Sehat Bakash Tarz E Zindagi - Article No. 745

صحت بخش طرزِ زندگی - تحریر نمبر 745

ہفتہ 25 جولائی 2015

Sehat Bakash Tarz E Zindagi - Article No. 745
نسرین شاہین:
صحت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بہت بڑی نعمت ہے۔ ہمیں اس نعمت کی حفاظت کرنی چاہیے۔صحت مندی کا تعلق متوازن غذا سے ہے۔ بعض افراد غذا تو متوازن کھاتے ہیں مگر ان کے کھانے پینے کے انداز ایسے ہوے ہیں کہ جن کی وجہ سے ان کو متوازن غذا سے بھی وہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا جو ہونا چاہیے۔ ایسے افراد کے وزن میں اضافہ ہونے لگتا ہے متوازن غذا سے ہونے والے فائدوں کے حصول میں ان کا غیر متوازن طرزِ زندگی حائل ہو جاتا ہے۔


بہترین طرزِ زندگی کے لیے کھانے کی اچھی عادتیں اپنائی جائیں اور بُری عادتوں سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ بعض اوقات تو ہمیں پتا بھی نہیں چلتا کہ ہم جو اَلّم غلّم کھا رہے ہیں وہ ہماری صحت کیلئے کس قدر نقصان دہ ہے۔ ہماری صحت بازار کے غیر متوازن کھانوں اور کولا مشروبات پینے سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

ذیل میں ہم کھانے پینے کی ایسی ہی بُری عادتوں کے بارے میں بتا رہے ہیں جن سے چھٹکارا حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔


ذرا غور کر لیجئے کہ کہیں آپ بھی بُری ایسی عادتوں میں مبتلا تو نہیں؟ اگر آپ میں ایسی کوئی بُری عادت موجود ہے تو یہی موزوں وقت ہے آپ فیصلہ کر لیجیے کہ اب اس سے ہمیشہ کیلئے جان چھڑا لیں گے اور صحت بخش طرز زندگی اپنالیں گے۔
جلدی جلدی کھانے کی عادت بھی بُری عادتوں میں شامل ہے۔ اس کے نجات حاصل کرلینی چاہیے۔ عجلت میں کھانے کی عادت کی وجہ سے ہم غذا کو چبائے بغیر ہی معدے میں منتقل کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے معدے پر کام کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔

اس کے علاوہ جلد بازی میں کھانے کی وجہ سے ہم معدے میں ضرورت سے زیادہ غذا بھر لیتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا پیٹ پُھول جاتا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے پیٹ کے بھرنے کی خبر دماغ کو چند منٹ کے بعد ہوتی ہے۔ یعنی چند منٹ کے بعد دماغ کو اشارہ ملتا ہے کہ پیٹ بھر گیا ہے اور تب ہمیں پیٹ پھُولنے کا احساس ہوتا ہے لیکن اس وقت تک ہم عجلت میں کھانا حلق تک بھر چکے ہوتے ہیں۔

ہرنوالہ خوب چبا چبا کر کھانا چاہیے تاکہ معدے پر بوجھ نہ پڑے اورکھانا آسانی سے ہضم ہو سکے۔
چلتے پھرتے یا گاڑی چلاتے وقت کھانے کی عادت بھی اچھی نہیں ہے۔ اگر آپ صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اس بُری عادت کو فوراََ ترک کردیں۔ چلتے پھرتے گاڑی چلاتے یا کام کرتے وقت کھانے پینے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ یہ غیر صحت مندانہ طرزِ عمل ہے۔

دیگر مصروفیات پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ آپ اپنی غذا کا بھی خیال رکھیں اور کھانے کا جو وقت مقرر ہے اسی وقت کھانا کھائیں۔ اس کے علاوہ ٹی وی دیکھتے ہوئے یا کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر کھانا کھانا نقصان دہ ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اس وقت ہماری توجہ کھانے پر نہیں بلکہ ٹی وی یا کمپیوٹر پر زیادہ ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ہم ضرورت سے زیادہ کھانا کھالیتے ہیں جو صحت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے۔


اپنے مزاج کو کھانے پینے پر قطعی اثر انداز نہ ہونے دیں۔ جب انسان دباوٴ اور مایوسی کا شکار ہوتا ہے تو فطری طور پر اس کی رغبت کھانے کی طرف ہو جاتی ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کھانے میں مصروف ہو جاتا ہے اور زیادہ کھا لیتا ہے جس سے صحت پر بُرے اثرات پڑتے ہیں ۔ اس کا بہترین حل یہ ہو سکتا ہے کہ جب کبھی آپ دباوٴ یا مایوسی کا شکار ہوں تو چہل قدمی کریں۔

ورزش کریں قرب وجوار میں رہنے والے کسی دوست یا رشتے دارسے ملاقات کرنے چلے جائیں یا پھر ٹی وی پر اپنا کوئی پسندیدہ پروگرام دیکھ لیں۔ اس طرح کے کاموں سے بہ صرف آپ کی توجہ بٹ جائے گی بلکہ جسم کی ورزش بھی ہو جائے گی۔
عموماََ میٹھی اشیا کھانے کے بعد کھائی جاتی ہیں۔ میٹھی اشیا کھانے سے حرارے (کیلوریز) بڑھ جاتے ہیں۔ اور ہمارے جسم کو توانائی ملتی ہے تاہم میٹھی اشیا اعتدال سے کھانی چاہییں۔


رات کو سونے سے قبل کھانا بھی بُری عادت ہے۔ سونے سے پہلے کھانا ہرگز نہ کھائیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہماری نیند کا دورانیہ مختصر ہو جاتا ہے اور ہم جتنی دیر بھی نیند لیتے ہیں وہ بھرپور اور مکمل نہیں ہوتی۔ رات میں دیر سے کھانے کی وجہ سے ہمارے معدے کو کھانا ہضم کرنے کے لئے مناسب وقت نہیں ملتا جس کے باعث ہمارا ہاضمہ خراب ہوجاتا ہے۔

کھان ہمیشہ سونے سے کم وبیش دو گھنٹے قبل کھانا چاہیے کیوں کہ جب ہم سو رہے ہوتے ہیں تو ہمارا معدہ اور جسم کے دیگر اعضا بھی آرام کر رہے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے حرارے اتنے زیادہ نہیں جلتے جاگتے وقت چلنے پھرنے اور کام کاج میں جلتے ہیں۔
صحت سے بھر پور زندگی کے لئے ضروری ہے کہ آپ کی غذا متوازن ہو اور آپ اسے وقت پر اور خوب چباکر کھائیں۔ چبا کر کھانے سے تھوڑا کھانا کھا کر بھی پیٹ بھر جاتا ہے۔ صرف اُس وقت کھائیں جب آپ کی واقعی بھوک لگ رہی ہو۔ عادت بنالیں کہ کھانے سے تقریباََ ایک گھنٹے پہلے یا بعد میں پانی پینا ہے کھانے کے درمیان نہیں پینا ہے یہ وہ مفید اصول ہیں جنھیں اپنا کر آپ صحت سے بھر پور زندگی گزار سکتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2015-07-25

Your Thoughts and Comments