Rabies

رے بیز(Rabies)۔پاگل کتے کا کاٹنا

Rabies
پروفیسر ڈاکٹر لالہ رُخ۔ امریکہ
یہ ایک مہلک بیماری ہے ۔جو انسانوں کو بعض پالتو اور جنگلی جانوروں کے کاٹنے سے ہو جاتی ہے۔رے بیز کا وائرس ان جانوروں کے منہ کے لعاب میں پایا جاتا ہے۔جیسے کتے، بلیاں،گیڈر،پھیڑیا ،چمگادڑ،رکون لومڑی اور کچھ دوسرے دودھ پلانے والے جانور ہیں۔ہر سال دنیا میں 55,000سے زیادہ افراد اس بیماری سے مرتے ہیں۔

ننانوے فی ٓصد لوگوں کو یہ مرض پالتو جانوروں سے ہوتا ہے۔جن کو حفاظتی ٹیکے نہیں لگے ہوتے۔ایک معمولی خراش بھی اس کا باعث بن سکتی ہے۔
ایک دفعہ اس مرض کی علامات ظاہر ہو جائیں تو اکثر72گھنٹوں کے اندر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے ۔اور یہ موت یقینی ہوتی ہے۔ جس جانور کو رے بیز ہو جائے۔وہ عموماً دس دن کے اندر مرجاتا ہے ۔

(جاری ہے)

اس لئے اگر ممکن ہوتو کاٹنے والے جانور کو دس دن تک نگرانی میں رکھا جانے اگر اس دوران وہ مرجائے تو وہ ریبڈ ہو گا۔

اور کاٹے جانے والے فرد کو ویکسین لگانا پڑے گی۔نئی ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ بعض دفعہ جانور کی تھوک میں وائرس ہوتا ہے مگر وہ خود بہت عرصہ تک زندہ رہتے ہیں۔چنانچہ اب اگر کسی کو کوئی جانور کاٹے تو فوراً ویکسین لگا لینی چاہئے۔چاہے جانور میں بیماری کی علامات نہ ہوں۔جانور میں رے بیز کی علامات میں اس کی عادات میں تبدیلی نمایاں ہوتی ہے یا تو وہ خاموش ہو جاتا ہے یا خوراک نہیں کھاتا۔

پانی سے ڈرتا ہے ۔یا غضب ناک ہو کر ہر ایک کوکاٹنے کو دوڑتا ہے ۔اس کی چال ہیں تو ازن نہیں رہتا اور بعض دفعہ اس کے جسم کے بعض حصے مفلوج ہو جاتے ہیں ۔جب بھی کسی جانور پر ری بیز کا شک ہو تو اُسے کسی کم تکلیف دہ طریقے سے موت کی نیند سلادینا چاہئے تاکہ وہ کسی کوکاٹ نہ سکے۔
انسانوں میں علامات:۔جانور کے کاٹنے سے علامات کے ظاہر ہونے تک عموماً 2سے 8ہفتے لگتے ہیں کبھی کبھی یہ دورانیہ دس دن سے 2سال تک بھی ہو سکتا ہے۔

زخم دماغ سے جتنا نزدیک ہو گا۔علامات اُتنی جلدی ظاہر ہونگی زخم بڑا ہویامریض بچہ ہو تو بھی علامات کا ظہور جلدی ہو گا۔جب وائرس دماغ یا حرام مخز تک پہنچ جائے تو بچنا ناممکن ہوتا ہے ۔(آج تک دنیا میں چند ہی افراد اس بیماری سے شفایاب ہو سکے ہیں ۔وہ بھی گزشتہ چند سالوں میں)دماغ تک وائرس کو پہنچنے میں دس سے پچاس دن لگ سکتے ہیں۔
علامات مندرجہ ذیل ہو سکتی ہیں۔


1۔فلو کی قسم کے اثرات ،گلے میں درد
2۔چڑ چڑاپن اورمزاج میں سختی،خصیلاپن۔
3۔زیادہ ہلنا جلنا اور احتجاجی رویہ۔
4۔عجیب خیالات ،اور الجھن۔غیر معمولی جسمانی حرکات
5۔عضلات کی سختی۔سخت تھکن
6۔جسمانی اعضاء کی کمزوری یا فالج
7۔لعاب ۔دین کی زیادتی
8۔قے۔سردرد ،بخار
9۔پانی اور ہوا سے ڈرنا اور دور ہ پڑجانا۔

کچھ نگل نہ سکنا۔
یہ واقعہ1984ء کا ہے۔پشاور پاکستان کے لیڈی ریڈنگ ہاسٹل کے ڈریکل ”اے“یونٹ کے رجسٹرار اور ٹی ایم اور ڈاکٹر عبداللہ شاہ صاحب تھے۔ان کو اپنے ایف سی پی ایس امتحان کے لئے ایک ریسرچ پرچہ لکھنا تھا۔انہوں نے اپنے پروفیسر ڈاکٹر الف خان کے مشورہ سے فیصلہ کیا کہ وہ رے بیز کے مریضوں پر ریسرچ کریں گے۔چنانچہ انہوں نے اُن مریضوں پر کام کرنا اور مواد اکٹھا کرنا شروع کیا۔

