بند کریں
صحت مضامینمضامینذہنی دباؤ سے کیسے نمٹا جائے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ذہنی دباؤ سے کیسے نمٹا جائے
ڈیل کارنیگی:
مغربی ممالک میں ذہنی دباؤ سے متعلق بڑھتی ہوئی تحقیقات اور تشویش نے عوام کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں کو بھی پریشان کردیا ہے اور اب وہ اس نمٹنے کے نئے اور مئوثر طریقوں کی تلاش میں ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف نکتہ ہائے نظر سامنے آئے ہیں۔ مثلا بعض ڈاکٹروں کے مطابق متواتر جسمانی ورزش ، چکنائی سے مبرا متوازن غذا کا استعمال سگریٹ ، الکحل اور دیگر کیف اور ہیجان خیز، نشاط اشیاء سے پرہیز ذہنی دباؤ کو کم کرنے یا ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن بعض ڈاکٹروں کے نزدیک صرف یہ اقدامات ہی ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لئے کافی نہیں ہیں۔ بلکہ وہ انسان کی خوداعتمادی کو بنیادی بناتے ہوئے آرام ، مراقبہ اور غور وفکر کو ذہنی دباؤ سے نجات کا راستہ بتاتے ہیں ان کے نزدیک مریضوں کا اپنے اوپر یقین اور بھروسہ، بڑھتے ہوئے بلڈ پریشر ، خون میں شکر کی مقدار اور جسم کوآکسیجن کی مطلوبہ مقدار دل کی دھڑکن کم کرسکتا ہے۔ لیکن چند ڈاکٹر اسے بھی قابل قبول قرار دیتے اور کہتے ہیں کہ اس قسم کے عمل صرف سطحی طور پر ذہنی دباؤ میں کمی کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا یہ تیسرا گروپ رویئے کی تبدیلی جیسے علاج پر یقین رکھتا ہے۔ یہ علاج انسانی کی ذاتی تشخیص کی صورت میں ہی کامیاب رہتا ہے۔ اس طریقہ میں فرد کو ان عوامل اور صورت خاص کی نشاندہی کرنی پڑتی ہے۔ جن کے تحت جس طرح وہ اپنے ردِعمل کا مظاہرہ کرتا ہے، اسے وہ رویہ بھی تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ مثلا ایک شخص اگر لمبی قطار میں کھڑے ہونے سے گھبراتا ہے اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے ، تو یا تو وہ لمبی قطاروں میں ہی کھڑا ہونا چھوڑدے یا اس رویہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے جس کے تحت وہ اپنے آپ کو مضطرب پاتا ہے اس گھبراہٹ اور اضطراب کا یوں دور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنا ذہن صورت حال کی طرف سے ہٹا لے یا دوسرے لوگوں کے متعلق سوچنے لگے جو آرام سے قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کررہے ہوں یا کوئی اور طریقہ اختیار کرلے۔ اس قسم کی توجہ کی تبدیلی ان افراد کے لئے بہت زیادہ سازگار ثابت ہوئی جو ہمہ وقت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوکر دل کے مریض بن چکے تھے۔ ایسے لوگوں کو ہر معاملے کا مثبت پہلو دیکھایا جاتا تھا اور اسے اختیار کرنے کی ترغیب دی جاتی تھی تاآنکہ انہوں نے اپنا رویہ مکمل طور پر تبدیل نہیں کرلیا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے