بند کریں
صحت مضامینمضامینشیزو فرینیا

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
شیزو فرینیا
وجوہات علامات اور علاج
ڈاکٹر حبیب اللہ کاکڑ :
شیزوفرینیا ایک تکلیف وہ ذہنی بیماری ہے جس کے بارے میں مختلف کہانیاں مشہور ہیں جیسے تقسیم شدہ یا منتشر شخصیت ۔ عام لوگ اکثر ایسے مریضوں کو آسیب زدہ یاجادو کے زیراثر سمجھتے ہیں اور اسی وجہ سے لوگ ایسے مریضوں سے خوفزدہ اور منحرف ہوجاتے ہیں ۔ شیزوفرینیا دراصل ایسی نفساتی دماغی بیماری ہے جس علاج دواؤں سے ہوسکتا ہے اور ایک تہائی مریض پہلے حملے کے بعد بالکل ٹھیک ہوجاتے ہیں اور مریض مستقل دواؤں کے باوجود (Relapse) کر جاتے ہیں ۔
شیزوفرینیا ذیابیطس کی طرح ایک کیمیائی بیماری ہے اور سائنسی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچھ دماغی کیمیائی اجزااس بیماری میں اثر انداز ہوجاتے ہیں ۔ آج کل شیزوفرینیا ایک لاعلاج اور خطرناک بیماری نہیں سمجھی جاتی سائنسی تحقیق سے شیزوفرینیا کی کئی شکلیں ظاہرہوئی ہیں یعنی معمولی سے شدید نوعیت کی شکلیں ۔ اب شیزوفرینیا کے مریض کے لئے ضروری نہیں کہ تمام عمر ہسپتالوں میں رکھا جائے بلکہ اس کے برعکس مریض علاج کے دوران اس کے مکمل ہونے کے بعد اپنے گھر میں مفید ، موثر اور صحت مند زندگی گزارسکتے ہیں ۔
شیزوفرینیا کیا ہے :
فشارخون اور ذیابیطس کی طرح ایک دماغی مرض ہے جو مختلف علامات رکھتا ہے ۔ یہ بیماری زیادہ تر 17 سے 25سال کی عمر کے درمیانی حصے میں لاحق ہوتی ہے۔ اکثر اس کے اثرات ابتدائی زندگی میں بھی نظر آتے ہیں جو کہ وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ واضح ہوجاتے ہیں۔ ایسے مریض کو اپنی سوچ جذبات اور احساسات کے اظہار پر قابو نہیں رہتا ۔ مریض اپنے دوست احباب اور عزیز واقارب سے ملنے میں وقت محسوس کرتا ہے۔
شیزوفرینیا کی وجوہات :
جنیٹک، شیزوفرینیا کی بیماری کئی خاندانوں میں پائی جاتی ہے ۔ یعنی یہ خاندانی بیماری ہوسکتی ہے ۔ ضروری نہیں کہ نسل میں یہ بیماری ہوکبھی ایک دو نسل کے بعد بھی ہوجاتی ہے ۔
بائیو کیمیکل ، یہ دماغ کی کیمیائی اجزاء میں اتارچڑھاؤ کی وجہ سے ہوسکتی ہے ۔ وہ کیمیائی اجزاء جو جذبات اور دماغی سوچ پر اثراانداز ہوتے ہیں ۔ وہ اس بیماری میں ایک اہم کردارادا کرتے ہیں۔
فیملی پس منظر ۔ خاندان کے ماحول والدین اور عزیز واقارب کے رویہ خاص طور پر تنقید اور بے جا روک ٹوک اور کنٹرول سے بھی شخصیت پر منفی اثر مرتب ہوسکتا ہے ۔
سٹریس فل لائیوایونٹس کی پریشانیاں اور تکلیف وہ حادثات جیسے شوہر یاوالدین کا انتقال ، نوکری بدلنا یابے روزگاری اور کئی بار غربت بھی اس بیماری کواجاگرکرسکتی ہیں ۔
شیزوفرینیا کی علامات :
ہالوکیشن، یعنی مریض کوان دیکھی تصوراتی چیزیں اور آوازیں سنائی اور دکھائی دیتی ہیں اور وہ انہیں حقیقت سمجھ کر اس کے مطابق کام کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
مریض کے ذہن میں غلط اور بے بنیاد خیالات آنے لگتے ہیں جیسے کچھ لوگ میرا پیچھا کررہے یا مجھے مارنے کے درپے ہیں ۔ مریض ان خیالات کے صحیح ہونے پر اصرار کرتے ہیں ۔
خیالات پڑھنا، مریض سمجھتا ہے کہ اس کے دماغ سے کوئی اور شخص خیالات پڑھ لیتا ہے یاجان لیت ہے یااسکے خیالات کوکنٹرول کرتا ہے ۔
مریض کے مزاج میں زبردست تبدیلی رونما ہوتی ہے، بے معنی اور لغوباتیں کرنا قہقہے لگانا، بے بط قصے سانا، ایک ہی بات کو باربار دہرانا اور کبھی بالکل خاموش ہوجانا، مریضوں میں دیکھاجاتا ہے ۔
مریضوں کی گفتگو بے ربط ہوجاتی ہے۔ یعنی گفتگوکا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک موضوع سے دوسرے موضوع پر بغیر کسی وجہ سے چلے جاتے ہیں ۔
روزمرہ کے کام کاج میں مریض کو خاصی مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ اس کارویہ، بول چال وغیرہ مختلف ہوجاتی ہے ۔
مریض کو صحیح یاغلط کی تمیز نہیں رہتی ، اسے اپنا ہر کام صحیح لگتا ہے ۔
مریض کے سماجی تعلقات بری طرح متاثر ہوتے ہیں عزیز واقارب سے علیحدگی ، جذباتی لاتعلقی ، جارحانہ رویہ توڑ پھوڑ اور غیر فطری جنسی حرکات اسے باقی لوگوں میں غیر مقبول بنادیتی ہیں ۔
جسمانی بے چینی ، بے معنی خاموش الٹی سیدھی شکلیں بنانا، بلاجوازنامناسب جگہوں پر اٹھنابیٹھنا کپڑے اتاردینا، موسم کی ضرورت کے برعکس کپڑے پہنناکوڑا کرکٹ جمع کرنا وغیرہ جیسی حرکات وسکنات شیزوفرینیا کے مریضوں سے اکثر سرزدہوتی ہیں۔
شیزوفرینیا کا علاج :
مریض اور انکے رشتہ داروں کو ایک نکتہ اس کے علاج کے بارے میں سمجھنا بہت ضروری ہے شیزوفرینیا کا پوری دنیا میں فوری علاج (Instat Cure)موجود نہیں ہے مگر دواؤں کے ذریعے اس مرض پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

(1) ووٹ وصول ہوئے