جو مریض بھی علامات شروع ہونے کے بعد آتے تھے۔چاہے انہوں نے ویکسین کرائی ہو یا نہ کرائی ہو ۔وہ سب مرجاتے تھے۔تب انہوں نے اخبارات اور محکمہ صحت کی مدد سے صوبہ سرحد (اب کا کے پی)کے تمام اضلاع میں خصوصاً ڈاکٹروں میں یہ اطلاع کرائی کہ جس شخص کو بھی پاگل کتا کاٹے وہ جلد لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی ڈریکل اے یونٹ میں پہنچے۔اس کے علاوہ دوائیوں کی بڑی دوکان میڈیکوزکے مالک ملک اختر سے رابطہ کیا گیا کہ وہ رے بیز کی اسپوڑٹڈ ویکسین بڑی مقدار میں پاس رکھیں۔

تب بڑی تعداد میں مریض آنے لگے۔ اور ان کو باقاعدگی سے فرائض یا سوئٹزرلینڈ کی بنی ہوئی ویکسین کا مکمل کورس لگایا جاتا۔بہت جلد یہ معلوم ہو گیا ۔کہ جو مریض اسپوڑٹڈ ویکسین وقت پر لگالیتے تھے وہ بچ جاتے تھے اور جنہوں نے اسلام آباد کی انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی بنائی ہوئی ویکسین حکومتی ہسپتالوں میں لگوائی تھی ۔اُن میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچا تھا۔

یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ملکی ویکسین میں کوئی خرابی تھی یا اس کو مناسب حرارت پر نہ رکھنے کے باعث وہ بیکار ہو گئی تھی(آج کل ویکسین ہندوستان سے آرہی ہے۔اس کے موثر ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں)۔غریب مریضوں کی مدد یونٹ میں قائم کردہ فنڈ سے کی جاتی تھی۔
ایک اور بنوں سے آٹھ مریض اکھٹے آگئے۔جن میں بچے بھی تھے۔یہ لوگ اپنے گاؤں کی مسجد سے فجر کی نماز کے بعد نکلے ہی تھے کہ سامنے سے ایک بھیڑیا آتا دکھائی دیا۔

اس جانور نے حملہ کرکے ان آٹھ لوگوں کو کاٹ لیا ۔خوش قسمتی سے یہ لوگ وقت پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال آگئے اور ان کو ویکسین لگ گئی۔اور خدا کے فضل سے وہ سب زندہ بچ گئے۔انہوں نے بتایا تھا کہ اس بھیڑیے کو مار کر دفن کر دیا گیا تھا۔ڈاکٹر شاہ صاحب نے اُ ن سے پہلے روز کہدیا تھا کہ اس بھیڑیے کا سر منگوادو۔
چنانچہ جلد ہی اس بات پر عمل ہوا۔ معلوم کرنا تھا کہ وہ بھیڑیا ریبڈر تھا یا نہیں۔

چنانچہ اس کے سر کو بوری میں ڈال کر یونٹ کے چپراسی دلبر کے ہاتھ ایک خط سمیت اسلام آباد کے ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کو بھیجا گیا۔ائک کے مقام پر پولیس نے اسے روکا۔ایک اہل کار نے بوری کی طرف اشارہ کرکے اس سے پوچھا ”اس میں کیا ہے ؟“دلبر نے کہا۔”بھیڑیے کا سر“۔اہل کار نے غصہ سے کہا “ہم سے ذوای کرتے ہو“۔دلبر نے کہا ۔”آپ دیکھ لیں“۔

ایک اہل کار آگے بڑھا۔بوری کا منہ کھول کر اندر جھانکا تو چیخ مار کر پیچھے کو دوڑا۔چنانچہ دلبر اسلام آباد پہنچ گیا۔بعد میں انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق بھیڑیے کا دماغ نیگری بادینر سے بھرا ہوا تھا۔ یعنی کہ اس کو رے بیز کا مرض تھا۔
ایک اور واقعہ بھی قابل ذکر ہے ۔ان دنوں صوبہ کے گورنر فضل حق صاحب تھے۔اُن کی ایک دوست کو رجو چار سدہ کے خان تھے۔

پاگل کتے نے کاٹ لیا تھا۔دوست نے ملکی ویکسین بھی لگوالی تھی۔بعد میں طبیعت خراب ہوئی تو ڈریکل اے یونٹ میں داخل ہو ئے ۔دوسرے ہی روز اُن کا انتقال ہو گیا۔
صاحب گورنر کی طرف سے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر جمیل احمد صاحب کو خط آیا کہ میرا دوست اپنے پیروں پر چل کر ہسپتال آیا تھا اور دوسرے دن فوت ہو گیا۔ اس کی وجہ کیا تھی؟۔جواب یونٹ کے پروفیسر صاحب نے لکھا۔

