Typhoid Bukhar

ٹائیفائیڈ بخار

Typhoid Bukhar

ڈاکٹر محمد عرفان چودھری:
ٹائیفائیڈ بخار سالمونیلا ٹائفی کی وجہ سے ہونے والی ایک بیکٹیریل بیماری ہے۔ ٹائیفائیڈ بخار کچھ ترقی یافتہ ممالک میں ایک اہم خطرہ ہے۔ عالمی سطح پر سالانہ ٹائیفائیڈ بخار کے 21 ملین اور اموات کے 2 لاکھ 20 ہزار کیس رپورٹ ہوتے ہیں۔ ایک صحت مند اور تندرست انسان ہی اپنے تمام کام بخوبی سرانجام دے سکتا ہے۔

بیماری کسی بھی حالت میں ہو یہ انسان کو بے چین کر دیتی ہے اور اس کے معمول کے کام رک جاتے ہیں۔ مریض کے علاوہ تمام گھر والے بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ موسمی بخار کا ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں۔ انسان جلد ہی ٹھیک بھی ہو جاتا ہے لیکن ٹائیفائیڈ بخار ایک مہلک مرض ہے اور یہ ایک چھوت کی بیماری ہے۔ ٹائیفائیڈ ایک جراثیم سالمونیلا ٹائفی (Salmonella Typhi) کی وجہ سے ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

جس شخص کو ٹائیفائیڈ بخار ہو جائے اس کے جسم کا درجہ حرارت 103 سے 104 ڈگری فارن ہائیٹ تک ہو جاتا ہے۔ اس بیماری کا زیادہ تر حملہ بارش، گرمی اور خزاں کے موسم میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ گندہ پانی بھی ٹائیفائیڈ کا سبب بنتا ہے۔ جراثیم ٹائیفائیڈ کے مریض سے دوسرے صحت مند انسان میں بھی منتقل ہو جاتے ہیں اور وہ بھی اس بخار کا شکار ہو سکتا ہے۔ بازار میں پڑی کھلی یا خراب اشیاءکے کھانے سے بھی اس بیماری میں مبتلا ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔

سر درد‘ بھوک کا نہ لگنا‘ جسم میں درد ہونا‘ جلد پر سرخ دھبے نمودار ہونا‘ متلی‘ قبض یا اسہال‘ بھوک میں کمی اور جسم پر گلابی رنگ کے سرخ دانے شامل ہیں۔ ٹائیفائیڈ بخار کی علامات دیگر معدے کی عام بیماریوں سے ملتی جلتی ہیں۔ پیچش، پسینہ آنا، نیند کا نہ آنا، خشک کھانسی، پیٹ درد، قبض، زبان کا میلا اور سفید ہو جانا‘ متلی اور کمزوری اس کی اہم علامات ہیں۔

عام موسمی بخار سے انسان دو سے چار دن میں تندرست ہو جاتا ہے لیکن اگر بخار طوالت پکڑ لے تو فوری طور پر ٹیسٹ کروانے چاہئیں تاکہ بروقت تشخیص ہو سکے اور اس کا علاج ممکن ہو۔ خدانخواستہ اگر دیر ہو جائے تو مریض کی جان جانے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ یہ موذی مرض کئی ہفتوں اور مہینوں تک رہ سکتا ہے۔ اگر مریض تندرست بھی ہو جائے تو پھر بھی اس کے جراثیم اس میں موجود رہتے ہیں اس لئے ایسے مریض جن کو ٹائیفائیڈ کا حملہ ہو چکا ہو ان کو ٹھوس غذا کھانے سے پرہیز کرنا چاہئے۔

ہمیشہ تازہ اور صاف ستھری غذا کا استعمال کرنا چاہئے۔ باہر کے کھلے پکوان اور آلودہ مشروبات کا استعمال نہ کریں ۔ پانی ہمیشہ ابال کر پیئیں۔ سبزیاں اور پھل ہمیشہ اچھی طرح دھو کر استعمال کریں۔ مریض کو آرام دہ اور پرسکون کمرے میں رکھا جائے۔ اگر کسی ہوٹل کے کچن میں ٹائیفائیڈ کا جراثیم پایا جاتا ہو تو پھر اس ہوٹل میں کھانے کے لئے آنے والے تمام افراد ٹائیفائیڈ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

آلودہ خوراک اور پانی کے ذریعہ ٹائیفائیڈ کا بخار ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے۔ ترسیل آنتوں کی زبانی روٹ کے ذریعے ہوتی ہے یعنی آلودہ فضلات پانی کی فراہمی یا غذا کی فراہمی میں داخل ہو سکتے ہیں‘ اس کے بعد ان کا استعمال ہو سکتا ہے اور اس سے دوسرے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایس ٹائفی صرف انسانوں میں موجود ہوتی ہے۔ ٹائیفائیڈ بخار عام طور پر گنجان آبادی والے علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں پانی کی فراہمی آلودگی کا شکار ہو۔

پانی کی صفائی کے بہتر طریقے‘ مناسب ذخیرہ غذا ٹائیفائیڈ کو پھیلنے سے روک سکتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق صحت‘ تعلیم‘ پانی کی صفائی اور معیار بیماری کی روک تھام کے لئے دیگر کوششوں کے ساتھ‘ ٹائیفائیڈ بخار کی ویکسینیشن کے پروگراموں کو لاگو کیا جانا چاہئے۔ ٹائیفائیڈ بخار خاص طور پر بچوں میں صحت کا ایک اہم عوامی مسئلہ ہے۔

تاریخ اشاعت: 2018-05-14

Your Thoughts and Comments