بند کریں
صحت مضامینمضامینناک و گلا کے مریضوں کا تعلق ڈینٹل سرجری سے ہے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ناک و گلا کے مریضوں کا تعلق ڈینٹل سرجری سے ہے
تشخیص کا عمل اتنا سیدھا نہیں۔پہلے منہ کا معائنہ کیا جاتاہے۔ انفیکشن والی جگہ سے جرثومی مواد لیا جاتا ہے۔ تاکہ لیبارٹری سے ٹیسٹ کیا جائے کہ جرثومی انفیکشن کس نوعیت کا ہے اور کون سی دوائی اینٹی بائیوٹک (Antibiotic)دینی ہے
پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی
اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ نے انسانی جسم کو اس قدر حکمت اور دانائی سے تخلیق کیا ہے کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔ جسم کے ہر عضو کو اپنی ڈیوٹی سونپی گئی اور ہر حصہ کی حد مقرر کی گئی ہے۔ منہ کی فوقیت دانتوں کی موجودگی کی وجہ سے ہے۔ اگر دانت مضبوط، صحیح، درست اور ٹیڑے نہیں تو چہرے کے حسن میں اضافہ ہوتا ہے۔۔خوراک چبانے میں لذت میسر آتی ہے۔ اللہ نے خوراک کو پسنے کے لئے دو جبڑے بنائے۔اوپر والے جبڑا کو میگزیلا(Magzilla)کہتے ہیں اور نچلے جبڑا کو مینڈیبل (Mandible)کہتے ہیں دونوں جبڑوں میں32دانت اور ڈاڑھیں ہوتی ہیں۔ سامنے والے دانتوں کو سنٹرل انسائر (Central Incisors)اور ساتھ والوں کو عقبی انسائر کہتے ہیں۔ان کے بعد ہونٹ کے کنارے پر خوبصورتی کا ضامن (Cuspid) مضبوط توانا دانت ہے۔ جس کی جڑ لمبی ہوتی ہے۔ بڑاپختہ دانت ہے بعد میں دو چھوٹی ڈاڑھیں ہیں اور آخر میں 3بڑی ڈاڑھیں ہیں۔ اِسی طرح نچلے جبڑے میں بھی دانتوں کی ساخت ہے۔ ہر جبڑے کی ہڈی میں 16 دانت موجود ہوتے ہیں۔ ہر جبڑا کی شکل انگریزی لفظ(U)یو کی طرح ہے۔ گویا جبڑے کی ہڈی کھلی ہے۔ اس میں قدرت کی طرف سے اور موروثی اعتبار سے 16 دانت اور ڈاڑھیں ہیں۔ پورے جبڑے میں دانت اورڈاڑھیںآ جاتی ہیں۔اگر جبڑے کی ہڈی بیضوی ہے اور وہ انگریزی لفظ(V)وی کی طرح ہے تو سامنے والے دانت ہونٹ سے باہر نظر آتے ہیں۔چہرہ جاذب نظر نہیں رہتا اور عقل ڈاڑھوں کے لئے جبڑے کی ہڈی میں جگہ نہیں ہوتی لہٰذا وہ جبڑے کی ہڈی میں پھنس جاتی ہیں۔ عقل ڈاڑھ نکلتے وقت جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ٹیڑی ہو جاتی ہے یا باہر نکلتے وقت تکلیف دیتی ہے اور یہ جگہ برش سے صاف نہیں ہوتی۔لہٰذا یہاں جرثو می گروتھ پیدا ہوجاتی ہے اور گلہ کے غدود کو متاثر کرتی ہے۔ اِ س طرح ایسے مریض جن کو عقل ڈاڑھ نکلتے وقت درد کرتی ہے اور پھنس جاتی ہے۔ان کا گلا اکثر خراب رہتا ہے اور وہ ٹانسلز کی شکایت کرتے ہیں۔کبھی کبھار ہلکا سا بخار بھی ہوتا ہے۔ اِسی طرح اگر گلہ کے ٹانسلز میں سوزش ہے تو عقل ڈاڑھوں میں ورم کے علاوہ درد ہوتا ہے۔ایسے مریض جن کو عقل ڈاڑھیں ٹیڑی پیدا ہوتی ہیں یا درد ہوتا ہے۔ ان کی سوزش ختم کرکے اِن کو نکالنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ویسے عقل ڈاڑھ نکالنے کا عمل بھی سیدھا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ہڈی کا کچھ حصہ کاٹنا بھی پڑتا ہے۔ کبھی ایسے مریض کو بے ہوشی دے کر آپریشن کیا جاتا ہے۔ کبھی مقامی طو رپر ٹیکہ سے سْن کیا جاتاہے اور عقل ڈاڑھ سرجن نکال دیتا ہے۔
تشخیص کا عمل اتنا سیدھا نہیں۔پہلے منہ کا معائنہ کیا جاتاہے۔ انفیکشن والی جگہ سے جرثومی مواد لیا جاتا ہے۔ تاکہ لیبارٹری سے ٹیسٹ کیا جائے کہ جرثومی انفیکشن کس نوعیت کا ہے اور کون سی دوائی اینٹی بائیوٹک (Antibiotic)دینی ہے۔ مریض کی میڈیکل ہسٹری لینی لازم ہے۔ گویا اگر آپ کا گلہ اکثر خراب رہتا ہے تو ماہرناک،کان گلا سرجن سے معائنہ ضرور کرائیں۔ اسی طرح اگر ناک سے کوئی بچہ ، خاتون یا بڑا آدمی سانس نہیں لے سکتا یا نہیں لیتا تو ان کا منہ اکثر کھلا رہتا ہے۔ ناک بند ہونے کی وجہ سے مریض سانس منہ سے لیتا ہے۔ جس کی وجہ سے فلٹر کا عمل جو ناک کرتا ہے وہ عمل نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کے نچلے والے مسوڑھوں میں اکثر سوزش اور سْرخ ہو جاتے ہیں۔ خدا نے ناک سانس لینے کے لیے لگائی ہے ۔ جب انسان ناک سے سانس لیتا ہے۔ اس کے اندر تین چیمبرز ہیں۔ سانس کی ہوا صاف ہو کر پھیپھڑوں میں جاتی ہے وہاں سے خون میں شامل ہو کر دِل کی طرف ، سارے جسم کو اور خاص کر دماغ کو صاف ستھر ی آکسیجن مہیا ہوتی ہے۔
لہٰذا ناک ،گلہ کے مریضوں کا تعلق ڈینٹل سرجری سے بھی ہے۔ اگر آپ کی ناک کا ایک نتھنا یا دونوں بند ہیں توE.N.Tسرجن سے معائنہ کرا کے علاج کرائیں اور ساتھ ڈینٹل سرجن سے رابطہ رکھیں۔ جن بچوں کی سانس کی نالی میں سوزش ہے وہ بھیE.N.Tکے ماہر سے چیک اَپ کرائیں۔ لہٰذا دانتوں کی سوزش ، ورم گلہ کی خرابی کا موجب ہوسکتی ہے اور ناک کی بندش مسوڑھوں کے امراض اْجاگر کرسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر دانت اورڈاڑھ کی چبانے والی سطحوں میں اْبھار اور (Pits)پٹس رکھے ہیں تاکہ چبانے کا عمل آسان ہو۔ دانت اور ڈاڑھیں (Grinder)گرائینڈر ہیں۔ ایک لقمہ چباتے وقت170پاؤنڈپر سکوائش انچ (170L/Squirh inch)دباؤ ہوتا ہے۔ جس سے چبانے کا عمل ہوتاہے۔ گویا دانت بڑے مضبوط ہیں۔ ان کی حفاظت کی جائے تاکہ کسی دانت کو اکھڑنے کا وقت نہ آئے۔

(1) ووٹ وصول ہوئے