رے بیز کے بارے میں بتایا اور یہ بھی کہ برطانوی حکومت کے عہد سے ہر بڑے شہرکی میونسیپلیٹی میں ایک شخص آوارہ کتے مارنے پر مقرر تھا اور اسے قیمہ اور سٹرکینین(Strychnine) ایک تیریلی دوا کے لئے رقم دی جاتی تھی۔قیمہ اور زہر کو ملا کر کتوں کو ڈالا جاتا تھا۔جس سے ان کی موت واقع ہو جاتی تھی۔آج کل وہ رقم لوگ اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں اور کتے مار افسروں کے گھر میں خدمت کرتے ہیں ۔

گورنر صاحب نے اس سلسلے میں احکامات جاری کئے اور پشاور کے گلی کو چوں میں آوارہ کتوں کی لاشیں نظر آنے لگیں۔چند ہفتے تک یہ سلسلہ جاری رہا پھر حسب معمول حالات پہلی والی ڈگرپر آگئے۔
احتیاط:۔
رے بیز کے بارے میں ضروری معلومات تمام لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کریں ۔کیا معلوم آپ کی اس کوشش کی وجہ سے کسی کی جان بچ جائے۔
اپنے علاقے سے آوارہ کتے بلیوں کا خاتمہ کریں۔

اپنے پالتو جانوروں کے گلے میں پٹہ ڈالیں۔انہیں اپنے گھر کے اندر نہیں بلکہ باہر رکھیں۔اگر گھر سے باہر ساتھ لے جانا ہو تو گلے میں رسی ڈالیں اور اپنے قابو میں رکھیں۔
اپنے پالتو جانوروں کو موثر ویکسین لگوائیں کسی محتبر ملک کی بنائی ہوئی ۔اگر آپ کی ملازمت ایسی ہو کہ جانوروں کیساتھ تھی کام کرنا ہوتو خود کو بھی ویکسین لگوائیں۔
مخلوط نسل کے کتے (جیسے کتے اور بھیڑیے کے ملاپ سے پیدا شدہ)کے لئے ویکسین پر ابھی زیادہ کام نہیں ہوا۔

اس لئے اُن کو مت پالیں۔خونخوار قسم کے کتے اکثر اپنے مالک کو بھی کاٹ لیتے ہیں۔
مردہ جانوروں کو چھونے سے بچیں۔مردہ پرندوں کے چھونے سے بھی رے بیز کے واقعات ہو ئے ہیں۔
اگر کوئی مشکوک جانور کاٹ لے تو فوراً زخم کو صابن اور پانی سے اچھی طرح اور چند بار دھوئیں اس کے بعد فوراً ویکسین لگوائیں۔اگر چہ زخم ایک زخم ایک خراش کی صورت میں ہی ہو۔

وائرس جانور کی تھوک میں ہوتا ہے ۔اس لئے اس کے چاٹنے سے بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔
ویکسین جتنی جلدی لگائی جائے اتنا زیادہ فائدہ ہو گا لیکن اگر چند دن دیر بھی ہو جائے تو بھی لگوالیں۔
ریبڈ جانور کو بند رکھیں۔اگر دس دن کے اندر مر جائے تو یقینی طور پر ریبڈ تھا۔اگر بچ جائے تو بھی خطرہ ختم نہیں ہوا کیونکہ نئی ریسرچ کے مطابق بعض ریبڈ جانور دیر تک زندہ رہ سکتے ہیں اس لئے ہر کاٹنے والے جانور کو ریبڈ ،سجیس اگر اسے موثر ویکسین نہیں لگی ہوئی۔


ویکسین:۔ ملکی اور ہندوستانی ویکسین کی افادیت کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔اس لئے فرانس یا سوئٹزر لینڈ کی بنی ہوئی ویکسین ہی استعمال کریں۔جو کہ صحیح درجہ حرارت میں رکھی گئی ہو ۔
بڑوں اور بچوں کے لئے مقدار یکساں ہے۔بڑوں کو انجکشن بازو کے اوپر ی حصے ڈیلٹو ئڈنسل میں لگاتے ہیں اور بچوں کو ران کے سامنے اور بیر دنی حصے میں۔


عموماً چار انجکشن لگتے ہیں۔پہلے دن پھر ساتویں ۔اکیسویں اور اٹھائیسویں دن پہلے دن امیو نو گلوبولین کا انجکشن بھی لگنا چاہئے۔جو زخم کے قریب آس پاس لگتا ہے اگر اس سے کچھ بچ جائے۔تو وہ بھی مسل (muscle)میں لگا دیں۔
آخر میں میری تمام پاکستانیوں سے درخواست ہے۔کہ رے بیز کے بارے میں علم زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا دیں۔اور حکومت ۔محکمہ صحت ۔انتظامیہ اور میڈیا سب ملکر کوشش کریں کہ آج کے بعد رے بیز سے کوئی انسانی جان ضائع نہ ہو اور یہ بیماری ہمارے ملک سے ختم ہو جائے۔

ڈاکٹر لالہ رُخ خیبر میڈیکل کالج اور حیات شہید ٹیچنگ ہسپتال کی سابقہ ہیڈ آف گائناکولوجی اینڈ آبسٹیٹریکس ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2019-07-23

Your Thoughts and Comments