بند کریں
صحت مضامینمضامیندانت

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دانت
ٹھوس مضبوط اور صاف ستھرے دانت ہی غذا کو آسانی سے چباکر اور باریک پیس کر معدے کو دے سکتے ہیں
دانت
صرف خوبصورتی ہی کے لیے نہیں ،بلکہ تندرستی کے لیے بھی دانتوں کا صاف ستھرا اور مضبوط ہونا ضروری ہے۔ٹھوس مضبوط اور صاف ستھرے دانت ہی غذا کو آسانی سے چباکر اور باریک پیس کر معدے کو دے سکتے ہیں۔اگر دانت کمزور ہوں گے تو یہ عمل کامیابی کے ساتھ نہ ہوسکے گا۔معدے کو ہضم کرنے کے لیے ایسی غذا ملے گی جو ٹھیک طرح چبائی ہوئی نہ ہوگی،ایسی حالت میں معدے پر زیادہ بوجھ پڑے گا اور اس سے کچھ عرصہ بعد معدہ ٹھیک طرح کام نہ کرسکے گا۔اس سلسلے میں دانتوں کی صفائی کے لیے تین باتیں نہایت ضروری ہیں:
۱۔کلی کرنا
۲۔مسواک کرنا
۳۔ برش کرنا
کلی کرنا:دانتوں کو صاف نہ رکھنے سے دانتوں میں کیڑا لگ جاتا ہے،دانت خراب ہوجاتے ہیں۔درد کرنے لگتے ہیں ان سے خون بہنے لگتا ہے۔پائیوریا اور ماسخوراجیسی بیماریاں لگ جاتی ہیں۔دانت قبل از وقت گرجاتے ہیں۔لہذا جہاں تک ممکن ہو دانتوں کو صاف کرنا نہایت ضروری ہے۔کئی لوگ صرف منہ دھولیتے ہیں۔کلی نہیں کرتے۔اس طرح غذا کے ریزے دانتوں میں پھنسے رہ جاتے ہیں۔جو سڑ کر ایک قسم کا تیزابی مادہ پیدا کرتے ہیں،جس سے دانت بھی سڑنے لگتے ہیں،منہ سے بدبو آنے لگتی ہے،لہذا دوپہر اور شام کے کھانے کے بعد دس پندرہ کلیاں ضرور کرنی چاہیں۔
مسواک: جہاں تک دانتوں کی صفائی کا تعلق ہے صرف کلی کرنے سے دانتوں کی صفائی نہیں ہوجاتی،اس کے لیے مسواک،برش یا منجن کرنا ضروری ہے،آج کل مسواک یا داتن چھوڑ کر لوگ ٹوتھ برش زیادہ استعمال کرنے لگے ہیں۔مگر صفائی کے نقطہ نظر سے برش کی نسبت مسواک یا داتن کہیں زیادہ مفید ہے۔ مسواک یا داتن کئی طرح کی ہوتی ہے۔مثلاً نیم،کیکر،پھلائی،پیپل وغیرہ کی داتن لیکن کیکر کی داتن ان سب سے اچھی ہوتی ہے۔داتن تازہ اور بڑی ہونی چاہیے۔مسواک کرنے سے دانتوں کی ایک طرح کی ورزش ہوتی ہے۔دانت مضبوط ہوتے ہیں،ان کا گندا پانی اور غلیظ رطوبتیں خارج ہوجاتی ہیں۔ایک دن کی استعمال شدہ مسواک دوسرے دن استعمال میں نہ لانی چاہیے۔
مسواک کرنے کا طریقہ: مسواک دائیں ہاتھ میں لے کر اس کا ایک سرا،جدھر سے وہ قدرے موٹا ہوتا ہے۔دانتوں تلے دبائیں اور اسے آہستہ آہستہ دونوں طرف کی داڑھوں کے نیچے گھاتے ہوئے کچلیں۔خیال رہے کہ جوں جوں اسے داڑھوں کے نیچے دبا کر کچلا جائے گا،دانتوں اور داڑھوں سے یک طرح کا گندا مادہ رسنے لگے گا۔منہ ڈھیلا چھوڑ دیں کہ وہ مادہ اچھی طرح خارج ہوجائے،لیکن حلق سے پیٹ میں نہ جانے پائے کہ یہ معدے کو خراب کرے گا۔یہ مادہ رات بھر دانتوں اور مسوڑوں میں جمع ہوتا رہتا ہے،دانتوں تلے مسواک کو کچلتے ہوئے اسے پانی سے دھو تے جائیں۔جب مسواک اچھی طرح کچلی جائے تو اسے کوچی کی طرح دانتوں اور داڑھوں پر چلائیں،لیکن احتیاط کے ساتھ اس کی رگڑ سے مسوڑھے مجروح نہ ہوں داتن کرنے کے بعد منہ کو پانی سے اندر سے صاف کرلینا چاہیے۔
ٹوتھ برش اور ٹوتھ پیسٹ: آج کل لوگوں میں داتن کے بجائے ٹوتھ برش ٹوتھ پیسٹ اورمنجن کا رواج بڑھ گیا ہے۔ دانتوں کی بقا اور صحت کے لیے ٹوتھ برش،ٹوتھ پیسٹ یا منجن کا استعمال بھی بہت مفید ہے،ٹوتھ برش کے ریشے مسوڑھوں اور دانتوں کی ریخوں میں جمی ہوئی کثافت کو دور کرکے انھیں کیڑوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔خاص طور پر رات کے کھانے کے بعد برش کر لینا اچھا ہے،ٹوتھ برش کے چند فائدے ذیل ملاحظہ کیجیے:
۱۔ٹھوتھ برش کرنے سے مسوڑھوں کو کوئی مرض نہیں لگتا۔۲۔یہ مسوڑھوں کو صحت مند رکھتا ہے اور ان کی کیفیت میں اچھا اضافہ کرتا ہے۔۳۔منہ میں چکناہٹ یا جر ثومی مواد کو اکٹھا نہیں ہونے دیتا،۴۔دانتوں کو کیڑا لگنے سے محفوظ رکھتا ہے۔۵۔دانتوں کو برش کرنے سے ذہنی سکون اور طبیعت پر اچھا اثر ہوتا ہے۔۶۔برش کرنے سے مسوڑھوں کی ورزش ہوتی ہے۔ان میں خون دورہ کرتا ہے ۔منہ کے امراض کو روکتا ہے۔اس سے منہ میں بدبو پیدا نہیں ہوتی۔۷۔داتن،منجن یا مسواک کی طرح اس سے بھی دانت چمکدار ہوتے ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے