ حاملہ خواتین، وہ افراد جنھیں دمہ ہے یا جوحساسیت (الرجی) میں مبتلا ہوجاتے ہیں، عطر استعمال کرنے سے قبل کسی تجربے کار معالج سے مشورہ ضرور کرلیں وہ افراد جنھیں بلڈپریشرہو، وہ روز میری اور لیونڈر استعمال نہ کریں۔ جب عطر کو اپنے چہرے پر بطور دوا لگا رہے ہوں تو اسے آنکھوں میں نہ جانے دیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے