بند کریں
صحت مضامینمضامینسینے کی جلن

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سینے کی جلن
کلیجے کی جلن عام شکایت ہے۔ یہ معدے کے بالائی منھ سے شروع ہوکر کھانے کی نالی میں اوپر کی طرف بڑھتی ہے اور دل کے مقام سے قربت اور دل کی تکلیف سے مشابہت کے باعث اسے دل کی جلن بھی کہتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر سید اسلم:
کلیجے کی جلن عام شکایت ہے۔ یہ معدے کے بالائی منھ سے شروع ہوکر کھانے کی نالی میں اوپر کی طرف بڑھتی ہے اور دل کے مقام سے قربت اور دل کی تکلیف سے مشابہت کے باعث اسے دل کی جلن بھی کہتے ہیں۔
اس تکلیف میں مبتلا لوگ عموماََ فربہ اندام ہوتے ہیں، خصوصاََ وہ ولوگ جن کے پیٹ بڑے ہوں۔ کھانے کے بعد بڑے پیٹ کے دباؤ کی وجہ سے معدے کی غذا اور تیزاب کارخ سینے کی طرف کھانے کی نالی میں ہوتا ہے۔یہ مرض زمانہ حمل میں عام ہے۔ حمل میں پیٹ بڑھ جانے سے معدے سے غذا اور تیزاب اُوپر سینے کی طرف رخ کرتے ہیں۔یہ جلن 70فیصد خواتین کو حمل کے پانچویں مہینے میں شروع ہوتی ہے اور وضع حمل تک رہتی ہے۔
تکلیف کھاناکھانے کے بعد ہوتی ہے، خصوصاََ اگر کھانے کے بعد چت لیٹا جائے تو اس کاامکان بڑھ جاتا ہے، اگر سرہانہ نیچے ہوتو تکلیف زیادہ ہوجاتی ہے اور اٹھ کربیٹھنے سے تکلیف میں کمی ہوجاتی ہے۔ رکوع وسجود میں جانے یا جھک کر وان اٹھانے سے بھی تیزاب آمیز غذا اُوپر کھانے کی نالی کی طرف رخ کرتی ہے۔
جن لوگوں کو قرح معدہ (السر) ہوتا ہے، انھیں بھی جلن ہوسکتی ہے۔ اس میں کمی دودھ یامانع تیزابیت ادویہ سے ہوجاتی ہے۔ بعض غذائیں، مثلاََ گرم مسالے ، چٹ پٹی، تلی ہوئی اشیاء تیزمرچوں والے سالن، زیادہ لہسن پیاز، پودینے کاست اور روغنی غذائیں بھی سینے میں جلن کا باعث ہوتی ہیں۔ بعض لوگوں میں چائے، کافی،شوربا، ٹماٹر اور نارنگی کارس بھی جلن کا باعث بن جاتا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ان اشیا سے معدے کے اس مقام پر مزید خراش پڑتی ہے، جو پہلے ہی مجروح اور پرآشوب ہے۔
کھانے کی غلط عادتیں بھی سینے میں جلن پیدا کرتی ہیں، مثلاََ عجلت سے کھانا اور ایک وقت میں زیادہ کھا جانا، ڈکاریں لینا اور ڈکارلے کر یہ سمجھنا کہ اس طرح پیٹ کی ہوا خارج ہورہی ہے حالانکہ اس طرح پیٹ میں مزید ہوا بھرجاتی ہے، گویہ بات ڈکاریں لینے والا نہیں سمجھتا ۔
تمباکو سے بھی جلن ہوتی ہے، اس لیے کہ معدے کا بالائی منھ تمباکو کے اثر سے ڈھیلا پڑجاتا ہے اور معدے کا تیزاب اُوپر کی طرف جاتا ہے۔ سینے کی جلن غم وغصے، فکر، خوف، پریشانی اور نفرت سے بھی ہوتی ہے۔ ذہنی پریشانیوں سے بھی تیزاب کی تولید بڑھ جاتی ہے اور معدے کا بالائی منھ کھل کرمعدے کے تیزاب کو اُوپر اسی کھانے کی نالی، سینے میں واقع ہے، جانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
سینے کی جلن کے ازالے کے لیے فربہی کم کی جائے۔چہل قدمی شعار بنائی جائے۔ گیس پیداکرنے والے مشروبات (جیسے کولا مشروبات) ترک کردیے جائیں۔تمباکوسے مکمل پرہیز کیاجائے۔ ایسے بیماروں کو جھکنے اور وزن اٹھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ رکوع وسجود کے وقت خیال رکھاجائے، اگر ان حالات میں سینے کی جلن ہوتی ہے تو رکوع وسجود اشارے سے ادا کیے جائیں۔
بیٹھتے وقت خیال رکھا جایئے کہ پیٹ دبے نہیں۔ پیٹ بھر کرکھانے کے بجائے تھوڑا تھوڑا ، مختلف اوقات میں کھایاجائے۔ کھانے کے فوراََ چت لیٹنا مناسب نہیں۔ جن لوگوں کے پیٹ بڑے ہیں، انھیں چاہیے کہ وزن گھٹا کر پیٹ کم کریں۔ فوری افاقے کے لیے سرہانے دوتین تکبے رکھیں۔ یہی احتیاط حاملہ خواتین کوبھی کرنی چاہیے۔ اس طرح سینے میں جلن کا امکان گھٹ جائے گا۔
غذا سادہ ہونی چاہیے۔ مرچوں سے پرہیز ضروری ہے۔ گوشت مناسب مقدار میں کھائیں م اس میں چربی اور چکنائی کم سے کم ہو۔ ذہنی پریشانیوں کا کوئی قابل عمل حل نکالا جائے۔ کلیجے کی جلن ہوتو مانع تیزابیت سفید دودھیا ادویہ (میگنیشم اور المونیم سلفیٹ) کھائی جائیں۔یہ عارضی طور پر افاقہ کرتی ہیں۔ یہ سفیدہ معدے کی خراش پر لیپ کردیتا ہے اور تیزابیت گھٹا دیتا ہے۔

(1) ووٹ وصول ہوئے