بند کریں
صحت مضامینمضامینموسم بہار میں دَمہ

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
موسم بہار میں دَمہ
موسم معمول کے مطابق بدلتے رہتے ہیں ۔ ہر موسم کے اپنے مخصوص تقاضے ہوتے ہیں ۔ موسم سرما اختتام پذیر ہونے کے بعد موسم بہار پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ گرہوتا ہے ۔ ہمارے ہاں یہ موسم مارچ اور اپریل میں ہوتا ہے ۔ ہرطرف پھولوں کی مہک ہوتی ہے ۔
حکیم راحت نسیم سوہدروی :
موسم معمول کے مطابق بدلتے رہتے ہیں ۔ ہر موسم کے اپنے مخصوص تقاضے ہوتے ہیں ۔ موسم سرما اختتام پذیر ہونے کے بعد موسم بہار پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ گرہوتا ہے ۔ ہمارے ہاں یہ موسم مارچ اور اپریل میں ہوتا ہے ۔ ہرطرف پھولوں کی مہک ہوتی ہے ۔ باغوں میں ہر عمر کے لوگوں کی چہل نظر آتی ہے ۔ طبیعت میں خوش گواری اور فرحت کا احساس ہوتا ہے ۔ زندگی کی امنگ بیدار ہوتی ہے ۔ جسم میں عمل کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے ۔ مگر اس کے باوجود بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں ، جن کے لیے موسم تبدیل ہونے کے ایام اور موسم بہار بڑا اذیت ناک ہوتا ہے ۔ الرجک دمہ کے مریض ایسے ہی لوگوں میں شامل ہیں ۔
دنیا بھر میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ افراد دمے جیسے موذی مرض کاشکار ہیں اور ان کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے ، مگر جن لوگوں کو الرجک دمہ ہے ، ان کے لیے یہ فرحت بخش موسم خوش گواری کے بجائے ناخوش گواری کا پیغام لیے آتا ہے ، کیوں کہ موسم بہار کے ایام ان کے لیے وبال جان بن جاتے ہیں ۔ سانس لیتے ہوئے وہ تکلیف محسوس کرتے ہیں ۔ دم گھٹتا ہے اور سینے میں جکڑن محسوس ہوتی ہے ۔ گاہے بہ گاہے کھانسی ہوتی ہے اور زور لگاکر سانس لینا پڑتا ہے ۔ جوں جوں موسم بہار ختم ہونا اور گرمی کا زور بڑھنا شروع ہوجاتا ہے ، الرجک دمہ کے مریضوں کی طبیعت بحال ہونا شروع ہوجاتی ہے ۔
الرجک دمہ :
الرجک دمہ ہر عمر کے افراد کو ہوسکتا ہے ۔ یہ کسی خاص چیز کی الرجی سے ہوتا ہے ۔ جس چیز کی الرجی سے دمہ ہوتا ہے اسے حساسیہ یاالرجن کہتے ہیں ، مثلاََ گائے کا گوشت، دودھ اور چاول وغیرہ ۔ بعض افراد کو ان اشیا کے باعث الرجک دمہ ہوتا ہے ۔ دودھ پیتے بچے کو گھر کے اندر کی اشیا سے الرجی ہوسکتی ہے ۔ اس کے علاوہ بستر، دریوں ، قالین، سوفوں کے گردوغبار ، جانوروں کے پرسرد ہوا، خشک موسم ، ماحولیاتی اور فضائی آلودگی اور مرطوب آب وہوا سے بھی حساس افراد کو الرجک دمہ ہوجاتا ہے ۔
موسم بہار میں پھلوں ، پھولوں ، گھاس اور پودوں کا زیرہ فضا میں شامل ہوجاتا ہے ۔ اس طرح یہ باریک ذرے (بیرونی مادے ) سانس کے ذریعے سے پھیپھڑوں میں پہنچ کر سوزش اور ورم پیدا کرتے ہیں ، جس سے سانس کی نالیاں تنگ ہونے سے سانس گزرنے میں دقت ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ موسم کا سرد اور خشک ہونا بھی اس کا سبب بنتا ہے ۔ بیرونی مادوں سے ہونے والا دمہ الرجک دمہ کہلاتا ہے ۔ جو یہ موسم ختم ہونے اور فضا کے صاف ہونے پر ٹھیک ہوجاتا ہے ۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کچھ مخصوص درخت موسم بہار میں الرجی کا سبب بنتے ہیں اور وہاں لوگوں کی بڑی تعداد اس سے متاثر ہوتی ہے ۔ حکومت نے ان درختوں کوا کھاڑ کر ختم کرنے کاسلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ مگر ابھی تک موسم بہار وہاں کی آبادی کے ایک بڑے حصے کو متاثر کرتا ہے ۔
احتیاطی تدابیر :
صبح نماز فجر کے بعد کھیلے میدان میں آدھے گھنٹے تک لمبے لمبے سانس لیجیے ۔ گھر کی صفائی پر خاص توجہ دیں اشیا کو گردوغبار سے محفوظ رکھیں ۔ کھٹی اور تیل والی اشیا سے پرہیز کریں ۔ مقوی غذائیں زیادہ کھائیں ۔
نسخہ :
برگ بنفشہ چھے گرام ، تخم میتھی (میتھی دانہ ) چھے گرام اور دار چینی تین گرام لے لیں ۔ پھر انھیں آدھے گلاس پانی میں ابال کر چھان لیں اور نہار منھ دو ہفتے تک پییں ۔

(0) ووٹ وصول ہوئے